سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی مظلومیت؛ حق سے محرومی کا المیہ

عدل کی تعریف یہ ہے کہ ہر شے کو اس کے مناسب مقام پر رکھا جائے، اور ظلم وہ ہے جس میں کسی شے یا فرد کو اس کے جائز حق سے محروم کر دیا جائے, یہ ایک حقیقت ہے کہ جتنا بلند اور شائستہ وہ مقام ہوگا، مظلومیت کی نوعیت اتنی ہی عمیق اور شدید ہوگی۔

ہم حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کو مظلومیت کی وجہ سے جانتے ہیں، یہ مظلومیت عوامی تصور کے برخلاف قطعاً کمزوری یا ذلت نہیں ہے، بلکہ، جیسا کہ بیان کیا گیا، یہ ان کے مقام استحقاق سے محرومی کا نام ہے، جس میں ان کے بلند رتبے کی قدر و عظمت افرادِ معاشرہ تک اس طرح نہیں پہنچی کہ وہ ان کا صحیح ادراک کر سکیں۔ اسی اساس پر، جتنا ہمارا علم امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے مقام، فضائل اور سیرت سے متعلق بڑھے گا، اتنی ہی ہماری فہم ان کی مظلومیت کے درجے کو بہتر سمجھ سکے گی۔

صحرا نشین کی فریاد اور حقیقت مظلومیت

روایت میں آتا ہے کہ ایک دن ایک صحرا نشین عرب حضرت امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے دوران گفتگو چلا اُٹھا: "وا مظلمتاه!” (مطلب مجھ پر ظلم ہوا ہے)۔ حضرت امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے اسے طلب کیا اور فرمایا: تم پر صرف ایک بار ظلم ہوا ہے، لیکن مجھ پر ‘مَدَر’ (پتھر کے ٹکڑوں) اور ‘وَبَر’ (جانوروں کے بالوں) کی تعداد کے مطابق ظلم ہوا ہے۔ یہ استعارہ کثرت ظلم کو سمجهنے کے لیے ہے۔ یہ قول حضرت کی مظلومیت کی شدت اور وسعت کا مظہر ہے۔ امت کی کوتاہی اور غفلت کے سبب جو ظلم حضرت کے حق پر ہوا، وہ ایک عام انسان پر ہونے والے ایک ظلم سے کہیں زیادہ شدید اور وسیع تھا۔

حضرتِ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے مزید فرمایا: عرب کا کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس نے مجھ پر ظلم نہ کیا ہو، اور جب سے میں یہاں بیٹھا ہوں، ہمیشہ مظلوم رہا ہوں۔[1]

 یہ بیان واضح کرتا ہے کہ حضرت پر ہونے والا ظلم محض ذاتی نہیں تھا، بلکہ پورے معاشرے کی غفلت، علم و نصرت میں کمی، اور حق کی شناخت نہ کرنے کی وجہ سے ہر فرد اس مظلومیت میں شریک تھا۔ یہ مظلومیت صرف جسمانی یا سیاسی سطح تک محدود نہیں تھی، بلکہ علمی، اخلاقی اور دینی سطح پر بھی امت کی کوتاہیوں کا نتیجہ تھی۔

چار پہلوؤں پر مشتمل مظلومیت کا ذکر خاص

حضرت امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی مظلومیت اتنی عظیم ہے کہ آپ نے خود کئی ایک مقامات پر اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ان مظلومیت کے پہلوؤں میں شامل ہے:

  1. بھولا ہوا ذکر

میں وہ ذکر ہوں جس سے لوگ غافل ہوگئے۔[2]

یہ ظاہر کرتا ہے کہ امت نے حضرت کے حق میں موجود نصیحت اور اہم باتوں کو نظر انداز کیا۔

  1. راستے سے انحراف

"میں وہ راستہ ہوں جس سے لوگ منحرف ہوگئے۔[3]

یہ مظلومیت امت کی رہنمائی سے دوری اور صحیح راستے کو چھوڑ دینے کا نتیجہ ہے۔

۳. انکار شدہ ایمان

میں وہ ایمان ہوں جسے لوگوں نے انکار کیا۔[4]

در حقیقت امت نے حضرت کا انکار نہیں کیا بلکہ اپنے ہی ایمان کا انکار کر بھیٹے، اور کافر و مرتد ہوگئے۔

۴- ترک شدہ قرآن

میں وہ قرآن ہوں جسے لوگ چھوڑ گئے۔[5]

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امت نے قرآن کی تعلیمات کو صحیح طرح نہیں اپنایا اور حضرت کے حق میں کوتاہی کی۔

یہ اقوال ثابت کرتے ہیں کہ امت نے حضرت کے حق، رہنمائی، ایمان کے تقاضوں، اور قرآنی تعلیمات کو نظر انداز کر کے اس ظلم میں حصہ لیا۔

نتیجہ؛ گہرائی اور سبق

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی زندگی مظلومیت کی ایک جامع تصویر پیش کرتی ہے۔ مظلومیت کمزوری نہیں، بلکہ مقام اور شایستگی کی محرومی ہے۔ جتنا ہم حضرت کے علم، فضائل، اور مقام کو سمجھیں گے، اتنی ہی ہم مظلومیت کی گہرائی اور وسعت کو پہچان سکیں گے۔

یہ مظلومیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی عدل کا قیام صرف شناخت، نصرت اور حق کے ادراک سے ممکن ہے۔ امت کی غفلت، حق کی پہچان نہ کرنا اور نصرت میں کمی سب اس مظلومیت کے عوامل ہیں، اور یہی سچائی ہمیں اپنے کردار اور معاشرتی ذمہ داریوں کی یاد دلاتی ہے۔

[1] . شرح نهج البلاغه ابن ابی الحدید معتزلی، جلد 4، ص106
[2] ۔ الکافي، جلد 8، ص18
[3] ۔ الکافي، جلد 8، ص18
[4] ۔ الکافي، جلد 8، ص18
[5] ۔ الکافي، جلد 8، ص18

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے