اس روایت کو سن کر خوش ہو جائیے کہ آپ کے آٹھویں امام علیہالسلام نے آپ کو کیسا عظیم تحفہ عطا فرمایا ہے:
مَثَلُ اَلْمُؤْمِنِينَ فِي قَبُولِهِمْ وَلاَءَ أَمِيرِ اَلْمُؤْمِنِينَ فِي يَوْمِ غَدِيرِ خُمٍّ كَمَثَلِ اَلْمَلاَئِكَةِ فِي سُجُودِهِمْ لِآدَمَ
ان مومنین کی مثال، جنہوں نے غدیرِ خم کے دن علی علیہالسلام کی ولایت کو قبول کیا۔ ان فرشتوں کی سی ہے جنہوں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا۔
وَ مَثَلُ مَنْ أَبَى وَلاَيَةَ أَمِيرِ اَلْمُؤْمِنِينَ فِي يَوْمِ اَلْغَدِيرِ مَثَلُ إِبْلِيسَ
اور جنہوں نے روزِ غدیر علی علیہالسلام کی ولایت سے انکار کیا، ان کی مثال ابلیس جیسی ہے۔
اب کسی سے جھگڑا کیجیے نہ شکوہ، امام علیہالسلام نے ہمیں ایک واضح قانون عطا کر دیا ہے۔ ہر انسان کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ یا تو علی علیہالسلام کی ولایت کو تسلیم کر کے فرشتوں کی صف میں شامل ہو جائے۔ یا پھر علی علیہالسلام کی ولایت کو ٹھکرا کر شیطان لعین کی راہ اپنا لے۔
اقبال الاعمال، سید ابن طاؤوس، ج۲، ص۴۸۱