یہ تحریر مسجد خضراء کے بارے میں چند اہم سوالات کے جوابات پیش کرتی ہے، جیسے:
نجف اشرف کی قدیم ترین مسجد کون سی ہے؟
اس مسجد کا نام «خضراء»کیوں رکھا گیا؟
حرم امیرالمومنین علیہ السلام کے صحن مقدس کی سیریز کی اس کڑی میں، ہم مسجد خضراء کے بارے میں معلومات پیش کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں ہم ان اہم سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کریں گے:
نجف اشرف کی قدیمی ترین مسجد کون سی ہے؟ اس مسجد کا نام «خضراء»کیوں رکھا گیا؟ وغیره وغیره دیگر اہم معلومات اور تفصیلات آپ کی خدمت میں پیش کی جائیں گی۔
مسجد خضرا
مسجد خضراء حرم مطہر امیرالمومنین علیہ السلام کا ایک اہم تاریخی مقام ہے جو صحن حیدری سے ملحق ہے۔ حرم علوی کے تاریخی ریکارڈ میں اس مسجد کے بارے میں صراحت ک ساته کها گیا ہے: «یہ مسجد صحن حیدری سے ملحق ہے اور حرم امیرالمومنین علیہ السلام کے مشرقی دیوار پر«دروازہ ساعت» (گھڑی والے دروازے) کے دائیں جانب واقع ہے۔ یہ مسجد قدیم دور سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس کا نام کیوں مسجد خضرا رکها گیا اس سلسله میں مختلف تاویلات پیش کی گئی هیں نیز اس کی تعمیر کی اصل وجہ اور بانی کے بارے میں قطعی معلومات دستیاب نہیں۔»
اس مسجد کے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ حرم امیرالمومنین علیہ السلام کے صحن سے باہر کی طرف کھلتا ہے اور دوسرا دروازہ صحن شریف کے اندر کی طرف کھلتا ہے، جو شمال مشرقی دیوار پر دوسرے ایوان کے قریب میں واقع ہے۔
بعض مورخین کا کہنا ہے کہ اس مسجد کا نام "خضرا” رکھنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ چونکہ یہ مسجد حرم امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ ہی تعمیر ہوئی تھی، اس لیے ابتدا میں اسے "مسجد خضره” کہا جاتا تھا، بعد میں اس نام میں تبدیلی آئی۔
مشہور ہے کہ مسجد میں ایک سبزہ (گھاس یا پودا) موجود تھا اسی کی وجه سے اس کو یه پهچان ملی۔
اسی طرح یه بھی نقل هوا هے که ایک ہندی درویش نے مسجد کے صحن میں یہ سبزہ لگایا تھا اسی وجہ سے اسے «خضراء» (سبز) کہا جانے لگا۔
اس سلسله میں ایک تیسری رائے بھی پائی جاتی ہے اور وہ یه ہے کہ یہ مسجد”عمران بن شاهین” کی بہن «خضراء»نے بنوائی تھی۔
«شیخ جعفر محبوبہ »کہتے ہیں که : کتاب «الرویا» کے مصنف «علی بن مظفر نجار »نے اس مسجد کی نسبت «براقی» کی طرف دیتے ہوئے کہتے ہیں که علی بن مظفر نجار کے حصے کی زمین غصب ہوگئی، وه امیرالمومنین علیه السلام کی زیارت سے مشرف ہوئے اور آپ کی بارگاه میں اس بات کی شکایت کی اور نذر مانی کہ اگر ان کی زمین واپس مل گئی تووه اپنی طرف سے مسجد بنوائیں گے۔ انهیں ان کے حصے کی زمین واپس مل گئی، مگر انہوں نے اپنی نذر پوری نہیں کی۔ تب خواب میں امیر المومنین علیه السلام زیارت ہوئی جیسے که خواب میں کوئی ان سےکہہ رہا ہے کہ «اے علی! اپنی نذر پوری کرو اور اس طرح انہوں نے امیر المومنین علیہ السلام کی محبت میں مسجد کے بنانے کا کام شروع کیا۔»
لیکن «سید خرسان » کہتے ہیں که یہ خواب اور یه کرامت مسجد خضراء سے متعلق نہیں هے۔
کتاب «العراق کما رسمه المطراقي زادة»میں مطراقی کے ۹۴۱ ہجری (۱۵۳۴ عیسوی) کے عراق کے سفر کے دوران بنائی گئی ایک تصویر میں ایلخانیوں کے ۷۶۰ ہجری میں تعمیر کردہ حرم علوی کی عمارت دکھائی گئی ہے۔ اس میں ایک خاص نشان موجود ہے جو آج کی مسجد خضراء کی جگہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ڈاکٹر عماد عبدالسلام رؤف مسجد کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ «حرم امیرالمومنین علیہ السلام کے بیرونی صحن کے دائیں جانب ایک اونچے چبوترے پر ایک مسجد واقع ہے۔ یہ چھ کونوں والی مسجد ہے جس کے اوپر اینٹ کے رنگ کی زینتی پٹی اور اس کے اوپر سبز رنگ کی ایک اور پٹی بنی ہوئی ہے۔ چھت کے درمیان میں ایک لمبا گنبد ہے جو نصف گول شکل کا ہے اور نیلے رنگ کا ہے جس پر گول نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ گنبد کے دائیں طرف ایک مینار ہے جس کا جسم سبز رنگ کا ہے اور اس پر سبز اور بھورے رنگ کی سجاوٹ کی گئی ہے۔ نیز ایک کھلی جگہ میں ایک حوض ہے جسے ایک چھوٹے سبز گنبد سے ڈھانپا گیا ہے۔»
مسجد خضراء کی تعمیرنو
گذشتہ صدیوں میں مسجد خضراء کی متعدد بار مرمت کی گئی۔ ۱۳۵۲ ہجری (۱۹۳۴ عیسوی) میں اوقاف کے اخراجات اورحاج محسن شلاش نجفی کی نگرانی میں اس کی مرمت اور تعمیر نو ہوئی۔
۱۹۴۹ عیسوی میں عراقی حکومت نے مسجد کا ایک تہائی حصہ گرا کر حرم امیرالمومنین کے گرد بنائی جانے والی سڑک کے لیے استعمال کیا۔ اس منصوبے میں کئی دکانیں، مکانات اور قبرستانوں کو بھی شامل کیا گیا۔
۱۹۶۵ عیسوی میں جب پرانی عمارت مکمل طور پر گرادی گئی تو آیت اللہ العظمی سید ابوالقاسم خوئی نے اس کی دوبارہ تعمیر کا حکم دیا۔ آقائے خوئی اور شیخ احمد انصاری کی نگرانی میں تعمیراتی کام انجام پایا۔ آیت اللہ خوئی یہاں نماز جماعت بھی پڑھاتے تھے اور اپنے علمی دروس بھی یہیں دیا کرتے تھے۔ اسی مسجد میں ان کے سینکڑوں شاگردوں نے اجتہاد کی سند حاصل کی، جن میں سے بعض نجف اشرف اور بعض قم المقدسہ کے مرجع تقلید بنے۔
نجف اشرف کی مشہور اور قدیم مساجد
نجف اشرف کے چار اہم محلوں کی مشہور اور قدیم مساجد کا ذکر کیا جائے تو سب سے پہلے قدیم ترین محلہ "مشراق” کا رخ کرنا ہوگا۔
سب سے قدیم مسجد مرجع عالیقدر ابو جعفر طوسی(وفات ۴۶۰ ہجری)کی مسجد ہے ۔
یہ حرم مطہر سے ملحق تین مساجد (مسجد الرأس، مسجد عمران شاہین اور مسجد خضراء) کے علاوہ ہے۔
شہر نجف کے قدیم حصے میں، خاص طور پر محلہ مشراق کی حدود میں (حرم امیرالمومنین علیہ السلام سے ملحق تین مساجد – مسجد الرأس، مسجد عمران بن شاہین اور مسجد خضراء – کو چھوڑ کر) سب سے قدیم مسجد مرجع عالی قدر ابو جعفر طوسی کی مسجد ہے جن کی وفات ۴۶۰ ہجری میں هوئی تھی۔
محلہ عمارہ میں ہماری دو مشہور اور قدیم مساجد ہیں: پہلی مسجد "جواہری” ہے جسے مرجع عالی قدر شیخ محمد حسن، صاحب کتاب «جواہر»نے تعمیر کروایا تھا۔ یه ۱۲۶۴ ہجری میں وفات پا گئےتھے۔
دوسری مسجد جو اس محلے میں موجود ہے، وہ "مسجد کاشف الغطاء” ہے۔ اس مسجد کو مرجع تقلید "شیخ موسیٰ آل کاشف الغطاء "نے تعمیر کروایا تھا، جو ۱۳۳۱ ہجری میں وفات پا گئے تھے ۔ شیخ موسیٰ، عالی قدر مرجع "شیخ جعفر آل کاشف الغطاء "کے صاحبزادے تھے۔
محلہ حویش کے آخر میں "مسجد ہندی” واقع ہے۔ یہ مسجد” علامہ شیخ حسین نجفی” کے دور میں تعمیر ہوئی، جو ۱۲۵۱ ہجری میں وفات پا گئےتھے۔ حالیہ عرصے میں مرجع عالیقدر” سید محسن حکیم "نے اس مسجد کی توسیع اور تجدید کا کام کروایا۔
ایک اور مشہور مسجد "مسجد انصاری” ہے جسے "ترکوں کی مسجد” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس مسجد کو مرجع عالی قدر ” شیخ مرتضیٰ انصاری” نے تعمیر کروایا تھا، جن کی تاریخ وفات ۱۲۸۱ ہجری هے۔
یہ مساجد پرانے نجف کی اہم ترین اور قدیم ترین مساجد ہیں۔ جیسا کہ آپ نے ملاحظه فرمایا که یہ سب کی سب اس زمانے کے شیعہ مراجع عظام کے ہاتھوں تعمیر کی گئی تھیں۔
مسجد خضراء کی وجه تسمیه اور اس کا تاریخی پس منظر
عبدالہادی ابراہیمی مسجد خضراء کے نام کے بارے میں کہتے ہیں:اس مسجد کی وجه تسمیہ کے سلسلے میں عام طور پر تین ممکنہ وجوہات پائی جاتی ہیں۔ اس مسجد کو نجفی لب و لہجہ میں "مسجد خضره” کہا جاتا هے اور پرانے لوگ اسے "مسجد خضره یا مسجد جامع خضره” کےنام سے پکارتے تھے ۔
پہلا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ مسجد "خضرہ بنت شاہین” نے تعمیر کروائی تھی، جو "عمران بن شاہین خفاجی” کی بہن تھیں۔ لیکن یہ رائے زیادہ معتبر نہیں ہے۔
دوسرا نظر یہ یه ہے کہ اس نام کی اصل وجہ "مسجد حضرة” ہے، کیونکہ یہ مسجد امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے مقدس صحن سے متصل ہے۔ اس کا شمار آستانہ علوی کے تاریخی آثار میں هوتا ہے۔ جس کے بعد اس کا نام تبدیل ہو کر "مسجد خضرا” ہو گیا۔ یعنی اس کا اصل نام "مسجد خضره” تھا جو بعد میں "مسجد خضرا” بن گیا۔
تیسری رائے یہ ہے کہ اس سے ملحقہ صحن میں پودے اور سبزه اگایا جاتا تھا، اسی وجہ سے اس مسجد کا نام "مسجد خضرا” پڑ گیا۔ یہ اس سلسلے میں موجود مختلف آراء ہیں۔
جس طرح اس کے نام کی وجہ واضح نہیں، اسی طرح اس کی تعمیر کی تاریخ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اسے کس نے اور کب بنوایا تھا؟ تاہم کتاب "العراق کما رسمه المطراقی زاده” جس کی تحقیق "عماد عبدالسلام رئوف” نے کی ہے، اس میں درج ہے کہ مطراقی زادہ (جسے نصوح افندی بھی کہا جاتا ہے) عثمانی سلطان ،سلیمان قانونی کے ہمراہ عراق آیا۔ جب وہ ۹۴۱ ہجری (۱۵۳۴ عیسوی) میں عراق پہنچا تو مطراقی زادہ نے عراق کے مقدس مقامات کی تصاویر بنائیں۔
جب وہ نجف پہنچا، تو شہر کے قدیم حصے کے ساتھ ساتھ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے روضه مقدس کی بھی تصویر کشی کی۔ اس نے اس پینٹنگ میں موجودہ صفوی دور کی تعمیر سے پہلے، ایلخانی دور کی تعمیر کوبھی دکھایا تھا۔ اس کتاب میں شامل اہم تصاویر میں سے ایک مطراقی زادہ کی بنائی ہوئی قدیم آثار کی تصاویر تھیں، جن میں عمران بن شاہین کا رواق بھی شامل ہے جو حرم مطهر کے شمالی دیوار کے سامنے واقع ہے۔ اس نے یہاں مسجد خضرا کی بھی تصویر کشی کی تھی، جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ مسجد امیر المؤمنین علیہ السلام کے حرم مطهر کے ایلخانی دور میں تعمیر ہونے کے زمانے سے موجود تھی۔
مسجد خضرا کی تعمیر نو
جب چار سو سال قبل ۱۰۲۳ ہجری میں، صفوی دور کے موجودہ حرم مطهر کی تعمیر نو کا آغاز ہوا، تو اس توسیعی منصوبے اور موجودہ عمارت کے نئے تعمیراتی ڈیزائن کو مدنظر رکھتے ہوئے، قدیم عمارت کو مکمل طور پر گرا دیا گیا۔
بعد ازاں مسجد خضرا کو نئے سرے سے تعمیر کیا گیا، اور یہ نئی عمارت عراق کی بادشاہت کے دور تک اپنی اصل حالت میں برقرار رہی۔ ۱۹۳۲ء (۱۳۵۲ ہجری) میں عراق کے بادشاہ غازی بن فیصل اول کے دور میں، حاج محسن شلاش کی نگرانی میں اس مسجد کی دوبارہ مرمت و تجدید کی گئی۔
اسی دور میں جب نجف اشرف کے پرانے شہر کی مرکزی سڑکیں تعمیر کی گئیں تو بشمول "دورۃ الصحن” سڑک جو ۱۹۴۹ء میں کھولی گئی تھی ، تو اس وقت اس تعمیراتی عمل کے نتیجے میں مسجد خضرا کا تقریباً ایک تہائی حصہ منہدم ہو گیا۔
اس لیے کچھ وقت بعد مرجع عالی قدر آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئی نے سن ۱۳۸۵ ہجری میں پوری مسجد کو مکمل طور پر گراکر اسے موجودہ شکل میں دوبارہ تعمیر کیا۔ یه تعمیراتی کام علامہ شیخ احمد انصاری کی نگرانی میں انجام پایا ۔
سید موسی بحرالعلوم نے اس تعمیر نو کی تاریخ کو ایک شعر میں درج کیا ہے۔ وہ اس شعر میں کہتے ہیں:
احق بتقدیس للصلاة بیت الغریین للمقدس…
غداة تجدد ارّخته تبارکت من مسجد اقدس
عبادت کے لیے تقدیس کے زیادہ حق دار یہ دونوں گریوں کے گھر ہیں … جس دن یہ تجدید ہوئی، میں نے تاریخ لکھی: مبارک ہو یہ مقدس ترین مسجد”
یہ مسجد آیة الله ابوالقاسم خوئی کے زیر انتظام حوزوی دروس اور نماز جماعت کے لیے مرکز کی حیثیت سے استعمال ہوتی تھی۔ اس مسجد سے دنیائے اسلام کے مختلف ممالک کے سینکڑوں مجتہدین، علماء اور نامور فقہا فارغ التحصیل ہوئے۔
آیت اللہ خوئی کی رحلت کے بعد، یہ مسجد آیت اللہ سید نصراللہ مستنبط کے زیر انتظام نمازِ جماعت اور دینی کلاسز کا مرکز قرار پائی۔ ان کے بعد، مرجع عالیقدر آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی نے بھی یہاں تدریسی خدمات انجام دیں۔
آیت اللہ خوئی کی رحلت ۱۴۱۳ ہجری (۱۹۹۲ عیسوی) میں ہوئی تو آپ کی مقدس باقیات کو حرم امیرالمومنین علیہ السلام کے مشرقی صحن کے شمال میں تیسرے کمرے میں سپرد خاک کیا گیا، جو مسجد خضرا سے مکمل طور پر متصل تھا۔ محمد حسین صغیرنے آپ کی تدفین کا سال ایک قصیدے میں درج کیا ہے۔
انتفاضہ شعبانیہ کے واقعات اور آیت اللہ خوئی کی رحلت کے بعد، بعثی حکومت نے تعمیر کا بہانہ بنا کر اس مسجد کو بند کر دیا۔ جبکه حقیقت میں کوئی تعمیراتی کام نہیں ہوا، بلکہ ان کا مقصد نماز جماعت اور حوزوی دروس کے انعقاد کو روکنا تھا۔ یہ مسجد بعثی حکومت کے زوال تک بند ہی رہی۔
بعثی حکومت کے زوال کے بعد آیت اللہ سیستانی نے جامع مسجد خضرا کی بحالی پر خاص توجہ دی، کیونکہ یہ مسجد درحقیقت ان کے استاد آیت اللہ خوئی کی یادگار اور ورثہ تھی۔ لهذا اس کی تجدید و ترمیم کا کام شروع ہوکر ۱۴۲۷ ہجری (۲۰۰۶ عیسوی) میں مکمل ہوا۔
اس کے بعد مسجد کو دوبارہ کھول دیا گیا، جہاں سید حسن مرعشی کی امامت میں نماز جماعت کا اہتمام ہونے لگا۔ یوں یہ تاریخی مسجد ایک بار پھر دینی تعلیمات اور عبادات کا مرکز بن گئی۔
آیت اللہ سیستانی کی خاص توجہ کے تحت، سن ۲۰۱۴ء میں مسجد خضرا کی مزید تزئین و آرائش کا کام شروع ہوا جو دو سال تک جاری رہا اور ۲۰۱۶ء میں مکمل ہوا۔ اس بحالی میں درج ذیل کام شامل تھے:
صحن مسجد کی توسیع: نمازیوں کے لیے جگہ بڑھانے کے لیے صحن کا رقبہ تقریباً ۳۰۰ مربع میٹر تک وسیع کیا گیا۔
تعمیری خوبصورتی: مسجد کے فرش اور دیواروں کو نفیس سنگ مرمر سے مزین کیا گیا، جس سے مسجد کی زیبائی اور رفعت میں مزید اضافہ ہوگیا۔
یہ اقدامات مسجد کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اسے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش تھی۔
مسجد خضرا کےدرواز ے
مسجد خضرا کے دو دروازے ہیں: ایک اندرونی دروازہ جو صحن مقدس امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی طرف کھلتا ہے۔ یہ دروازہ مشرقی ایوانوں میں سے تیسرے ایوان میں، مسلم بن عقیل کے دروازے کی سمت اور آیت اللہ خوئی کی قبر کے پاس واقع ہے۔ اس دروازے کا ایک چھوٹا سا داخلی راستہ ہے جو ایک طرف سے آیت اللہ خوئی کی قبر اور دوسری طرف سے مسجد تک جاتا ہے۔
دوسرا دروازہ بیرونی جانب ہے جو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے صحن مقدس کی اینٹوں والی دیوار کی طرف کھلتا ہے۔
مسجد کا محراب قرآن مجید کی آیات اور اسلامی فنون سے سجایا گیا ہے۔ محراب کے ایک سمت یه جمل لکھا ہوا ہے: "مسجد جامع خضرا کی جدید کاری کا کام آیت الله سید ابو القاسم موسوی خویی قدس سره کے حکم سے انجام پایا ۔اور محراب کے دوسری طرف یہ عبارت لکھی ہوئی ہے: شهید حجۃ الاسلام شیخ احمد انصاری نے سن ۱۳۸۵ ہجری میں اس مسجد جامع کی تعمیر نو کا اہتمام کیا تھا۔”
مسجدکے هال میں مزار کی طرف کھلنے والی دو کھڑکیوں کے درمیان کربلائی میناکاری والے ٹائلس پر”محمد حسین صغیر "کے کچھ اشعار اور آیت اللہ خوئی کی تاریخ وفات درج ہے۔
مسجد کی دیوار پر نصب تختی پر یہ عبارت تحریر ہے:شیعوں کے عظیم المرتبت مرجع، فقہا و مجتہدین کے استاد، مغفور لہ جناب امام سید ابوالقاسم موسوی خوئی قدس سرہ (۱۳۱۷ ہجری قمری – ۱۴۱۳ ہجری قمری)”
مسجد خضرا صرف نمازِ جماعت ہی کی ادائیگی کا هی مرکز نہیں تھی، بلکہ یہاں بڑے بڑے علماء اور مدرسین کے لیے دینی علوم کی تدریس کا اہم مقام بھی هوتا تھا۔سید عبدالمطلب خرسان اپنی کتاب "مساجد و معالم في الروضة الحيدرية المطهرة” میں لکھتے ہیں:”امام خوئی قدس سرہ اس مسجد میں خود نمازِ جماعت پڑھاتے تھے۔ نیز، انوں نے اسے فقہ و اصول کے دروس کا مرکز بنا دیا تھا۔ جب امام خوئی کی صحت خراب ہوئی اور وہ یہاں تدریس جاری نہ رکھ سکے، تو ان کے داماد آیت اللہ سید نصراللہ مستنبط نے ان کی جگہ تدریس کی ذمہ داری سنبھال لی۔”
آیت اللہ مستنبط کی وفات کے بعد، آیت اللہ سید علی سیستانی نے، آیت اللہ خوئی قدس سرہ کی جگہ تدریس اور امامتِ جماعت کی ذمہ داری سنبھال لی۔ یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا، یہاں تک کہ عراق کی اوقاف کی تنظیم نے مسجد کی مرمت کے بہانے اسے بند کر دیا۔ مسجد، بعثی حکومت کے زوال تک بند رہی، یہاں تک کہ آیت اللہ سید علی سیستانی کے حکم پر یکم جمادی الاول ۱۴۲۷ ہجری (29 مئی ۲۰۰۶ء) تعمیر نو کے بعد دوبارہ کھول دی گئی۔ اس کے بعد سے علامہ سید حسن مرعشی کی امامت میں نمازِ مغرب و عشا جماعت کے ساتھ ادا کی جانے لگی۔
مسجد خضرا کی کچھ یادیں
عبدالہادی ابراہیمی اس مسجد کی یادوں کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
میں ۱۹۶۴ میں نجف اشرف میں پیدا ہوا۔ جب میں سن تکلیف کو پہنچا تو اس آیت اللہ خوئی مجتہد اور اعلم هوا کرتے تھے اور میں نےانھیں کی اقتدا میں نماز جماعت کا خصوصی اہتمام کیا تھا۔
یہ مسجد آیت اللہ خوئی کے زمانے میں نجف اشرف کی مشہور ترین مسجد تھی، جہاں بہت سے نمازی اپنی نماز ادا کرنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ خاص طور پر رمضان کے مہینے میں نماز کے بعد تعقیبات سننے کی وجہ سے یہاں ایک خاص روحانی اور معنوی فضا قائم ہو جاتی تھی۔ آیت اللہ خوئی ضعیف العمری کے باوجود اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی ، اس جگہ نماز جماعت قائم کرنے کا خصوصی اہتمام کرتے رہے۔
مجھے یاد ہے کہ نماز کے بعد آیت اللہ خوئی نمازیوں کا استقبال کرتے، ان کے سلام کا جواب دیتے تھے، بڑوں اور چھوٹوں سب کے ساتھ بڑی عاجزی سے پیش آتے تھے۔ وہ فقہی سوالات کے جوابات بھی دیا کرتے تھے۔
نماز کے بعد وہ دو افراد کے سہارے چلتے تھے۔ ہم آیت اللہ خوئی کی خاص طور پر نگرانی کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کے مسجد سے باہر تشریف لے جانے کے بعد بھی۔ نمازی ہر طرف سے ان کے گرد جمع ہو جاتے تھے، کیونکہ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں آیا ہے: "عالم دین کے چہرے کو دیکھنا بھی عبادت ہے”۔
جب وہ مسجد سے باہر آتے تو کسی کو بھی اپنے جوتے پہننے میں مدد کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ہاتھوں میں کپکپاہٹ کے باوجود خود ہی اپنے جوتے پہننے کی کوشش کرتے تھے۔