مولائے متقین امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہالسلام انیس رمضان المبارک 40 ہجری قمری کی صبح شقی ترین انسان عبدالرحمان ابن ملجم کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور تین دن کے بعد اکیس رمضان المبارک کو جام شہادت نوش فرمایا۔
سن 40 ہجری قمری میں حج کے بعد مکہ مکرمہ میں عبدالرحمان ابن ملجم، برکین ابن عبداللہ اور عمرو بن بکر تمیمی جمع ہوئے اور اسلامی حکومت نیز جنگ نہروان کے بارے میں باتیں کرنے لگے، انہوں نے حکمرانوں کے خلاف الزامات عائد کیے اور آخر میں ایک دوسرے سے عہد کیا کہ امیرالمؤمنین علی علیہالسلام،معاویہ اور عمرو عاص جنہیں وہ فتنہ کا سرغنہ سمجھتے تھے، کو قتل کریں گے۔
ان تین افراد میں سے برک ابن عبداللہ کو معاویہ کو قتل کرنے کی ذمہ سونپی گئی، عمرو ابن بکر کو عمر عاص کے قتل کی اور ابن ملجم کو امیرالمؤمنین علیہالسلام کے قتل کی ذمہ داری سونپی گئی اور طے پایا کہ انیس رمضان المبارک کو سب ایک ساتھ اپنا وعدہ پورا کریں گے۔
جب وقت آیا تو برک ابن عبداللہ معاویہ کو صرف زخمی کر سکا اور خود اسیر اور قتل ہو گیا،عمرو ابن بکر عمرو عاص کو قتل کرنے کے لیے مصر گیا اس لیے کہ عمرو عاص اس وقت معاویہ کی طرف سے مصر کا گورنر تھا لیکن عمرو عاص نے اس دن مصر کے قاضی خارجہ ابن حذاقہ کو اپنی جگہ نماز پڑھانے کے لیے بھیجا جسے عمرو ابن بکر نے عمرو عاص سمجھ کر قتل کر دیا، اسے بعد میں عمرو عاص کے حکم پر قتل کیا گیا۔
لیکن عبدالرحمان ابن ملجم ملعون اپنے ناپاک مقصد میں کامیاب ہوگیا اور اس نے انیس رمضان المبارک کی سحر کو مولائے متقین امیرالمؤمنین علیہالسلام پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا، اس کے بعد اسےگرفتار کر لیا گیا اور امیرالمؤمنین علیہالسلام کی شہادت کے بعد امام حسن علیہالسلام کے حکم پر قصاص کر دیا گیا۔
