جب جنابِ سید الشہداء علیہالسلام دو محرم کو کربلا پہنچے، تو حضرتِ حر علیہالسلام کا ایک ہزار کا لشکر آ رہا تھا۔ مولا حسین علیہالسلام نے دیکھا کہ وہ پیاسے ہیں؛ تو ایک مرتبہ مولا علیہالسلام نے انہیں آتے دیکھا اور کہا: "عباس علیہالسلام! یہ پیاسے ہیں۔ میں ساقیِ کوثر کا بیٹا ہوں؛ عباس علیہالسلام، مجھ سے کسی کی پیاس برداشت نہیں ہوتی۔ میرے بھائی! سب کو پانی پلا دو”۔ جنابِ عباس علیہالسلام نے مشکیزوں کا منہ کھول دیا اور سب کو پانی پلانے لگے۔ ایک مرتبہ مولا حسین علیہالسلام نے کہا: "عباس علیہالسلام! ان کے گھوڑے بھی پیاسے ہیں، ان کے اونٹ بھی پیاسے ہیں”۔ میں ہاتھ جوڑ کے کہوں گا کہ مولا علیہالسلام، آپ علیہالسلام سے جانوروں کی پیاس برداشت نہیں ہو رہی! مولا علیہالسلام، جب شامِ غریباں میں ایک چھوٹی بی بی سلاماللہعلیہا۔۔