کتاب ‘مبکی العیون’ میں تحریر ہے کہ جب امام حسین صلوات اللہ علیہ کے سرِ مبارک کو نیزے پر بلند کیا گیا، تو سر مبارک سے نور ساطع ہو رہا تھا ؛ اور اسیرانِ کربلا جس طرف بھی رخ کرتے یا مائل ہوتے، وہ سرِ اطہر بھی اسی طرف متوجہ ہو جاتا اور جھک جاتا تھا، آپ علیہالسلام نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی لطف و کرم کی نگاہ ان اسیروں سے نہیں ہٹائی۔
سفینه بحرالمصائب, محمد مهدی بن محمد تقی اشراق, ج ۸, ص ۲۰