سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام حقیقت واحدہ

مولا علی علیہ السلام؛ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی روح

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا: "تم میرے لیے ایسے ہو، جیسے جسم کے لیے روح۔”
المناقب، ج ۲، ص ۲۱۷

مولا علی علیہ السلام؛ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا سہارا

ابورافع روایت کرتے ہیں: رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ جب بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو حضرت علی علیہ‌السلام کے سوا کوئی آپ کا دستِ مبارک نہیں تھامتا تھا۔
بحار الأنوار، ج ۳۸، ص ۲۹۷

مولا علی علیہ السلام؛ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے وجود کا حصہ

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا: "علی علیہ‌السلام کی مجھ سے نسبت ایسی ہے، جیسے سر کی بدن سے۔”
المناقب، ج ۲، ص ۲۱۷

حضرت علی علیہ السلام؛ قیامت میں رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے سب سے قریب

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:
"اے علی! تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو، اور قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب ہو۔”
الأمالي (شیخ مفید)، ج ۱، ص ۱۷۴

حضرت علی علیہ السلام؛ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے سب سے محبوب

اللہ تعالیٰ نے رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے فرمایا:
"میں نے تمہارے دل کی گہرائیوں میں دیکھا، اور علی بن ابی طالب سے زیادہ محبوب کسی کو نہ پایا۔”
المحتضر، ج ۱، ص ۱۷۱

حضرت علی علیہ السلام؛ نبوت کے سوا رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے مانند

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:
"علی علیہ‌السلام میری مانند ہیں، میرے اور ان کے درمیان نبوت کے سوا کوئی فرق نہیں۔”
الصراط المستقیم، ج ۱، ص ۲۵۲

حضرت علی علیہ السلام؛ بابِ علمِ رسول صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:
"اے علی! تم میرے علم کا دروازہ ہو، تمہاری اولاد میری اولاد ہے، تمہارا گوشت میرا گوشت اور تمہارا خون میرا خون ہے۔”
کشف الیقین، ج ۱، ص ۱۰۷

ایک ہی نور

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:
"میں اور علی ایک ہی نور سے پیدا کیے گئے ہیں۔ جو مجھ سے محبت کرے گا، وہ علی علیہ‌السلام سے بھی محبت کرے گا، اور جو مجھ سے دشمنی کرے گا، وہ علی علیہ‌السلام سے بھی دشمنی کرے گا۔”
الفضائل (ابن شاذان)، ج ۱، ص ۹۶

حضرت علی علیہ‌السلام؛ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی نشانی

امام محمد باقر علیہ‌السلام نے فرمایا:
"بے شک حضرت علی علیہ‌السلام، حضرت محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی نشانی ہیں۔”
بصائر الدرجات، ج ۱، ص ۷۱

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے