خطبۂ شعبانیہ میں رسول خدا نے اس ماہ کے ایسے آداب بیان فرمائے ہیں جو بندے کے عمل، نیت اور رویّے کو درست سمت عطا کرتے ہیں۔ اور بندے کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ معبود کی بارگاہ میں اس مہینے میں اپنے آپ کو خالص اور پاک بنا کر پیش کرسکے۔
اس ماہ کی پہلی خصوصیت ثواب کی کثرت ہے۔ رسول خدا کے فرمان کے مطابق، جو شخص اس مہینے میں قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرتا ہے، اسے دوسرے مہینوں میں پورا قرآن ختم کرنے کے برابر اجر عطا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک فریضہ ادا کرنے پر ستر فرائض کے برابر ثواب اور ایک مستحبی نماز کے بدلے جہنم سے نجات لکھی جاتی ہے۔ اس مہینے میں کثرت سے صلوات پڑھنے والے کے اعمال کا ترازو قیامت کے دن بھاری کر دیا جاتا ہے، اور نماز کے اوقات میں مانگی جانے والی دعا کو بہترین اوقات کی دعا قرار دیا گیا ہے۔[1]
خطبۂ شعبانیہ میں استغفار اور توبہ پر بھی خاص تاکید کی گئی ہے۔ بندوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ گناہوں کے بوجھ سے ان کی پیٹھیں بھاری ہو چکی ہیں، لہٰذا طویل سجدوں کے ذریعے اس بوجھ کو ہلکا کریں۔ فرمایا گیا کہ انسان کی جان اس کے اعمال کے گروی ہے اور استغفار کے ذریعے ہی اس رہن کو آزاد کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے اس مہینے میں مغفرت سے محرومی کو بدبختی قرار دیا گیا اور گناہوں سے اللہ کی طرف توبہ کا حکم دیا گیا ہے۔[2]
انفرادی آداب میں تقویٰ کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ بندے کو اپنی بھوک اور پیاس کے ذریعے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسی طرح واضح فرمایا گیا کہ اس مہینے کا سب سے افضل عمل اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز ہے۔ زبان، آنکھ اور کان کو حرام سے محفوظ رکھنے کا حکم دے کر تقویٰ کے عملی تقاضے بیان کیے گئے ہیں۔[3]
[1] ۔ الأمالی، ج 1، ص 93
[2] ۔ الأمالی، ج 1، ص 93
[3] ۔ الأمالی، ج 1، ص 93

