اس مضمون میں آپ ایک حیرت انگیز روایت پڑھیں گے جو امیرالمومنین علیہالسلام کی خفیہ عبادت اور اس حالت کے بارے میں ہے جو ان پر غالب آتی تھی اور آپ ان کے خالق کے ساتھ اس تعلق کی حقیقت سے آشنا ہوں گے جو بندے اور معبود کے درمیان اعلیٰ ترین نوعیت کا تعلق ہے۔
امیرالمومنین علیہالسلام کی عبادت
امیرالمومنین علیہالسلام کی عبادت بھی اُن کی دیگر خصوصیات کے مانند صرف اُن ہی سے مخصوص تھی، انقطاع الی الله، یعنی ہر شے سے کٹ کر صرف خدائے عزوجل کی طرف متوجہ ہونا، اُنہیں خصوصیات میں سے ایک تھی جس کی وجہ سے امیرالمومنین علیہالسلام مشہور تھے۔
پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے بعد دنیا نے ایسا کوئی انسان نہیں دیکھا جو امیرالمومنین علیہالسلام کے مانند فضیلتوں کو اپنے اندر جمع کیے ہوئے ہو، آپ علیہالسلام نے اولین لوگوں پر سبقت حاصل کی اور آخرین کو عاجز و ناتواں کر دیا، آپ علیہالسلام کی فضیلتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ شمار کی جا سکیں اور آپ علیہالسلام کی صفات لا محدود ہیں۔
دعا، مناجات کے وقت خدا کے خوف سے امیرالمومنین علیہالسلام کی عجیب کیفیت
عروہ بن زبیر ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابو درداء سے نقل کرتے ہیں:
میں نے خود علی بن ابیطالب علیہالسلام کو شوَیحِطاتِ نجار[۱] کے مقام پر دیکھا کہ آپ علیہالسلام نے اپنے ساتھیوں اور غلاموں سے کنارہ کشی اختیار کی اور اپنے ساتھیوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اور کھجوروں کے درختوں کے پیچھے تنہائی اختیار کی، اچانک مجھے گمان ہوا کہ میں نے انہیں کھو دیا ہے اور وہ مجھ سے دور ہو گئے ہیں، میں نے کہا کہ یقیناً وہ اپنے گھر واپس چلے گئے ہوں گے۔
اسی لمحے میں نے ایک غمگین، دردناک آہ و زاری اور مناجات کی آواز سنی:
میرے معبود! تو نے میرے کتنے گناہ دیکھے اور ان کے مقابلے میں مجھے اپنے عذاب میں مبتلا نہیں کیا۔ اور میں نے کتنی ہی نافرمانیاں کیں جنہیں تو نے اپنے لطف و کرم سے آشکار نہ ہونے دیا۔ اے میرے اللہ! اگر میری عمر تیری نافرمانی میں دراز ہو گئی ہو اور گناہوں نے میرے نامہ اعمال کو بوجھل کر دیا ہو، تو بھی مجھے تیری بخشش کے سوا کوئی تمنا نہیں، اور تیری رضا کے علاوہ کسی اور چیز کی امید نہیں۔
راوی کہتا ہے:
اس آواز نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا، میں اُس کے پیچھے گیا، دیکھا کہ علی بن ابیطالب، امیرالمومنین علیہالسلام ہیں،میں نے خود کو اُن سے چھپا لیا اور آہستگی سے ان کے پیچھے چل پڑا، میں نے دیکھا کہ آپ نے آدھی رات کی تاریکی میں چند رکعت نماز ادا کی اور دعا اور گریہ و زاری میں مشغول ہو گئے۔
امام علیہالسلام اپنی مناجات میں خدائے عزوجل سے عرض کرتے تھے:
معبود! جب میں تیری عفو و بخشش کے بارے میں سوچتا ہوں، تو مجھے اپنے گناہ آسان اور چھوٹے محسوس ہوتے ہیں لیکن جب تیرا عتاب یاد آتا ہے تو میرے لیے بلائیں عظیم اور سنگین ہو جاتی ہیں۔
پھر فرمایا: آہ! اگر میں اپنے نامۂ اعمال میں ایسا گناہ دیکھوں جسے میں بھول چکا ہوں اور تو نے اسے شمار کیا ہو اور خدا ارشاد فرمائے: اسے پکڑ لو، افسوس اُس بلا پر کہ اُس وقت نہ رشتہ دار بچا سکتے ہیں، نہ قبیلہ کوئی فائدہ دے سکتا ہے، اور جب ندا دی جائے گی، تو کوئی بھی تیری پکڑ سے بچانے والا نہ ہوگا۔
آپ علیہالسلام مزید فرماتے ہیں: آہ اُس آگ سے جو جگر اور کلیجے کو جلا دیتی ہے! آہ اُس آگ سے جو تجھے (نافرمان بندے) جلانے کے لیے تیار کی گئی ہو! آہ اُس گریہ و زاری اور ہاتھ پیر مارنے سے جو آگ کی لپٹوں کے درمیان ہو!
راوی کہتا ہے:
اس کے بعد حضرت اس طرح گریہ کرنے لگے کہ میں نے ان میں کوئی حرکت یا جنبش نہ دیکھی، میں نے اپنے دل میں کہا: شاید شب بیداری کے باعث سو گئے ہوں، سوچا کہ نماز صبح کے وقت انہیں جگاؤں گا، اس وقت جب میں ان کے قریب گیا تو انہیں خشک لکڑی کی طرح بے حس و حرکت پایا، جتنا بھی ہلایا، انہوں نے کوئی حرکت نہ کی، میں نے کوشش کی کہ انہیں بٹھاؤں، لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔
میں نے دل میں کہا: إنا لله وإنا إلیه راجعون، خدا کی قسم! علی بن ابیطالب علیہالسلام دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔
میں دوڑتا ہوا حضرت کے گھر کی طرف گیا تاکہ اہل خانہ کو خبر دوں، وہاں حضرت فاطمہ زہرا سلاماللهعلیها کو دیکھا۔
انہوں نے فرمایا: ابو درداء! کیا ہوا؟
میں نے انہیں سارا ماجرا بتایا۔
حضرت فاطمہ سلاماللهعلیها نے فرمایا: خدا کی قسم! یہ وہی حالتِ خلسہ ہے جو خدا کے خوف کے سبب ان پر طاری ہو تی ہے۔
پھر پانی لایا گیا اور حضرت کے چہرے پر چھڑکا گیا یہاں تک کہ انہیں ہوش آ گیا۔ انہوں نے میری طرف دیکھا، میں رو رہا تھا۔
فرمایا: ابو درداء! تم کیوں رو رہے ہو؟
میں نے کہا: اس حالت کو دیکھ کر جو آپ پر طاری ہوتی ہے۔
فرمایا: ابو درداء! تم مجھے اس وقت کیسے دیکھو گے، جب مجھے حساب و کتاب کے لیے بلایا جائے گا اور مجرموں کو عذاب دیا جا رہا ہوگا، اور میں خداوندِ جبار کے حضور کھڑا ہوں گا اور دوست احباب مجھ سے جدا ہو چکے ہوں گے اور دنیا والے مجھے چھوڑ چکے ہوں گے،اس مقام پر تمہیں میرے حال پر زیادہ رحم آنا چاہیے، اُس ذات کے مقابل جس پر کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔
ابو درداء کہتے ہیں: خدا کی قسم! میں نے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے کسی بھی صحابی کو ایسی حالت میں نہیں دیکھا۔[۲]
امیرالمومنین علیہالسلام کے ذریعے خداوند کی عبادت کی اعلیٰ ترین حقیقت؛ شکرگزاری پر مبنی عبادت
خداوند عزوجل امیرالمومنین علیہالسلام کی روح میں جلوہگر تھا۔ اسی لیے آپ علیہالسلام کی عبادت خداوند کی محبت اور اشتیاق کا مظہر تھی۔ آپ علیہالسلام نہ عذاب الہی کے خوف سے خدا کی عبادت کرتے تھے اور نہ ہی جنت کی لالچ میں۔ آپ علیہالسلام، پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی مانند، خداوند متعال سے رابطے میں اعلیٰ ترین درجات پر فائز تھے۔
امیرالمومنین علیہالسلام اپنے اور خداوند متعال کے تعلق کی حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں:
اے میرے پروردگار! میں نے تیری عبادت نہ عذاب کے خوف سے کی ہے اور نہ ہی ثواب کی لالچ میں؛ بلکہ میں نے تجھے عبادت کے لائق پایا، اس لیے تیری عبادت کی۔[۳]
بے شک عبادت کی یہ قسم یقین سے برتر اور ایمان سے زیادہ قیمتی ہے۔
امیرالمومنین علیہالسلام عبادت کی اقسام کو اس طرح بیان فرماتے ہیں:
بیشک کچھ لوگ خداوند کی عبادت لالچ کی وجہ سے کرتے ہیں، یہ تاجروں کی عبادت ہے۔ کچھ لوگ خوف کی وجہ سے عبادت کرتے ہیں، یہ غلاموں کی عبادت ہے۔ کچھ لوگ شکرگزاری کے طور پر خدا کی عبادت کرتے ہیں، یہ آزاد انسانوں کی عبادت ہے۔[۴]
امیرالمومنین علیہالسلام کی عبادت اسی تیسرے درجے کی عبادت تھی جس کا سرچشمہ معبود کے شایستہ اور سزاوار عبادت ہونے کے شعور سے تھا۔
بس یہی ایک دلیل کافی ہے، ورنہ امیرالمومنین علیہالسلام کے فضائل کا حال تو وہی ہے جو رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
اگر تمام نیزے قلم بن جائیں، تمام سمندر سیاہی بن جائیں، اور تمام جنّات شمار کرنے والے اور تمام انسان لکھنے والے ہو جائیں، تب بھی علی بن ابیطالب کے فضائل کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔[۵]
امیرالمومنین علیہالسلام کا اخلاق، رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی سیرت مبارکہ کی ایک روشن جھلک تھی، کیونکہ انہوں نے آپ صلیاللہعلیہوآلہ کے گھر میں پرورش پائی اور رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے شریفانہ اخلاق کے دسترخوان پر زندگی بسر کی اور نشوونما پائی۔ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے ان تمام برسوں میں امیرالمومنین علیہالسلام کو عظئم اور بلند آداب سکھائے تاکہ ان کا اخلاق اور زیادہ بلند ہو جائے۔ یہ فضائل روز بروز زیادہ پروان چڑھتے رہیں اور ان میں مزید قوت اور پختگی آتی گئی جس کے نتیجہ میں وہ عظیم شخصیت بنی جو رہتی دنیا تک باقی رہے گی اور قیامت تک اس جیسا کوئی نہیں ہو سکتا۔
مآخذ
[۱] ۔ الشَّوْحَطُ : نوعی درخت که از آن کمان میسازند
[۲] ۔ امالی، شيخ صدوق: مؤسسه بعثه مركز الطباعه ونشر فی مؤسسه بعثه الامالی، طبعه: الاولى ۱۴۱۷ه. ق، ص۱۳۷
[۳] ۔ بحار الانوار، علامه مجلسی: دارإحياء التراث العربی بيروت لبنان، الطبعة الثالثه المصححه، ۱۴۰۳ه. ۱۹۸۳م، ج۴۱، ص۱۴
[۴] ۔ نهج البلاغه، خطب امیرالمومنین علیہالسلام: دارالمعرفه للطباعه ونشر بيروت لبنان، ج۴، ص۵۳
[۵] ۔ مناقب امیرالمومنین علیہالسلام، محمد بن سليمان كوفی: مجمع احياء الثقافه اسلاميه، الطبعه الاولى محرم الحرام ۱۴۱۲. ايران – قم، ج۱، ص۵۵۷