شاید یہ سوال اٹھے کہ امیرالمومنین علیہالسلام کس طرح اور کیوں کوفہ تشریف لائے؟
جنگِ جمل کا فتنہ فرو ہونے اور بصرہ میں حق کی فتح کے بعد آپ علیہالسلام فاتحانہ انداز میں کوفہ میں وارد ہوئے۔ ۱۲ رجب ۳۶ ہجری کو آپ علیہالسلام نے کوفہ کو اسلامی حکومت کا نیا دارالخلافہ قرار دیا۔
اہلِ کوفہ کی ستائش
مولای متقیان نے متعدد مواقع پر کوفہ اور اہل کوفہ کا خیر و خوبی سے ذکر فرمایا ہے۔ منقول ہے کہ آپ علیہالسلام نے فرمایا:
کوفہ اسلام کا مرکز و محور اور ایمان کا خزانہ ہے؛ خدا کی تلوار ہے۔ قسم ہے اُس خدائے بزرگ کی کہ اہل کوفہ کو مشرق و مغرب میں نصرت عطا فرمائے گا، جس طرح اہل حجاز کو عطا فرمائی۔
جب آپ علیہالسلام ناکثین (پیمان شکنوں) سے مقابلے کے لیے مدینہ سے بصرہ روانہ ہوئے تو اہل کوفہ کو تحریر کردہ اپنے مکتوب میں انھیں “یاران کی سفید پیشانی، اور عرب کے بہترین انصار” قرار دیا۔ مگر مشیت الٰہی یہی تھی کہ شہادت کا راز اسی دیار میں آشکار ہو۔
شہادتِ امیرالمومنین علیہالسلام
آپ علیہالسلام ۲۱ رمضان سنہ ۴۰ ہجری کو ۶۳ برس کی عمر میں ابنِ ملجم مرادی کی ضربت سے شہید ہوئے۔ شیخ مفید اس واقعے کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
آپ علیہالسلام کی شہادت جمعے کی شب، طلوعِ فجر سے قبل ہوئی۔ ابن ملجم نے شب ۱۹ ماہ رمضان کو مسجد میں کمین کیا۔ امام علیہالسلام نماز صبح کے لیے لوگوں کو بیدار کرنے مسجد میں تشریف لائے تو وہ ملعون بظاہر سویا ہوا تھا، پھر ناگاہ اٹھا اور زہر میں بجھی تلوار سے آپ علیہالسلام کے سر اقدس پر وار کیا۔ آپ علیہالسلام دو روز تک زخم کی شدت برداشت کرتے رہے یہاں تک کہ شب ۲۱ ماہ رمضان وصال حق کو پہنچے۔ آپ علیہالسلام نے بارہا اپنی شہادت کی خبر دی تھی اور تقدیر الٰہی کی اس منزل سے آگاہ تھے۔
تدفین کے لیے امیرالمومنین علیہالسلام کی وصیت
شہادت سے قبل آپ علیہالسلام نے وصیت فرمائی کہ جسدِ مطہر کو سرزمینِ نجف میں سپردِ خاک کیا جائے۔ یہ وہی خطہ ہے جسے آپ علیہالسلام نے ’’وادی السلام‘‘ کے نام سے یاد کیا۔ یہ خطہ کو مؤمنین کی آرام گاہ قرار دیا۔ روایات کے مطابق آپ علیہالسلام کا روضۂ اقدس اسی مقام پر ہے، جہاں حضرت آدم، نوح، ہود اور صالح علیہمالسلام مدفون تھے۔ زیارتناموں میں بھی اس حقیقت کی جھلک ملتی ہے۔ آپ علیہالسلام کو ’’شجرۂ نبوت و ثمرۂ امامت‘‘ کہا گیا ہے۔ امام باقر علیہالسلام کی روایت کے مطابق رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ اور ملائکۂ مقربین نے آپ علیہالسلام کی تدفین کے اعمال انجام دیے۔ اس کے بعد آپ علیہالسلام کو حضرت نوح علیہالسلام کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔
پیکر مطہر کی تشییع
ام کلثوم بنت علی سلاماللہعلیہا روایت کرتی ہیں کہ امیرالمومنین علیہالسلام نے وصیت فرمائی:
“جب میں دنیا سے جاؤں تو مجھے غسل دو، مجھے انہی لباسوں سے خشک کرو جو رسول خدا اور سیدۂ فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کے تھے، پھر حنوط کرکے تابوت پر رکھ دینا۔ جب تابوت کا اگلا حصہ خود بخود بلند ہو، تم صرف پچھلا حصہ سنہبھالنا۔”
جناب ام کلثوم سلاماللہعلیہا فرماتی ہیں:
تابوت ہمیں سرزمینِ غری تک لے گیا۔ وہاں زمین خود منکشف ہوئی اور ایک تیار قبر ظاہر ہوئی جس میں سریانی زبان میں لکھا تھا:
بسماللہالرحمنالرحیم۔ یہ قبر نوح نبی کی ہے جسے انھوں نے سات سو برس قبل طوفان، امیرالمومنین کے لیے بنائی تھا۔
ایک ندائے غیبی نے بھی ان کو تعزیت پیش کی: خدا تمھیں امیرالمومنین کی شہادت پر صبر و اجر عطا فرمائے۔
دیگر روایات میں تابوت کے خود حرکت کرنے، نورانی صخرہ کے ظہور، آسمانی آوازوں کے سنہائی دینے، اور قبر کے محو ہوجانے کا ذکر ملتا ہے تاکہ قبرِ مطہر دشمنوں سے پوشیدہ رہے۔
امام باقر علیہالسلام کی روایت میں ہے کہ تدفین کے بعد امام حسن و امام حسین علیہماالسلام نے قبر کے سرہانے رکھی اینٹ ہٹائی۔ اسی لمحے غیب سے ایک آواز آئی:
امیرالمومنین علی علیہالسلام بندۂ صالح تھے؛ خدا نے انھیں اپنے رسول سے ملا دیا۔ یہی ان تمام اوصیا کا مقام ہے جو انبیا کے بعد آتے ہیں، چاہے نبی مشرق میں وفات پائے اور وصی مغرب میں، خدا انھیں یکجا کر دیتا ہے۔
مآخذ
کتاب «تاریخ المرقد العلوی المطهر» سے ماخوذ