سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

GH-Tareekh-9

اہل بیت کے چہروں میں ابدیت کی تجلی

 دنیا کے اس شور و ہنگام میں، جہاں ہر شے زوال کی طرف بڑھ رہی ہے، ایک ہی حقیقت ایسی ہے جو باقی رہتی ہے۔وہ حقیقت جس کے راز سے امام صادق علیہ السلام پردہ اٹھاتے ہیں۔

خثیمہ روایت کرتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے اس باجلال آیتِ الٰہی کے بارے میں سوال کیا جس میں ارشاد ہوتا ہے: «کُلُّ شَیْءٍ هَالِکٌ إِلَّا وَجْهَهُ» ہر چیز فنا ہونے والی ہے، سوائے اس کے چہرے کے۔

امام علیہ السلام نے ایسا جواب ارشاد فرمایا جو اس فانی دنیا کے وجود پر لرزہ تاری کر دیتا ہے: خدا کے چہرے سے مراد اس کا دین ہے۔

پھر آپ نے رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ اور ان کے وصی کے نورانی مقام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام ہی خدا کا دین اور اس کا روشن چہرہ ہیں۔ وہ بندوں کے درمیان اس کی بینا آنکھ، زمین پر اس کی گویائی کی زبان، اور تمام مخلوقات پر اس کی قدرت کے مظہر ہیں۔

اور اس کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام کی عظمت کو یوں بیان فرمایا: ہم ہی ‘وَجہُ اللہ’ ہیں؛ وہ واحد درگاہ جس کے ذریعے خدا کی بارگاہ تک رسائی ممکن ہے۔ ہم بندوں کے درمیان ہمیشہ موجود رہیں گے، جب تک خدا ان میں ہدایت کی اہلیت اور رشد کی خواہش دیکھتا رہے۔

عَنِ الصَّادِقِ (عَلَيْهِ السَّلَامُ)- عَنْ خُثَيْمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّـهِ (عَلَيْهِ السَّلَامُ) عَنْ قَوْلِ اللَّـهِ عَزَّوَجَلَّ: ﴿کُلُّ شَیْءٍ هَالِکٌ إِلَّا وَجْهَهُ﴾ قَالَ: دِینَهُ. وَ کَانَ رَسُولُ اللَّـهِ (صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ) وَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ (عَلَيْهِ السَّلَامُ) دِینَ اللَّـهِ وَ وَجْهَهُ وَ عَیْنَهُ فِی عِبَادِهِ وَ لِسَانَهُ الَّذِی یَنْطِقُ بِهِ وَ یَدَهُ عَلَی خَلْقِهِ. وَ نَحْنُ وَجْهُ اللَّـهِ الَّذِی یُؤْتَی مِنْهُ، لَنْ نَزَالَ فِی عِبَادِهِ مَا دَامَتْ لِلَّـهِ فِیهِمْ رَوِیَّةٌ….

التوحید، شیخ صدوق، ج۱، ص۱۵۱

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے