سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

سریہ فُلس اور امیرالمومنین

غزوۂ فُلس میں امام علی علیہ‌السلام کا کردار؛ بت کدے کی تباہی کا تاریخی واقعہ

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے مولائے متقیان علی علیہ السلام کو توحید کی دعوت دینے اور مشرکین کے قبائلی بتوں کو توڑنے کی ذمہ داری سونپی۔ جب ان کے بند کانوں پر کلمۂ حق کی آواز بھی اثر نہ کرسکی، تو امیرالمومنین علیہ‌السلام نے یہ علاقہ فتح فرمایا۔ آپ علیہ‌السلام نے شرک کے بت کدوں کو خاک میں ملا دیا اور عظیم فتح کے ساتھ کثیر مالِ غنیمت حاصل کیا۔

رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے حکم پر امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی قیادت میں انجام پانے والا سریۂ فُلس، قبیلۂ طَیّ کے خلاف ایک اہم تاریخی مہم تھی۔ اس مہم کا بنیادی مقصد قبیلے کے معبود، بتِ فُلس کو منہدم کرنا تھا۔ اس کارروائی کے دوران اسلامی لشکر نے مال غنیمت حاصل کیا اور متعدد افراد کو گرفتار کرکے مدینہ منتقل کیا۔ اس واقعے میں حاتم طائی کی بیٹی سفانہ بنت حاتم کی گرفتاری اور بعد ازاں رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے حکم سے ان کی رہائی کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے۔

سریۂ فُلس کیا تھا؟

اصطلاحِ سیرت میں «سریہ» اس فوجی دستے کو کہا جاتا ہے جسے رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کسی مہم پر روانہ فرماتے، لیکن خود اس میں شریک نہ ہوتے۔ یہ اصطلاح غزوات سے ممتاز ہے، کیونکہ غزوہ اس مہم کو کہا جاتا ہے جس میں رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ بنفس نفیس شریک ہوئے ہوں۔

سریۂ فُلس کا پس منظر اور آغاز

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے مولائے متقیان علی علیہ‌السلام کو ایک گروہ کے ہمراہ بت پرست قبیلے طَیّ کی طرف روانہ فرمایا۔ اس سریے کا بنیادی مقصد اس قبیلے کے معبود فُلس کو منہدم کرنا تھا، جس کی یہ لوگ پرستش کرتے تھے۔

نویں ہجری کے ماہ ربیع‌الثانی میں رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمومنین علیہ‌السلام کو قبیلۂ طَیّ کی جانب روانہ فرمایا۔ آپ علیہ‌السلام کے ساتھ ۱۵۰ انصاری مجاہدین، ۱۰۰ اونٹ اور ۵۰ گھوڑے تھے، اور بتِ فُلس کو منہدم کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس مہم کا پرچم بھی، رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی دیگر تمام مہمات کی طرح، امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے ہاتھ میں تھا۔ آپ علیہ‌السلام کے ساتھ ایک سیاہ پرچم اور ایک سفید لِوا بھی تھا۔ امیر‌المومنین علیہ‌السلام اپنے لشکر کے ہمراہ صبح کے وقت حاتم کے خاندان کی بستی پہنچے اور بتِ فُلس کو منہدم کردیا۔ اس طرح حضرت علیہ السلام نے بت کو پاش پاش کیا اور بڑی مقدار میں مالِ غنیمت اور قیدی حاصل کیے۔[۱][۲]

غنائم کی تقسیم

اس مہم میں امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قیادت میں اسلامی لشکر نے بڑی مقدار میں مال غنیمت حاصل کیا۔ اس میں بھیڑیں، اونٹ اور بڑی تعداد میں قیدی شامل تھے۔ یہ سب مدینہ منتقل کیے گئے۔ مولائے متقیان علیہ‌السلام نے ابوقتادہ کو قیدیوں کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی۔ جبکہ عبداللہ بن عتیک کو مویشیوں اور دیگر اموال کی نگرانی پر مقرر فرمایا۔ فُلس کے خزانے میں تین تلواریں موجود تھیں: رسوب، مخذم اور ایک تلوار جسے یمانی کہا جاتا تھا۔ وہاں تین زرہیں بھی موجود تھیں۔

جب امیرالمومنین علیہ‌السلام کا لشکر رَکَک کے مقام پر پہنچا تو غنائم تقسیم کیے گئے۔ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے حصے کو الگ محفوظ رکھا گیا۔ قبیلۂ طَیّ کے قیدیوں کو بھی مدینہ لایا گیا۔ بتِ فُلس پر دو تلواریں لٹکی ہوئی تھیں: ایک کا نام مخذم اور دوسری کا رسوب تھا۔ حارث بن ابی‌شَمِر نے یہ دونوں تلواریں بت کو نذر کی تھیں اور انہیں اس پر لٹکا دیا تھا۔ امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے وہ دونوں تلواریں اتاریں اور رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی خدمت میں پیش کردیں۔

اس سریے میں گرفتار ہونے والوں میں سفانہ بھی شامل تھیں۔ وہ عدی بن حاتم کی بہن اور حاتم طائی کی بیٹی تھیں۔ انہیں مدینہ میں رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے انہیں آزاد فرما دیا، جس کے بعد وہ اسلام لے آئیں۔[۱][۳]

خلاصہ

سریۂ فُلس، عہدِ نبوی کی ان فوجی مہمات میں شمار ہوتا ہے جن میں امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام نے رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے حکم پر قیادت کی ذمہ داری انجام دی۔ اس مہم میں بتِ فُلس کو منہدم کیا گیا، مالِ غنیمت حاصل ہوا اور متعدد قیدی مدینہ منتقل کیے گئے۔ سفانہ بنت حاتم کی گرفتاری اور رہائی کا واقعہ بھی اس مہم کے تاریخی تذکروں میں شامل ہے۔

مآخذ
[۱] ۔ الکامل فی التاریخ، جلد ۲، صفحہ ۲۸۵
[۲] ۔ الصحیح من سیره النبی، جلد ۷، صفحہ ۳۸
[۳] ۔ الطبقات الکبری، جلد ۲، صفحہ ۱۲۴

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے