سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

Imam-sadiq-as-1

عباسی دور میں فرزند امیرالمومنین امام جعفر صادق علیہ‌السلام کی مظلومیت

امام جعفر صادق علیہ‌السلام کی حیات مبارکہ علمی و دینی خدمات کے ساتھ ساتھ شدید مظلومیت اور سخت حالات سے بھی عبارت ہے۔

امام جعفر صادق علیہ‌السلام کی مظلومیت؛ عباسی دور کی سازشیں اور اہلِ بیت علیہم‌السلام پر مظالم

عباسی دور میں ایسے متعدد واقعات پیش آئے جن میں اہلِ بیت علیہم‌السلام کے خلاف سازشیں نمایاں ہوئیں۔

ان واقعات میں جھوٹے دعوے، گھروں پر حملے اور قتل کے منصوبے شامل تھے۔ اسی دور میں شیعوں پر بھی شدید مظالم اور سختیاں کی گئیں۔

ان حالات کا ذکر معتبر روایات میں محفوظ ہے، جو اس دور کی کیفیت کو واضح کرتے ہیں۔

معلی بن خنیس بیان کرتے ہیں کہ جب بنو عباس نے سیاہ پرچموں کے ساتھ قیام کا ارادہ کیا، لیکن ابھی اقتدار میں نہیں آئے تھے۔

تو امام جعفر صادق علیہ‌السلام نے فرمایا:

افسوس! افسوس! میں ان لوگوں کا امام نہیں ہوں۔ کیا انھیں معلوم نہیں کہ سفیانی کو صرف وہی(امام مہدی) قتل کریں گے؟۔[۱]

اس روایت سے بلکل واضح ہوتا ہے کہ اہل بیت علیہم‌السلام کے نام سے کیے جانے والے دعوے حقیقت امامت سے جدا تھے۔

امام جعفر صادق علیہ‌السلام کے گھر کو آگ لگانے کا واقعہ

اسی دور میں منصور دوانیقی نے اپنے گورنر حسن بن زید کو حکم دیا کہ جعفر بن محمد، یعنی امام جعفر صادق علیہ‌السلام، کے گھر کو آگ لگا دی جائے۔

چنانچہ گھر میں آگ لگادی گئی اور آگ دروازے اور دہلیز تک پہنچ گئی۔[۲]

منصور دوانیقی نے امام صادق کو کیوں قتل کرنا چاہا؟

اسی طرح امام رضا علیہ‌السلام اپنے والدِ گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ منصور دوانیقی نے امام جعفر صادق علیہ‌السلام کو دربار میں طلب کیا۔

اس کا مقصد امام علیہ‌السلام کو قتل کرنا تھا۔ منصور نے ربیع کو حکم دیا کہ اشارہ ملتے ہی امام علیہ‌السلام کی گردن اڑا دی جائے۔ [۳]

فرزندان امیرالمومنین علیہ‌السلام ہمیشہ سے ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں ظلم کا شکار رہے۔

شیخُ الائمہ حضرت امام صادق علیہ‌السلام سے دشمنی دراصل امیرالمومنین علیہ‌السلام سے دشمنی کا تسلسل تھی۔ آپ علیہ‌السلام کو بھی اسی بغض و عداوت کا نشانہ بنایا گیا۔

دشمنان اہل بیت علیہم‌السلام نے امیرالمومنین علیہ‌السلام سے اپنی دشمنی کا بدلہ امام صادق علیہ‌السلام سے بھی لیا۔

امام صادق علیہ‌السلام کی وصیت

ایسا دور تھا کہ امام علیہ‌السلام کو اپنی وصیت میں بھی تقیہ اختیار کرنا پڑا۔ منصور دوانیقی نے حکم دیا تھا کہ اگر وصیت میں کسی ایک شخص کو وصی مقرر کیا گیا ہو، تو اسے پیش کیا جائے۔

اس کے بعد اسے قتل کردیا جائے۔ تاہم جب امام جعفر صادق علیہ‌السلام کی وصیت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو پانچ افراد کے نام سامنے آئے۔

ان میں منصور دوانیقی، محمد بن سلیمان، عبداللہ، امام موسیٰ کاظم علیہ‌السلام اور حمیدہ شامل تھے۔[۴]

اسی دور میں سادات حسنی اور شیعوں پر بھی سختیاں کی گئیں، یہاں تک کہ گرفتار ہوئے افراد کو عمارتوں کی دیواروں میں چن دیا جاتا تھا۔[۵]

آج بھی دشمنان اہلبیت اپنے آباؤ اجداد کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، شیعوں پر اسی طرح ظلم و ستم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ تمام روایات امام جعفر صادق علیہ‌السلام کی مظلومیت اور اس دور کے سخت حالات کی عکاسی کرتی  ہیں۔

] الکافی، شیخ کلینی، ج ۸، ص۳۳۱
[۲] الکافی، شیخ کلینی، ج ۱، ص ۴۷۳
[۳] عیون أخبار الرضا علیہ‌السلام، شیخ صدوق، ج ۱، ص ۳۰۴
[۴] الکافی، شیخ کلینی، ج ۱، ص ۳۱۰
[۵] عیون أخبار الرضا علیہ‌السلام، شیخ صدوق، ج ۱، ص۱۱۱

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے