نجف اشرف میں مساجد کی کثرت کی ایک منطقی وجہ یہ بھی ہے:
گزشتہ ادوار کے مراجع تقلید اور معروف علماء حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے صحن یا مزار مقدس میں نماز جماعت ادا نہیں کرتے تھے۔ وہ اس عمل کو زائرین کے لیے باعث زحمت اور محدودیت سمجھتے تھے۔
مثال کے طور پر، «شیخ جعفر کاشف الغطاء» اپنی کتاب «کشف الغطاء» میں اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
«حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے صحن میں نماز جماعت پڑھنا زائرین کے حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے!»
البتہ یہ علماء، مجتہدین اور دیگر شخصیات اپنے اپنے مخصوص نظریات رکھتے تھے۔ مگر یہی صورتِ حال اس بات کا سبب بنی کہ نجف اشرف کے سابق مراجع اور علمائے کرام نے چاروں محلوں میں اپنی ذاتی مساجد تعمیر کروائیں۔ وہاں وہ نماز ادا کرنے کے ساتھ ساتھ حوزوی دروس بھی دیا کرتے تھے۔

نجف اشرف کی مشہور اور قدیم تاریخی مساجد
اگر ہم نجف اشرف کے چاروں مشہور محلوں کی قدیم اور معروف مساجد کا ذکر کریں تو ہمیں مشراق کی طرف جانا ہوگا۔ یہ نجف اشرف کا قدیم ترین محلہ ہے، جہاں شہر کی متعدد تاریخی مساجد واقع ہیں۔سارے قدیم شہر، خصوصاً محلہ مشراق میں واقع مساجد میں شیخ الطائفہ ابو جعفر طوسی کی مسجد سب سے قدیم شمار ہوتی ہے۔ حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام سے متصل مسجد الرأس، مسجد عمران بن شاہین اور مسجد خضرا کے علاوہ، سب سے قدیم مسجد شیخ الطائفہ ابو جعفر طوسی کی مسجد ہے۔ شیخ ابو جعفر طوسی کا انتقال ۴۶۰ ہجری میں ہوا تھا۔
دوسری قدیم مسجد محلہ براق میں واقع «مسجد طریحی»ہے۔ جو اپنے زمانے کے عظیم المرتبت مرجع، محقق شیخ فخرالدین طریحی سے منسوب ہے۔ جنھوں نے ۱۰۸۵ ہجری میں وفات پائی۔ بعض لوگ اس مسجد کی نسبت محقق کرکی (متوفی ۹۴۰ ہجری) سے بھی دیتے ہیں۔
محلہ عمارہ کی دو اہم تاریخی مساجد
محلہ عمارہ میں دو اہم تاریخی مساجد ہیں:
- جن میں سب سے پہلی مسجد، مسجد جواہری ہے۔ جسے عظیم المرتبت مرجع شیخ محمد حسن صاحب جواہر (متوفی ۱۲۶۴ ہجری) نے تعمیر کروائی۔
- دوسری مسجد، مسجد کاشف الغطاء ہے۔ جو مرجع تقلید شیخ موسی آل کاشف الغطاء (متوفی ۱۳۳۱ ہجری) نے بنوائی تھی۔ جو شیخ جعفر کاشف الغطاء کے فرزند تھے۔
محلہ حویش کے آخر میں «مسجد ہندی» واقع ہے۔ جو علامہ شیخ حسین نجفی (متوفی ۱۲۵۱ ہجری) کے دور میں بنی تھی۔ بعد میں سید محسن حکیم نے اس کی توسیع اور تجدید کرائی۔
مسجد انصاری (ترکوں کی مسجد): یہ مسجد مرجع اعلیٰ، شیخ مرتضی انصاری (متوفی ۱۲۸۱ ہجری) نے تعمیر کرائی تھی۔