سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی پیش گوئیوں میں واقعۂ عاشورا کی جھلک

واقعۂ عاشورا سے برسوں پہلے، رسول اللہ (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) اورامیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے آنسو کربلا کے مقدر کی حکایت بیان کر رہے تھے۔ مولائے متقیان نے علمِ غیب کی بدولت اس سرزمین کی مٹی کو سونگھا تھا اور ان مردانِ خدا کے مقاماتِ شہادت کی نشان دہی فرما دی تھی جو وہاں شہید ہونے والے تھے۔ یہ روایات، امام حسین (علیہ‌السلام) کی شہادت کے واقعے کو امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی نورانی بصیرت اور پیش گوئیوں کے آئینے میں بیان کرتی ہیں۔

تاریخِ اسلام کے تمام عظیم واقعات میں کوئی بھی واقعہ امام حسین (علیہ‌السلام) کی شہادت کی مانند خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) اور امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی پیش گوئیوں کے دھاگوں سے اس طرح جڑا ہوا نہیں ہے۔ مولائے متقیان نے امام حسین (علیہ‌السلام) کی شہادت کی پیش گوئی کے ساتھ ساتھ واقعۂ عاشورا کی بعض باریک تفصیلات جیسے: خیمہ گاہ کی جگہ، قتلگاہ، محلِ تدفین، امام حسین (علیہ‌السلام) کا تنہا رہ جانا اور حتیٰ کہ عاشورا کے بعد کے حوادث کی طرف بھی اشارہ فرمایا تھا۔ یہ پیش گوئیاں محض کسی واقعے کی پیشگی اطلاع نہیں تھیں، بلکہ بیداریِ وجدان اور حق و باطل کے راستے کو واضح کرنے کے لیے ایک الٰہی انتباہ (وارننگ) تھیں۔

کربلا کی غمناک خبر

امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) نے سفرِ صفین کے دوران کربلا کی مٹی کا تذکرہ اور اس واقعے کی پیش گوئی کر کے، امام حسین (علیہ‌السلام) کے مصائب اور الٰہی رسالت کے درمیان گہرے تعلق کو آشکار کیا۔
عبد اللہ بن یحییٰ، جو امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے راویوں اور لشکر کے سپاہیوں میں سے تھے، نقل کرتے ہیں: "ہم امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب (علیہ‌السلام) کے ہمراہ صفین کی طرف جا رہے تھے۔ جب آپ (علیہ‌السلام) نینوا کے متوازی (برابر) مقام پر پہنچے، تو آواز دی: ‘اے عبد اللہ! ذرا آہستہ چلو۔'”
پھر آپ (علیہ‌السلام) نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: "ایک دن میں رسول اللہ (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کی خدمت میں شرفیاب ہوا تو دیکھا کہ آپ (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کی چشمِ مبارک اشکبار تھی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! آپ کی چشمانِ مبارک میں آنسو کیوں ہیں؟ کیا کسی نے آپ کو ناراض کیا ہے؟”
پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) نے فرمایا: "نہیں؛ بلکہ ابھی جبرئیل میرے پاس تھے اور انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ میرا حسین فرات کے کنارے شہید کر دیا جائے گا۔”
پھر جبرئیل نے پوچھا: "کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں آپ کو حسین (علیہ‌السلام) کی مٹی سنگھا دوں؟”
میں نے عرض کیا: "ہاں۔”
چنانچہ انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور حسین (علیہ‌السلام) کی مٹی کی ایک مٹھی لا کر مجھے تھما دی۔ اس وقت میں اپنے آنسو نہ روک سکا۔ اس سرزمین کا نام کربلا ہے۔[۱]

کربلا؛ اہل بہشت کا مقتل

مولائے متقیان نے کربلا کے راستے سے گزرتے ہوئے، اشکبار آنکھوں اور الٰہی بصیرت کے ساتھ، امام حسین (علیہ‌السلام) کے یار و انصار کی شہادت کے انجام کو وقت سے پہلے بیان فرما دیا۔
جویریہ بن مسہر عبدی، مولائے متقیان کے مقرب، قابلِ اعتماد اور چہیتے اصحاب میں سے تھے۔ وہ جنگِ صفین اور نہروان میں امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے شانہ بشانہ شریک رہے، وہ روایت کرتے ہیں: "جب ہم امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی معیت میں صفین کی طرف روانہ ہوئے اور کربلا کی بلندیوں پر پہنچے، تو امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) لشکر کے ایک گوشے میں رک گئے، اپنے ارد گرد نظر دوڑائی اور زار و قطار رونے لگے۔ پھر فرمایا: ‘خدا کی قسم! یہی ان کے پڑاؤ ڈالنے کی جگہ ہے اور یہی ان کی شہادت گاہ ہے۔'”
لوگوں نے پوچھا: "اے امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام)، یہ کون سی جگہ ہے؟”
فرمایا: "یہ کربلا ہے؛ یہ ان مردانِ خدا کے مصلوب ہونے (مارے جانے) کی جگہ ہے جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔” اس کے بعد آپ (علیہ‌السلام) آگے بڑھ گئے۔ اس دن لوگ آپ (علیہ‌السلام)کے کلام کی تفسیر نہ سمجھ سکے، یہاں تک کہ کربلا میں حسین بن علی (علیہ‌السلام) اور ان کے اصحاب کی شہادت کا واقعہ رونما ہو گیا۔[۲]

وہ شخص جو کربلا سے بھاگ کھڑا ہوا

روائی اور تاریخی شواہد کے مطابق، امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) نے سرزمینِ کربلا سے گزرتے ہوئے امام حسین (علیہ‌السلام) کی شہادت کی پیش گوئی کے ساتھ معرکۂ عاشورا کی بعض جزئیات کا بھی ذکر فرمایا تھا؛ ہرثمہ بن سلیم، جو مولائے متقیان کے اصحاب میں سے تھا، نقل کرتا ہے: "ہم ایک جنگ میں علی بن ابی‌طالب (علیہ‌السلام) کے ساتھ تھے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو آپ (علیہ‌السلام) نے نماز برپا کی۔ نماز کے سلام کے بعد، آپ (علیہ‌السلام) نے اس سرزمین کی مٹی کی ایک مٹھی اٹھائی، اسے سونگھا اور فرمایا: ‘اے مٹی! تجھے مبارک ہو، تجھ سے ایسے لوگ اٹھیں گے جو بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔'”
وہ مزید کہتا ہے: "جب میں جنگ سے واپس لوٹا، تو میں نے اپنی زوجہ ‘جرداء’ کے سامنے اس واقعے کا ذکر کیا، جو امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے عقیدت مندوں اور شیعیان میں سے تھیں۔ میں نے تعجب سے پوچھا: انہیں ان غیبی امور کا علم کہاں سے ہے؟ میری بیوی نے کہا: ‘اے مرد، ان باتوں کو چھوڑو! امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) حق کے سوا کچھ نہیں کہتے۔'”
ہرثمہ کہتا ہے: "برسوں بعد، جب عبید اللہ بن زیاد نے حسین بن علی (علیہ‌السلام) اور ان کے اصحاب سے جنگ کے لیے ایک لشکر روانہ کیا، تو میں بھی اس لشکر کے سواروں میں شامل تھا۔ جب میں حسین (علیہ‌السلام) اور ان کے جانثاروں کے آمنے سامنے پہنچا، تو میں نے اس منزل کو پہچان لیا؛ یہ وہی جگہ تھی جہاں امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) نے ہمیں اتارا تھا اور یہی وہ نقطہ تھا جہاں کی مٹی اٹھا کر انہوں نے سونگھی تھی اور وہ جملہ فرمایا تھا۔ میں اپنے آنے پر سخت پشیمان ہوا۔ چنانچہ میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر حسین (علیہ‌السلام) کی طرف گیا، انہیں سلام کیا اور جو کچھ ان کے والد سے اس سرزمین کے بارے میں سنا تھا، وہ انہیں کہہ سنایا۔”
امام حسین (علیہ‌السلام) نے مجھ سے پوچھا: "تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف؟”
میں نے عرض کیا: "اے فرزندِ رسول! میں نہ آپ کے ساتھ ہوں اور نہ آپ کے خلاف؛ میں اپنے اہل و عیال کو پیچھے چھوڑ آیا ہوں اور ابنِ زیاد سے ان کی جان کا خوف ہے۔”
امام حسین (علیہ‌السلام) نے فرمایا: "تو پھر یہاں سے بھاگ جاؤ اور دور نکل جاؤ تاکہ ہماری شہادت کے گواہ نہ بنو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کی جان ہے، آج جو بھی ہماری شہادت کے منظر کو دیکھے گا اور ہماری نصرت کو نہیں پہنچے گا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ میں جھونک دے گا۔”
ہرثمہ کہتا ہے: "میں بھی اس سرزمین سے بھاگ نکلا تاکہ آپ (علیہ‌السلام) کی شہادت کا منظر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھوں۔”[۳]

واقعۂ عاشورا پر مولائے متقیان کی ایک اور پیش گوئی

امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) نے اپنی الٰہی بصیرت کے ذریعے، کوفہ کی پشت پر واقع سرزمینِ کربلا میں امام حسین (علیہ‌السلام) کی شہادت اور مظلومیت کی پیش گوئی فرمائی تھی۔
حارث اعور، امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے مخلص اصحاب میں سے تھے اور مدینہ میں آپ (ع) کے ہاتھ پر سب سے پہلے بیعت کرنے والوں میں شامل تھے۔ حارث اعور، جو امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی احادیث اور خطبات کو قلمبند کیا کرتے تھے، آپ (علیہ‌السلام) سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا:
"میرے ماں باپ حسین پر فدا ہوں جو کوفہ کی پشت پر شہید کیا جائے گا! خدا کی قسم، گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ جنگلی جانوروں نے اپنی گردنیں حسین کی قبر پر رکھ دی ہیں اور رات سے صبح تک ان پر رو رہے ہیں اور نوحہ خوانی کر رہے ہیں۔ جب وہ وقت آ جائے، تو (خدا کے ولی پر) جفا اور ظلم کرنے سے بچو۔”[۴]
اسی طرح امیرالمؤمنین علی (علیہ‌السلام) نے امام حسین (علیہ‌السلام) کی شہادت گاہ کی وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: "حسین (علیہ‌السلام) کو بڑے ہی عجیب و غریب انداز میں شہید کیا جائے گا۔ میں اس مٹی کو بخوبی جانتا ہوں جس پر حسین شہید ہوگا؛ یہ وہی سرزمین ہے جو دو نہروں کے درمیان واقع ہے۔”[۵]

پیش گوئی پر تاریخ کی گواہی

حضرت امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) نے ایک اور موقع پر اپنے لختِ جگر حسین کی شہادت کی پیش گوئی براء بن عازب کو یاد دلائی، جو رسول اللہ (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) اور خود آپ (علیہ‌السلام) کے صحابی تھے، اور فرمایا: "میرا بیٹا حسین شہید کر دیا جائے گا؛ تم اس دن زندہ ہو گے، لیکن اس کی مدد نہیں کرو گے۔”
برسوں گزر گئے اور کربلا کا سانحہ رونما ہو گیا۔ امام حسین (علیہ‌السلام) کی شہادت کے بعد، براء بن عازب جو اس پیش گوئی کے سچ ثابت ہونے کے چشم دید گواہ تھے، رو کر کہا کرتے تھے: "خدا کی قسم! علی بن ابی طالب (علیہ‌السلام) نے سچ فرمایا تھا؛ کیونکہ حسین شہید کر دیے گئے اور میں نے ان کی نصرت نہیں کی!” چنانچہ وہ اس بدبختی اور محرومی پر عمر بھر حسرت اور پشیمانی کا شکار رہے۔[۶]

اے تمام مومنین کے آنسوؤں کا سبب!

امیرالمؤمنین علی (علیہ‌السلام) اپنی بصیرت انگیز نگاہوں سے امام حسین (علیہ‌السلام) کی ذاتِ گرامی میں مومنوں کے رنج و الم اور آنسوؤں کا سرچشمہ دیکھتے تھے۔
امام جعفر صادق (علیہ‌السلام) فرماتے ہیں: "ایک دن حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہ‌السلام) نے اپنے فرزند امام حسین (علیہ‌السلام) کی طرف دیکھا اور فرمایا: ‘اے تمام مومنین کے آنسوؤں کا سبب (باعثِ اشک)!'”
امام حسین (علیہ‌السلام) نے پوچھا: "بابا جان! کیا آپ کی مراد میں ہوں؟”
حضرت امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) نے جواب دیا: "ہاں، میرے پیارے بیٹے!”[۷]

مآخذ
[۱] بحار الانوار، جلد ۴۴، صفحۀ ۲۴۷
[۲] بحار الانوار، جلد ۴۱، صفحۀ ۲۸۶
[۳] واقعة صفین، جلد ۱، صفحۀ ۱۴۰
[۴] بحار الانوار، جلد ۴۵، صفحۀ ۲۰۵
[۵]  بحار الانوار، جلد ۴۴، صفحۀ ۲۶۲
[۶] بحار الانوار، جلد ۴۴، صفحۀ ۲۶۲
[۷] بحار الانوار، جلد ۴۴، صفحۀ ۲۸۰

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے