سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

کریمۂ اہلبیت حضرت فاطمہ معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا: فضیلت و جلالت کا تابندہ ستارہ

کریمۂ اہلبیت حضرت فاطمہ معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا: فضیلت و جلالت کا تابندہ ستارہ

بیتِ نبوت اور خانوادۂ امامت کے آسمانِ فضل و کمال پر حضرت فاطمہ معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا وہ درخشندہ ماہتاب ہیں، جن کی الہی عظمت کا تذکرہ ائمۂ طاہرین علیہ‌السلام نے آپ کی ولادتِ با سعادت بلکہ آپ کے والدِ بزرگوار کی ولادت سے بھی قبل فرمایا۔ آپ کی شخصیت علم، طہارت اور قربِ الٰہی کا وہ بحرِ بیکراں ہے جس کی گہرائی کا ادراک عام عقول کے لیے ممکن نہیں۔ ائمہ علیہم‌السلام کے فرامین کی روشنی میں آپ کی 9 نمایاں فضیلتیں کا ذکر کرتے ہیں جو آپ کے جلیل القدر مقام کی شاہد ہیں۔

حضرت معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کا سب سے پہلا کمال آپ کا وہ روحانی اجر ہے جو آپ کے زائر کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔ امامِ رضا علیہ‌السلام نے ارشاد فرمایا: «مَنْ زَارَهَا، فَلَهُ الْجَنَّةُ»، یعنی جو حضرت معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کی زیارت کرے گا، اس کے لیے بہشت واجب ہے (کامل الزیارات، ص324)۔ آپ کی ایک منفرد خصوصیت آپ کا "بلافصل امام زادی” ہونا ہے؛ آپ امامِ کاظم علیہ‌السلام کی بیٹی ہیں اور اسی بلافصل نسبت نے آپ کے وجود کو ایک خاص تقدس عطا کیا ہے (بحار الانوار، ج99، ص265)۔

آپ کا مقامِ عصمت وہ بلند مرتبہ ہے جس کی گواہی خود امامِ وقت نے دی۔ امامِ رضا علیہ‌السلام نے فرمایا: «مَنْ زَارَ الْمَعْصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زَارَنِي»، یعنی جس نے قم میں معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی (زاد المعاد، ج1، ص547)۔ اس فرمان میں امام علیہ‌السلام نے آپ کو "معصومہ” کے لقب سے نواز کر آپ کے بلند روحانی مقام کو متعین فرما دیا۔ مزید برآں، بارگاہِ الٰہی میں آپ کے تقرب کا یہ عالم ہے کہ امامِ رضا علیہ‌السلام فرماتے ہیں: «فَإِنَّ لَكِ عِنْدَ اللَّهِ شَأْناً مِنَ الشَّأْنِ»، کہ بے شک اللہ کے نزدیک آپ کی ایک خاص شان اور منزلت ہے (بحار الانوار، ج99، ص265)۔

وہ خاندان جو خود منبع علم الہی اور وحی الہی کے نازل ہونے کی مکان ہے آپ اس علمی کمالات اور مقام پر فائز تھیں کہ جب امامِ کاظم علیہ‌السلام کی عدم موجودگی میں آپ نے شیعیانِ کرام کے پیچیدہ سوالات کے درست جوابات تحریر فرمائے، تو آپ کے والدِ بزرگوار نے کمالِ مسرت میں تین بار ارشاد فرمایا: «فِدَاهَا أَبُوهَا»، یعنی آپ کا باپ آپ پر قربان ہو جائے (کریمۂ اہلبیت، ص170)۔ شفاعت کے باب میں امامِ صادق علیہ‌السلام نے وہ عظیم خوشخبری سنائی: «تُدْخَلُ بِشَفَاعَتِهَا شِيعَتِي الْجَنَّةَ بِأَجْمَعِهِمْ»، یعنی ہمارے تمام کے تمام شیعہ ان کی شفاعت سے جنت میں داخل ہوں گے (بحار الانوار، ج57، ص228)۔ یاد رہے کہ روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ‌السلام جیسے جلیل القدر انبیاء بھی امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے شیعوں میں شمار ہوتے ہیں (البرھان فی تفسیر القرآن، ج4، ص600 تفصیل در پاورقی ۱ )، یعنی اس شفاعت کا فیض انبیاء علیہم السلام تک کو شامل ہے۔

تعجب خیز امر یہ ہے کہ آپ کی فضیلت کا غلغلہ آپ کی آمد سے عشروں پہلے بلند ہو چکا تھا۔ امامِ صادق علیہ‌السلام نے امامِ کاظم علیہ‌السلام کی ولادت سے بھی پہلے بشارت دی کہ میری اولاد میں سے ایک بی بی جن کا نام فاطمہ ہوگا، قم میں مدفون ہوں گی، جن کی زیارت جنت کو واجب کر دیتی ہے (بحار الانوار، ج57، ص216)۔ آپ نہ صرف صاحبِ فضیلت ہیں بلکہ خود "راویۂ احادیثِ اہلبیت” بھی ہیں۔ آپ نے سلسلہ وار فاطمیات کے ذریعے حدیثِ غدیر اور حدیثِ منزلت جیسی اہم احادیث کو روایت کیا ہے (عوالم العلوم، ج21، ص354)۔

آخر میں آپ کی عظمت کا یہ پہلو نمایاں ہے کہ آپ کا مدفن "حرمِ اہلبیت” ہے۔ امامِ صادق علیہ‌السلام نے فرمایا کہ خدا کا حرم مکہ، رسول اللہ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کا حرم مدینہ، امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کا حرم کوفہ اور ہم اہلبیت کا حرم "قم” ہے (بحار الانوار، ج99، ص267)۔ اس طرح حضرت معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کی ذاتِ گرامی رہتی دنیا تک ہدایت و برکت کا وہ مرکز بن گئی جہاں سے علم و معرفت کے چشمے جاری ہیں۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے