ماہ رمضان کی اخلاقی تربیت
خطبۂ شعبانیہ میں رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے اس ماہ کے وہ آداب بیان فرمائے جو معاشرے میں رحم، تعاون اور اخلاقی توازن کو مضبوط کرتے ہیں۔
اس ماہ کا پہلا اجتماعی ادب صدقہ دینا اور فقیر و مسکین افراد کی مدد کرنا ہے۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے محتاج افراد کو نظرانداز نہ کرنے کی تاکید فرمائی۔ آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کو اجتماعی ہمدردی کی بنیاد قرار دیا۔[۱]
اسی طرح روزہ دار مومن کو افطار کرانا ایک عظیم عمل قرار دیا گیا ہے۔ اس عمل پر اللہ کی طرف سے غلام آزاد کرنے اور گزشتہ گناہوں کی مغفرت کا ثواب بیان ہوا ہے۔
اگر کوئی زیادہ استطاعت نہ رکھتا ہو تو معمولی افطار بھی کافی قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً کھجور کا آدھا حصہ یا پانی کا ایک گھونٹ، تاکہ کوئی اس خیر سے محروم نہ رہے۔[۲]
ماہِ رمضان میں حسنِ اخلاق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اپنے اخلاق کو بہتر بناتا ہے، قیامت کے دن اس کے لیے صراط سے گزرنا آسان ہوگا۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ اجتماعی زندگی میں اچھا برتاؤ نجات کا سبب بنتا ہے۔[۳]
صلہ رحمی، بزرگوں کا احترام اور چھوٹوں پر رحم بھی ان اجتماعی آداب میں شامل ہے۔ خاندان اور معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ درست رویہ رکھنے کو عبادت کے دائرے میں شمار کیا گیا ہے۔
اسی طرح یتیموں کے ساتھ شفقت کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ معاشرہ عدل اور مہربانی پر قائم رہے۔[۴]
آخر میں دوسروں کو اذیت نہ دینے پر خاص تاکید کی گئی ہے۔ جو شخص اس ماہ میں اپنی برائی کو لوگوں سے دور رکھتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر اپنا غضب روک لے گا۔
یہی اجتماعی آداب ماہ رمضان کو اصلاح معاشرہ کا مہینہ بناتے ہیں۔[۵]
[۱] الأمالی، ج ۱، ص ۹۳
[۲] الأمالی، ج ۱، ص ۹۳
[۳] الأمالی، ج ۱، ص ۹۳
[۴] الأمالی، ج ۱، ص ۹۳
[۵] الأمالی، ج ۱، ص ۹۳
