بین الاقوامی جشنوارۂ شعرِ پیغمبر صلیاللہعلیہوآلہ
جشنوارے کے انتظامی امور کے سربراہ خادم جعفر البديري نے نیوز سینٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
’’تیاریوں میں مختلف ابلاغی، فنی، ہدایت کاری اور دستاویزی امور کو مکمل کرنا شامل تھا، تاکہ اس اہم ثقافتی پروگرام کی حیثیت و اہمیت کے مطابق تمام سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے اور انہیں رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی شانِ اقدس کے شایانِ شان انداز میں پیش کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ تصویری اور ویڈیو دستاویز بندی کے لیے خصوصی منصوبے کو بھی حتمی شکل دی گئی ہے، جبکہ مختلف شرکاء اور پروگراموں سے متعلق ابلاغی مواد اور رپورٹس کی تیاری بھی مکمل کرلی گئی ہے۔‘‘
جعفر البديري نے مزید بتایا:
’’جشنوارے کے پروگرام میں مختلف نوعیت کے متعدد حصے اور سرگرمیاں شامل ہیں، جن میں ڈرامائی پیشکشیں بھی شامل ہیں۔ ان کے ذریعے اسلامی شاعری کی تاریخ کے روشن ادوار کو اجاگر کیا جائے گا اور اسلامی پیغام کے دفاع میں شعر و شاعری کے کردار کو نمایاں کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ان شعری اور اسلامی شخصیات کی زندگی اور کردار کو پیش کیا جائے گا جو رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے عہد میں موجود تھیں اور جنہوں نے اپنے اشعار اور مؤثر کلمات کے ذریعے اسلام کی نصرت اور سیرتِ نبوی کے واقعات کو محفوظ کرنے میں کردار ادا کیا۔‘‘
واضح رہے کہ جشنوارۂ عربی شعرِ پیغمبر اعظم صلیاللہعلیہوآلہ کی تقریبات منگل، ۱۸ ربیع الاول ۱۴۴۸ ہجری کو صحنِ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا میں ’’اس کے در سے مدینہ کی جانب‘‘ کے شعار کے تحت منعقد ہوں گی اور دو روز تک جاری رہیں گی۔
اس جشنوارے میں مصر، لبنان، لیبیا، سلطنتِ عمان، مراکش اور سوڈان سمیت مختلف عرب ممالک کے ممتاز شعراء، ایران سے ایک شاعر اور نجف اشرف و عراق کے متعدد نامور شعراء شرکت کریں گے۔


















