سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کا خطبہ عید فطر

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے کسی عید فطر کو ایک خطبہ ارشاد فرمایا کہ جس میں مومنین کو بشارت اور باطلوں کو انذار فرمایا۔

خَطَبَ أميرُ المُؤمِنينَ عَلِيُّ ابنُ أبي طالِبٍ عليه السلام يَومَ الفِطرِ فقالَ :
امام صادق علیہ‌السلام سے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے عید کے دن ایک خطبہ ارشاد کرتے ہوئے فرمایا:

بسم الله الرحمن الرحیم

أَيُّهَا اَلنَّاسُ، إِنَّ يَوْمَكُمْ هَذَا يَوْمٌ يُثَابُ فِيهِ اَلْمُحْسِنُونَ وَ يَخْسَرُ فِيهِ اَلْمُبْطِلُونَ، وَ هُوَ أَشْبَهُ بِيَوْمِ قِيَامِكُمْ،

فَاذْكُرُوا بِخُرُوجِكُمْ مِنْ مَنَازِلِكُمْ إِلَى مُصَلاَّكُمْ خُرُوجَكُمْ مِنَ اَلْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّكُمْ،

وَ اُذْكُرُوا بِوُقُوفِكُمْ فِي مُصَلاَّكُمْ وُقُوفَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّكُمْ، وَ اُذْكُرُوا بِرُجُوعِكُمْ إِلَى مَنَازِلِكُمْ رُجُوعَكُمْ إِلَى مَنَازِلِكُمْ فِي اَلْجَنَّةِ!

عِبَادَ اَللَّهِ، إِنَّ أَدْنَى مَا لِلصَّائِمِينَ وَ اَلصَّائِمَاتِ أَنْ يُنَادِيَهِمْ مَلَكٌ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ: أَبْشِرُواعِبَادَ اَللَّهِ؛

فَقَدْ غُفِرَ لَكُمْ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِكُمْ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَكُونُونَ فِيمَا تَسْتَأْنِفُونَ؟!

اے لوگو! آج کا دن نیکوکاروں کے انعام اور بدکاروں کے نقصان کا دن ہے، جو تمھاری قیامت سے مشابہ ہے۔

گھروں سے نماز گاہ کی طرف نکلتے وقت، قبروں سے رب کی بارگاہ میں نکلنے کو یاد کرو۔

نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت، خدا کے حضور پیشی کو یاد کرو۔

گھروں کو واپسی کے وقت، جنت میں اپنے گھروں کی طرف واپسی کو یاد کرو۔

اے اللہ کے بندو! روزہ دار مردوں اور عورتوں کے لیے کم ترین بشارت یہ ہے کہ ماہ رمضان کے آخری دن ایک فرشتہ صدا دیتا ہے:

اے بندگانِ خدا! خوش ہو جاؤ کہ تمھارے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے، اب دیکھنا کہ تم اپنے مستقبل کا آغاز کیسے کرتے ہو!

تنبيه الخواطر و نزهة النواظر, جلد 2، ص 157

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے