حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے شعبہ فکری و ثقافتی امور نے عظیم خطاط جاسم النجفی کی برسی کے موقع پر ایک یادگاری نشست کا اہتمام کیا، جس میں حرم مقدس کے نائب متولی خادم احسان الطائی، مجلس نظما کے ارکان اور نجف اشرف سے تعلق رکھنے والے متعدد ماہرین تعلیم اور ثقافتی و فنی امور کے شائقین نے شرکت کی۔ یہ نشست ان کے فنی سفر اور عربی خطاطی و اسلامی ورثے کی خدمات کے اعتراف میں منعقد کی گئی۔
حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے متولی کے پیغام میں، جو مجلس نظما کے رکن خادم ڈاکٹر مصطفیٰ منیٰ نے پڑھا، ان فنی اور ثقافتی شخصیات کی عزت افزائی کی اہمیت پر زور دیا گیا جنہوں نے اسلامی شناخت اور عربی خطاطی کے فن کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کیا۔ مرحوم خطاط کی لازوال خدمات کا سراہنا کیا گیا۔
منیٰ نے عربی خطاطی کے علمبرداروں کے ورثے کے تحفظ اور ان کی فنی، ثقافتی اور ورثے کی کاوشوں کو اجاگر کرنے میں حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے کردار کو واضح کیا۔
شعبہ فکری و ثقافتی امور کے سربراہ خادم کرار الحلو نے نیوز سینٹر کو بتایا کہ یہ نشست مرحوم کے علمی اور فنی ورثے کے تحفظ اور ان کی عظیم خدمات کو یاد رکھنے کے لیے منعقد کی گئی،ان کے ہاتھوں کئی نسلوں نے تربیت حاصل کی اور وہ اب بھی اسلامی ورثے اور اصیل عربی خطاطی کے فن کے تحفظ کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
الحلو نے مزید کہا کہ مرحوم اسلامی دنیا میں عربی خطاطی کے فن میں ایک ممتاز فنی عبقری شخصیت اور اصیل مکتب فکر تھے، ان کے کام عربی خطاطی کے کلاسیکی اصولوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ اس لازوال فن میں جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل تھے۔
واضح رہے کہ عراقی خطاط مرحوم جاسم النجفی 1950 میں نجف اشرف میں پیدا ہوئے اور 2026 میں وفات پائی، وہ عربی خطاطی کے شعبے میں اپنی نمایاں فنی خدمات کی وجہ سے فخر الخطاطین کے لقب سے مشہور تھے۔









