اس مہینے میں بندوں کو اللہ کی ضیافت کی دعوت دی جاتی ہے، یعنی بندہ اس مہینے میں اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اللہ اپنی رحمت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے اس مہینہ کو شہر اللہ (خدا کا مہینہ) کہا ہے ، اگرچہ سارے مہنیے خدا ہی کے مہینے ہیں لیکن چونکہ ماہ رمضان کو ایک خاص شرف و فضیلت حاصل ہے اور اس مہینہ میں خدا سے نزدیک ہونے اور عبودیت و اخلاص کے زیور سے آراستہ ہونے کے تمام تر مواقع فراہم ہوتے ہیں، اسی لیے روایات میں اس مہینے کو شہر اللہ کہا گیا ہے۔
یہ مہینہ برکت، رحمت اور مغفرت کے ساتھ آتا ہے۔ برکت کا مطلب اعمال میں اضافہ، رحمت کا مطلب اللہ کی خاص مہربانی اور مغفرت کا مطلب گناہوں کی بخشش ہے۔ اسی مہینے میں اللہ بندوں کو عزت عطا کرتا ہے اور انہیں اہل کرامت میں شمار کرتا ہے، یعنی اللہ کے نزدیک ان کا مقام بلند ہو جاتا ہے۔
رسول خدا کے فرمان کے مطابق اس مہینے میں بندے کی سانسیں تسبیح شمار ہوتی ہیں اور اس کی نیند عبادت کے درجے میں لکھی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ رمضان میں بندے کی عام حالت بھی عبادت کے دائرے میں آ جاتی ہے۔ اسی طرح اس مہینے میں بندے کے اعمال قبول کیے جاتے ہیں اور اس کی دعائیں اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہیں۔
ماہ رمضان کی ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے تاکہ بندے کے لیے گناہ سے بچنا آسان ہو جائے۔
آخر میں رسول خدا نے واضح فرمایا کہ یہ وہ مہینہ ہے جسے اللہ نے عظمت دی، اس کی تکریم کی، اسے شرافت عطا کی اور تمام مہینوں پر فضیلت دی۔ یہی فضیلت ماہ رمضان کو دیگر تمام مہینوں سے ممتاز بناتی ہے۔
الأمالی، شیخ صدوق، جلد 1، صفحہ 93

