یہ اس مقدس سرزمین ہی کا شرف تھا کہ حضرت ابراہیم علیہالسلام نے کچھ مدت اس میں گزاری۔ اس زمین کو اس کے مالکوں سے خرید لیا۔ کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ اس سرزمین میں دفن ہونے والوں کی ارواح ایسی زمین پر رہیں جو ان کی ملکیت میں ہو۔ اس مقدس مقام کی زیارت شیعوں کے لئے حصول شفاعت، حاجات کی برآوری اور اللہ سے نزدیک ہونے کا ذریعہ ہے۔
شہر نجف کی فضیلت اور برتری
شیخ حسن ابن محمد دیلمی نجف اشرف کی فضیلت کے بارے میں کہتے ہیں:
اللہ نے اس شریف مقام اور اس کے مقدس حرم کو ایسی فضیلت اور برتری عطا فرمائی ہے جو کسی اور مقام کو حاصل نہیں ہے۔
اہلبیت علیہمالسلام سے منقول بےشمار روایات میں اس پاکیزہ اور بابرکت سرزمین کا ذکر ملتا ہے۔ اسے ’’روضة من رياض الجنة‘‘ یعنی ’’بہشت کے باغات میں سے ایک باغ‘‘ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ اسی طرح اہلبیت علیہمالسلام کی روایات میں اس کے جوار میں سکونت اور اس کی زیارت کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔ وادی السلام میں دفن ہونے کے فضائل اور دنیا و آخرت میں اس کے اثرات کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔
علامہ سید عبد الکریم ابن طاؤوس نے ابن عباس سے نقل کیا ہے:
رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ نے امیرالمؤمنین علیہالسلام سے فرمایا:
اللہ نے مودت اہلبیت علیہمالسلام کو آسمانوں اور زمینوں کے سامنے پیش کیا تو سب سے پہلے جس نے لبیک کہا وہ ساتواں آسمان تھا، اسے عرش اور کرسی سے آراستہ کردیا گیا، پھر چوتھا آسمان آباد گھروں کے ساتھ، دنیا کا آسمان ستاروں کے ساتھ، زمین حجاز کعبے کے ساتھ، زمین شام بیت المقدس کے ساتھ، زمین طیبہ قبر پیغمبر صلیاللہعلیہوآلہ اور زمین کوفہ قبر امیرالمؤمنین علیہالسلام کے ساتھ صاحب افتخار قرار پائے۔
پیغمبر صلیاللہعلیہوآلہ نے امیرالمومنین علیہالسلام کو خبر دی کہ ان کو کوفہ، عراق میں قتل کردیا جائے گا اور ان کا قاتل عبد الرحمان ابن ملجم ہوگا لیکن اللہ کی جانب سے ایک لاکھ تلواریں عراق سے ان کی نصرت کریں گی۔
دُر نجف: سرزمین نجف کی کرامت کی علامت
نجف اشرف کے باشندے عموماً تبرک کے طور پر دُرِ نجف نامی پتھر پہنتے ہیں۔ یہ قیمتی پتھر فلاتِ نجف اور اس کے گرد و نواح کے صحرائی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ سرزمین امیرالمومنین علیہالسلام کے پیکرِ اقدس کی نسبت سے شرف و فضیلت رکھتی ہے۔ اسی نسبت سے اس سرزمین کا پتھر اپنے پاس رکھنا اجر و ثواب کا باعث سمجھا جاتا ہے۔
شیخ طوسی نے مفضل ابن عمر سے اور انہوں نے امام جعفر صادق علیہالسلام سے نقل کیا ہے کہ امام علیہالسلام نے فرمایا:
مجھے پسند ہے کہ ہر مومن پانچ قسم کی انگوٹھیاں رکھتا ہو:
- یاقوت: جو کہ سب سے زیادہ خوبصورت اور قیمتی پتھر ہے۔
- پھر عقیق: جو کہ اللہ اور ہم اہلبیت کے نزدیک پاک ترین اور خالص ترین پتھر ہے۔
- فیروزہ: وہ پتھر کہ جس کو دیکھنا دل کو خوشحال اور آنکھوں کو روشن کرتا ہے، سینے کو کشادہ اور دل کو طاقتور کرتا ہے اور مومنین و مومنات کے لئے آرام و سکون کا باعث ہے۔
- حدید چینی: میں اسے زینت کے لیے پسند نہیں کرتا، لیکن مجھے پسند ہے کہ مومنین شریر لوگوں سے روبرو ہوتے ہوئے اسے ہاتھ میں پہنیں کیونکہ ان کے شر کو دور کرتا ہے اور ان کے نقصان سے بچا کر رکھتا ہے۔
اسی طرح سے مجھے یہ بھی پسند ہے کہ مومنین اسے سنبھال کر رکھیں کیونکہ جنات اور برے انسانوں کو ان سے دور رکھتا ہے اور پانچواں وہ پتھر جو اللہ نے سرزمین نجف میں دو سفید ٹیلوں کے درمیان آشکار کیا ہے۔میں نے کہا: میرے آقا، اس پتھر کی فضیلت کیا ہے؟
فرمایا: جو بھی اسے انگلی میں پہنے گا اور اسے دیکھے گا تو اللہ ہر نظر کے بدلے اس کے لئے پیغمبروں اور نیکوکاروں جیسا ثواب لکھے گا۔
اور اگر اللہ کی رحمت اور اس کا لطف ہمارے شیعوں کے شامل حال نہ ہوتا تو اس پتھر کی قیمت اس قدر بڑھ جاتی کہ کوئی بھی اس کو خریدنے کی طاقت نہ رکھتا؛ لیکن اللہ نے اپنی مہربانی سے اسے کم قیمت قرار دیا تاکہ دولت مند اور غریب دونوں ہی اس کی برکت سے بہرہ مند ہوسکیں۔
پھر امام نے اشارہ کیا کہ یہ پتھر غریب اور دولتمند دونوں کے لئے میسر ہے اور رحمت خدا نے اس کا حصول شیعوں کے لیے آسان بنادیا ہے۔
بارگاہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کے جوار میں رہنے کی فضیلت
سید بن طاؤوس نے حسان بن مہران سے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہالسلام نے ان سے فرمایا:
ہمارے شہدا کی قبروں کی زیارت کرو اور ان: امیرالمومنین اور امام حسین (علیہماالسلام) کے پاس اپنی حاجات کو طلب کرو اور ان کے مجاور رہو۔
علامہ مجلسی نے وضاحت کی ہے:
لا تخذناهم هجره کا جملہ بتاتا ہے کہ اہل قبور سے قریب ہونا اور ان کی مجاورت اختیار کرنا ترجیح رکھتا ہے اور مقدس قبروں کے پاس اور ان کے جوار میں رہنا فضیلت کا حامل ہے۔
علامہ ابن فہد حلی کے ایک نسخے مخطوطه المقتصر در شرح المختصر اور شیخ صدوق کی کتاب مدینة العلم سے نقل ہوا ہے:
امام جعفر صادق علیہالسلام سے ایک شخص نے سوال کیا:
قبر علی ابن ابی طالب علیہماالسلام کے جوار میں رہنے کی کیا فضیلت ہے؟
امام علیہالسلام نے فرمایا: قبر امیرالمومنین علیہالسلام کے پاس ایک رات گزارنا ۷ سال کی عبادت کے برابر ہے۔
سائل نے مرقد امام حسین علیہالسلام کے بارے میں پوچھا تو آپ علیہالسلام نے فرمایا: ۷۰ سال کی عبادت کے برابر ہے۔
بارگاہ امیرالمومنین علیہالسلام میں نماز ادا کرنے کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا: ۲ لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔
شیخ آغا بزرگ طہرانی اور سید مہدی قزوینی نے بھی اسی سے ملتی جلتی روایتیں نقل کی ہیں:
مرقد امیرالمومنین علیہالسلام کے پاس مبیت (رات گزارنا) اور اس کے پاس رہنا ۴۰۰ سے ۷۰۰ سال کی عبادتوں کے برابر ہے۔
مرقد امام حسین علیہالسلام کے پاس رات گزارنا ۷۰ سال کی عبادت کے برابر ہے۔
اسی طرح سے بعض روایات میں ہے کہ مرقد امیرالمومنین علی علیہالسلام کے پاس حاضر ہونے کے لئے مشکلات اور سختیاں برداشت کرنا گناہوں سے پاک ہونے کا باعث ہے۔
وادی السلام میں دفن ہونے کی فضیلت
اہلبیت علیہمالسلام کی روایات میں نجف اشرف اور کربلا کی سرزمین پر دفن ہونے کے ثواب پر تاکید کی گئی ہے۔ کیونکہ یہ مقامات ان اہم خصوصیات کے حامل ہیں جو بقیہ مقامات میں نہیں پائی جاتیں۔ اسی وجہ سے امیرالمومنین علیہالسلام کے محب اور شیعہ کوشش کرتے ہیں کہ صحن مقدس یا قبرستان وادی السلام میں دفن ہوں۔ نجف میں موجود وادی السلام دنیا کے سب سے بڑے قبرستانوں میں سے ایک ہے اور لاکھوں لوگوں کو وہاں دفن کیا گیا ہے۔
شیخ دیلمی وادی السلام میں دفن ہونے کی فضیلت کے بارے میں کہتے ہیں:
اس مقام کی مٹی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں مدفون افراد پر سے عذاب قبر اٹھا لیا جاتا ہے اور ان کو منکر نکیر کے محاسبے سے معاف کردیا جاتا ہے۔
یہ بات اہلبیت علیہمالسلام کی صحیح روایات میں بھی بیان ہوئی ہے۔ شیخ محمد حسن جواہری نے بھی نقل کیا ہے:
اس بارے میں متواتر روایات موجود ہیں کہ ائمہ کے مشاہد (مرقد) میں دفن ہونا منکر نکیر کے سوال اٹھا لئے جانے کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات حتی اگر اس زمین کی خاص فضیلت اور برکت کی طرف توجہ نہ بھی کی جائے تب بھی معتبر ہے لیکن خود خاک اور مقام بھی خاص آثار کے حامل ہیں۔
شیخ کلینی نے حبہ عرنی سے روایت کی ہے:
میں امیرالمومنین علیہالسلام کے ہمراہ وادی السلام گیا اور دیکھا کہ امام ارواح مومنین کے ایک گروہ سے کلام فرمارہے ہیں۔ وہ اپنی روایت میں کہتے ہیں:
امام علیہالسلام نے ان سے فرمایا کہ یہ صرف ایک زندہ مومن سے گفتگو کرنے اور اسے تسلی دینے کی طرح سے نہیں ہے۔
جب پوچھا کہ کیا یہ بھی ایسے ہی ہیں تو امام علیہالسلام نے جواب دیا:
ہاں اور اگر تم میں طاقت ہوتی تو تم انہیں ایک ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دیکھتے۔
بیان ہوا کہ مومنین کی روحیں موت کے بعد وادی السلام میں چلی جاتی ہیں اور یہ مقام بہشت عدن کا ایک حصہ ہے۔
مومنین کی روحوں کا وادی السلام میں جمع ہونا
شیخ حسن ابن سلیمان حلی فضل ابن شاذان سے نقل کرتے ہیں کہ اصبغ ابن نباتہ نے ایک طولانی روایت میں بیان کیا ہے:
امیرالمومنین علیہالسلام کوفہ سے باہر نکلے اور غریین پہنچے۔ جب دیکھا کہ بغیر کچھ بچھائے آپ زمین پر لیٹے ہوئے ہیں تو قنبر نے پوچھا: آپ چاہیں تو اپنا لباس آپ کے نیچے رکھ دوں؟
امام علیہالسلام نے جواب دیا: نہیں، یہاں مومنین کا مخصوص مقام ہے، تو پھر یہاں آنے اور حاضر ہونے کی وجہ کیا ہے؟
پھر وضاحت دی: اگر مشاہدہ کیا جاسکتا تو دیکھتے کہ ارواح مومنین اس خاک پر حلقوں کی شکل میں بیٹھی ہوئی ہیں اور گفتگو کررہی ہیں اور اسی طرح سے وادئ برھوت میں ہر کافر کی روح موجود ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے فرمایا: زمین کے مشرق و مغرب میں کوئی بھی مومن نہیں مرتا مگر یہ کہ اس کی روح وادی السلام منتقل ہوجاتی ہے۔
شیخ کلینی نے بھی نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہالسلام سے پوچھا:
اگر میرا بھائی بغداد میں مر جائے تو کیا کروں؟
امام علیہالسلام نے فرمایا: یہ اہم نہیں ہے کہ وہ کہاں وفات پاتا ہے کیونکہ ہر مومن کی روح وادی السلام منتقل ہوجاتی ہے جو کوفہ کے پیچھے ہے۔
مزید فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ ارواح مومنین حلقہ وار بیٹھی ہوئی ہیں اور باہم گفتگو کررہی ہیں۔
مومنین کے نجف میں دفن ہونے اور شفاعت امیرالمؤمنین علیہالسلام کے بارے میں روایات
دیلمی روایت کرتے ہیں:
امیرالمومنین علیہالسلام جب خلوت اختیار کرنا چاہتے تو الغری کی طرف چل پڑتے جو کہ نجف کے قریب ایک خوبصورت مقام تھا۔ ایک دن یمن سے ایک شخص ایک جنازے کے ساتھ امام کے پاس آیا۔
امام علیہالسلام نے پوچھا: یہ کس کا جنازہ ہے اور کہاں سے آئے ہو؟
اس نے جواب دیا: میرے والد کا جنازہ ہے اور انہیں اس زمین (نجف) پر لایا ہوں تاکہ دفن کرسکوں۔
امام علیہالسلام نے پوچھا: کیوں ان کو اپنی زمین میں دفن نہیں کیا؟
اس شخص نے جواب دیا: میرے والد نے وصیت کی تھی کہ اس زمین پر انہیں دفن کیا جائے کیونکہ جو شخص یہاں دفن ہوگا وہ قبیلۂ ربیعہ و مضر (عرب کے دو بڑی تعداد والی قبیلے) کے برابر افراد کی شفاعت کرے گا۔
امام علیہالسلام نے فرمایا: تم اس شخص کو جانتے ہو؟
اس شخص نے جواب دیا: نہیں۔
امام علیہالسلام نے فرمایا: خدا کی قسم میں ہی وہ شخص ہوں، جنازے کو دفن کردو۔
ایک اور روایت جو حافظ رجب برسی نے اصبغ ابن نباتہ سے نقل کی ہے:
قاضی ابن بدر ہمدانی کوفی جو ایک صالح اور پرہیزگار شخص تھے، کہتے ہیں:
ایک بارانی رات میں مسجد کوفہ میں موجود تھا کہ ایک گروہ مسلم ابن عقیل کے پاس آیا اور چاہا کہ ایک جنازے کو مسجد میں داخل کریں اور جنازے کو داخلی راستے کے قریب ایک جگہ رکھ دیا۔
ساتھ موجود ایک شخص سو گیا اور خواب میں سنا کہ کوئی دوسرے سے کہہ رہا ہے: ہمیں جنازے کو نہیں دیکھنا چاہیے مگر یہ کہ پہلے یہ معلوم کریں کہ اس کے ساتھ ہمارا کوئی حساب کتاب ہے یا نہیں؟
پھر میت کا چہرہ کھولا اور اپنے ساتھی سے کہا: اس سے ہمارا حساب باقی ہے، اب اسے جلدی لے جانا ہوگا اس سے پہلے کہ رصافہ (کوفہ کے نزدیک ایک گاؤں) سے گزر جائے، پھر ہمارے لئے کوئی راستہ باقی نہ رہے گا۔
وہ شخص نیند سے اٹھا اور دوسروں کو خواب کے بارے میں بتایا، جنازے کو فورا لایا گیا اور قبر شریف کے پاس پہنچا دیا گیا۔
ایک روایت میں ہے کہ حرم مقدس کے آس پاس کی ساری قبریں ایک رسی کے ذریعے گنبد شریف سے جڑی ہوئی ہیں۔[۱]
[۱] تاریخ المرقد العلوی المطهر سے اقتباس