سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حتیٰ کہ تیمور لنگ بھی حقیقت سمجھ گیا…

حضرت زینب سلام‌اللہ‌علیہا اور اہلِ بیت علیہم‌السلام کی اسیری؛ ایسا دردناک واقعہ جس کی تپش پتھر دلوں کو بھی پگھلا دے

تیمور لنگ کون تھا؟

تیمور لنگ (تامرلین)، ترک ـ مغل فاتح تھا، جس نے شام پر بھی اپنی حکومت قائم کی۔
جب اسے اہلِ بیت علیہم‌السلام کی اسیری اور اہلِ شام کی جانب سے اس عظیم مصیبت پر خوشی منانے کا واقعہ معلوم ہوا تو وہ غم و غصے سے بھر گیا۔
اس نے اہلِ شام کو ان کے شرمناک کردار کا آئینہ دکھانے کا فیصلہ کیا۔

اہلِ شام کا فریب

اہلِ شام کا ایک بزرگ تیمور کے دربار میں حاضر ہوا اور عرض کی: "اے امیر! ہم چاہتے ہیں کہ فلاں شخص کی بیٹی، جو حسن، عقل اور کمال کی مالک ہے، آپ کے نکاح میں دے دیں۔”

تیمور نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور حکم دیا کہ دلہن کو حمام لے جایا جائے اور شہر کے بازاروں کو خوب آراستہ کیا جائے۔

تیمور کا امتحان

تیمور نے اپنے خادم کو حکم دیا:
* ایک کمزور اور بےسروسامان اونٹ تیار کیا جائے۔
* دلہن کو بغیر پالان کے اس پر سوار کیا جائے۔
* اسے شہر کے بازاروں اور گلیوں میں گزارا جائے۔

تاکہ اہلِ شہر اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔

شام کے بزرگوں کا اعتراض شہر کے بزرگوں نے اعتراض کیا: "یہ کیسا اونٹ ہے؟ ایسی معزز دلہن کے شایانِ شان نہیں!”

تیمور نے فرمایا: "یہ میرا حکم ہے۔”

انہوں نے کہا: "خدا اور رسول بھی ایسی بےحرمتی کو پسند نہیں کرتے؛ حتیٰ کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی معزز خاندانوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔”

تیمور لنگ کا درد بھرا جواب

تیمور غصے سے پکار اٹھا: "اے یزید کے پیروکارو! وائے ہو تم پر!” "کیا رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے بڑھ کر بھی کوئی بادشاہ ہو سکتا ہے؟” "کیا امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی بیٹیوں سے زیادہ پاکیزہ اور باعظمت کوئی بیٹیاں ہو سکتی ہیں؟” "کیا حسین علیہ‌السلام حجتِ خدا نہ تھے؟”

تیمور کی سرزنش

تیمور نے کہا: "تم نے حضرت محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور علی علیہ‌السلام کی بیٹیوں کو گلیوں میں پھرایا، اور تم اور تمہاری عورتیں ان کا تماشا دیکھنے کے لیے نکل آئیں؟”
"تم نے امام حسین علیہ‌السلام کے اہل و عیال کو اونٹوں پر سوار کر کے ایک شہر سے دوسرے شہر تک اسیری کی حالت میں لے گئے؟”

تیمور کا گریہ اور بے ہوشی

تیمور نے اپنا گریبان چاک کر لیا اور اس قدر رویا کہ شدتِ غم سے بے ہوش ہو گیا۔

جب اسے ہوش آیا تو کہا: "مجھے بتاؤ! رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے زیادہ باعظمت بادشاہ کون ہے؟” "اور امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی بیٹیوں سے زیادہ پاکدامن بیٹیاں کس کی ہیں؟”

مآخذ
شجرۂ طوبیٰ، شیخ محمد مہدی حائری مازندرانی، ج ۱، ص۴۶

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے