سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی رمضان المبارک کے لیے اہم طبی و غذائی ہدایات

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی رمضان المبارک کے لیے اہم طبی و غذائی ہدایات

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی انفرادی سیرت اور ذاتی زندگی پر، ان کی سیاسی و اجتماعی حیات کے مقابلے میں کم توجہ دی گئی ہے، حالانکہ ان کے اقوال و افعال میں نہ صرف روحانیت بلکہ انسانی جسم، صحت اور فطرت کی گہری بصیرت جھلکتی ہے۔

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی انفرادی سیرت اور ذاتی زندگی پر، ان کی سیاسی و اجتماعی حیات کے مقابلے میں کم توجہ دی گئی ہے، حالانکہ ان کے اقوال و افعال میں نہ صرف روحانیت بلکہ انسانی جسم، صحت اور فطرت کی گہری بصیرت جھلکتی ہے۔

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے ایک روایت میں فرمایا کہ رمضان المبارک کی برکات، فضیلتوں اور عبادات سے صحیح معنوں میں وہی مستفید ہو سکتا ہے جو اپنی صحت کا خیال رکھے اور بدن کی بنیادی ضرورتوں کو درست طریقے سے پورا کرے۔

صفائی و نظافت؛ مسواک کرنا

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے روزہ داروں کے لیے سرمہ کے استعمال کو مباح قرار دیا، [1]اگرچہ بعض روایات کی بنیاد پر سرمہ لگانا روزہ باطل ہونے کا باعث ہے۔

ایک اور روایت میں آپ نے روزہ داروں کو صبح کے وقت مسواک کرنے کی تاکید فرمائی، جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ ممکن ہے مسواک کی نمی روزہ کو باطل کر دے، تو آپ نے دلیل دی کہ اگر کلّی کرنا ہے جائز ہے جس سے زیادہ رطوبت پیدا ہوتی ہے تو مسواک اس سے کہیں کم نقصان دہ ہے۔[2]

یوں صفائی و صحت میں مسواک کے کردار سے ہٹ کر یہ انسان کے حسنِ ظاہری اور منھ کی خشبو کا ذریعہ ہے اسی لیے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے روزہ داروں کو دن کے آغاز اور اختتام دونوں وقت مسواک کرنے کی تاکید فرمائی۔[3]

صحت اور تغذیہ: دو وقت کھانا

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے ایک حدیث میں فرمایا کہ روزہ دار کے لیے سحری اور افطاری دو وقت کھانا ضروری ہے، آپ نے فرمایا کہ اگر ممکن نہ ہو تو کم از کم افطار کے وقت آدھی کھجور اور سحر کے وقت ایک گھونٹ پانی ضرور پینا چاہیے۔[4]
ایک اور روایت میں آپ نے رمضان المبارک کے فضائل اور عبادتوں کے درک کو بدن کی سلامتی اور ضروری غذائیت سے مشروط قرار دیتے ہوئے فرمایا: روزے کی برکت اسی کو حاصل ہوگی جو سحری کھائے گا اور شب بیداری کا ثواب اسی کو ملے گا جو دن میں مختصر آرام کرے گا۔[5]

اسی ضمن میں آپ نے بعض مخصوص غذاؤں مثلاً کھجور، حلوہ (جو آٹے اور تیل سے تیار کیا جاتا ہے) اور جو و گندم سے بنی غذاوں کے استعمال کی تاکید فرمائی، مزید فرمایا کہ سحری کے بعد اور افطار سے قبل مسواک کرنا رمضان المبارک میں صحت و صفائی کے لیے مفید ہے۔[6]

نماز اور افطار کا توازن

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی ایک نہایت لطیف اور بامعنی نصیحت یہ ہے کہ اگر کھانا تیار نہ ہو تو افطار سے پہلے نماز ادا کیجئے لیکن اگر دسترخوان بچھا دیا گیا ہے تو پہلے افطار کر لیجئے اس کے بعد نماز ادا کیجئے۔[7]
اس کی طبی بنیاد یہ ہے کہ بھوک اور کھانے کی خوشبو نمازی کی توجہ کو متاثر کرتی ہے اور ہاضم رطوبتوں کی زیادتی سے بدن کو نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔

سحری کرنے کا بہترین وقت

آپ نے تاکید فرمائی کہ سحری کو اذانِ صبح کے قریب مؤخر کیا جائے اور افطار کو اذانِ مغرب کے فوراً بعد کیا جائے۔[8]

رمضان المبارک میں تجویز کردہ غذائیں

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی سیرت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ رمضان المبارک میں کھجور، جو کی روٹی، نمک اور دودھ جیسی سادہ مگر طاقتور غذاوں کو ترجیح دیتے تھے،[9] یہ انتخاب صحت، فطرت اور بدن کے توازن کے اصولوں سے ہم آہنگ تھا۔

البتہ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ ان ہدایات کا تعلق اس وقت کے موسمی اور جغرافیائی حالات، یعنی حجاز اور کوفہ کے ماحول سے بھی ہو سکتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ آئمہ علیہم‌السلام کی سیرت میں بیان کردہ طبی و غذائی اصولوں کو ان کے دور کے حالات کے تناظر میں پرکھا جائے اور ان کے بنیادی اور تغیرپذیر پہلوؤں کی جامع تحقیق کی جائے۔

[1] ۔  قرب الاسناد، ص 89.
[2] ۔ السنن الکبری، ج 4، ص 274.
[3] ۔ قرب الاسناد، ص 89.
[4] ۔ دعائم الإسلام، ج 1، ص 271.
[5] ۔ المقنعة، ص 317
[6] ۔ قرب الاسناد، ص 89.
[7] ۔ المقنعة ، ص 317
[8] ۔ دعائم الإسلام، ج 1، ص 271.
[9] ۔ بحار الأنوار، ج 2، ص 490؛ بحار الأنوار، ج 40، ص 325.

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے