سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے ہاتھوں رمضان المبارک میں حرام خوروں کا صفایہ اور اہم ترین فوجی بحران کا حل

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے ہاتھوں رمضان المبارک میں حرام خوروں کا صفایہ اور اہم ترین فوجی بحران کا حل

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی زندگی کے حالات اور اُس دور کے سیاسی و معاشرتی ماحول کی نوعیت کی وجہ سے اکثر لوگ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی ذاتی سیرت پر توجہ دینے میں غفلت برتتے ہیں۔

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی ذاتی اور فردی سیرت کے حوالے سے ان کے معاشرتی اور سیاسی کردار پر کم توجہ دی گئی ہے۔

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی زندگی کے حالات اور اُس دور کے سیاسی و معاشرتی ماحول کی نوعیت کی وجہ سے اکثر لوگ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی ذاتی سیرت پر توجہ دینے میں غفلت برتتے ہیں۔

معاشرتی اور مذہبی شعائر میں اقتصادی پہلوؤں پر توجہ

معاشرتی عناصر میں اقتصادی موضوعات اہمیت رکھتے ہیں اور اگر ان کی طرف توجہ نہ دی جائے تو دین کے تمام انتظامات اور سرگرمیوں کے باوجود معاشرہ نقصان کا شکار ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے رمضان المبارک میں مادی حقوق کے احترام کے حوالے سے افطار سے قبل رسول خدا صلی‌الله‌علیه‌وآله کی ایک حدیث کی روشنی میں یہ دعا فرمائی: پروردگارا! ہم نے تیرے لیے روزہ رکھا اور جس رزق کو تو نے ہمارے لیے مقرر فرمایا اس پر افطار کیا۔ پس اسے ہم سے قبول فرما، ہماری بھوک دور ہوئی، ہماری رگیں خون سے بھر گئیں اور ہمارے لیے اجر باقی رہے۔ ان شاء اللہ[1]۔

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام افطار کے لیے مخصوص خوراک کو پاکیزہ رکھنے کا اتنا اہتمام اتنا کرتے کہ اسے مخصوص تھیلے میں بند کر رکھتے تھے یہاں تک کہ بعض لوگ اسے کنجوسی سمجھ بیٹھتے[2]۔ یہ احتیاط اُن لوگوں کے لیے سبق بن جاتا جو اپنے اقتصادی تعلقات میں دوسروں کے حقوق اور شرعی و قانونی ضوابط کی پابندی نہیں کرتے، کیونکہ اس سے عوام میں اُن کی حیثیت کمزور ہو جاتی اور وہ کسی حد تک تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے نہ صرف مال و دولت کے حصول میں قانونی اور شرعی حدود کی پاسداری پر زور دیا بلکہ اخلاقی اقتصادی رویوں جیسے قناعت کو بھی عام کرنے کی ترغیب دی۔
مثال کے طور پر جب عدی بن حاتم  نے آپ سے سادہ افطار کرنے کی وجہ پوچھی ، تو آپ نے قناعت کو اپنی سادگی کی بنیاد بتایا[3]۔
اسی طرح، رشتہ داروں کا خیال رکھنے اور ان کی مدد کرنے اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کی تاکید، رمضان المبارک میں حضرت کی نمایاں سیرت تھی، اور اس سے معاشرتی ذمہ داری اور عوام کی اقتصادی مشکلات کا ازالہ ممکن ہوتا تھا۔

جہاد اور سیاسی ذمہ داری پر توجہ

رمضان المبارک میں امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی سیرت صرف عبادت، اخلاق اور روحانیت تک محدود نہیں تھی بلکہ انہوں نے سیاسی بحرانوں میں بھی فعال کردار ادا کیا۔

مثال کے طور پر، جنگ بدر میں حضرت کا حصہ لینا، جو رسول خدا صلی‌الله‌علیه‌وآله اور مشرکین مکہ کے درمیان پہلا براہِ راست معرکہ تھا،

آپ کے شجاع اور ذمہ دار کردار کی ایک نمایاں مثال ہے بھی اور آپ کے لیے باعث فخر بھی۔

یہ جنگ آیات ہجرت کے دوسرے سال رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے کے  بعد پیش آئی، اس موقع پر حضرت علی بن ابی طالب علیہ‌السلام رسول خدا صلی‌الله‌علیه‌وآله کے ہمراہ سفر کے دوران عقاب نامی سیاہ پرچم کے حامل تھے[4]، [5]، [6]، [7]، [8]۔

اسی طرح، ہجرت کے ساتویں سال رمضان المبارک میں، حضرت نے فدک کی فتح کے لیے سو فوجیوں کی قیادت سنبھالی، اس لشکرکشی میں امام رات کے وقت حرکت کرتے تاکہ دشمن ان کے مقصد سے آگاہ نہ ہو[9]،

فدک کی فوجی کارروائی امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی حکمت اور تدبیر کے ذرئعہ خونریزی کے بغیر کامیاب ہوئی اور یہ یہودی نشین علاقہ فتح ہو گیا۔

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی رمضان المبارک میں سیاسی و فوجی کردار کی ایک اور مثال، فتح مکہ میں رسول خدا صلی‌الله‌علیه‌وآله کے پرچم کی قیادت اور اس کی حفاظت ہے[10]، اس فتح کی اہمیت مکہ کی روحانی حیثیت اور قریشیوں سے براہِ راست مقابلے کی وجہ سے زیادہ تھی، جو رسول خدا صلی‌الله‌علیه‌وآله کے رشتہ دار اور مہاجرین تھے،فتح مکہ  آٹھ ہجری کے رمضان المبارک میں ہوئی۔
پرچم حضرت علی علیہ‌السلام کو سونپنے کی وجہ

پرچم حضرت علی علیہ‌السلام کو سونپنے کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان فاتحین کی ممکنہ ریادہ روی اور تشدد سے بچا جا سکے[11]۔

اسی طرح، دیگر ائمہ اطہار علیہم السلام اور علوی نسل کے افراد نے عبادتی مواقع جیسے رمضان المبارک میں امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے سیاسی اور فوجی کردار کی تقلید کی اور ان سے رہنمائی حاصل کی۔

بلاذری اپنی کتاب میں اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ چالیس ہجری کے رمضان المبارک میں جب امیرالمؤمنین علیہ‌السلام مسجد میں عبدالرحمن بن ملجم کے ہاتھوں شہید ہوئے، حضرت حسین بن علی علیہ‌السلام مدائن میں تھے اور شام کے خلاف فوجی قیادت سنبھالے ہوئے تھے[12]۔

رمضان المبارک میں جہاد یا مسلح قیام کا آغاز کرتے یا رمضان میں شہید ہونے والے دیگر علویوں کے نام درج ذیل ہیں:

الف) حسن بن زید بن محمد بن اسماعیل بن حسن بن زید بن حسن بن علی[13]

ب) ابراہیم بن عبدالله بن حسن بن حسن بن علی جو ابراہیم باخمری کے نام سے مشہور ہیں[14]

ج) محمد بن عبدالله بن حسن بن حسن بن علی جو نفس زکیہ کے نام سے مشہور ہیں[15]۔

[1] ۔ الکافی ، ج 4، ص 95.
[2] ۔ تهذیب الأحکام ، ج 4، ص 200.
[3] ۔ مجلسی، بحار الأنوار ، ج 40، ص 325.
[4] ۔ راوندی، النوادر ، ص 175.
[5] ۔ ابن کثر، البدایۀ و النهایۀ، بیروت، دار الفکر، 1407 ه. ق، ج 3، ص 255.
[6] ۔طبری، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراهیم، بیروت: دارالتراث، 1387 ه. ق، ج 2، ص 420.
[7]۔محمدبن احمد ذهبی، تاریخ الاسلام، تحقیق عمر عبد السلام تدمری، بیروت: دار الکتاب العربی، 1412 ه. ق، ج 2، ص 105.
[8] ۔ابن کثر، البدایۀ و النهایۀ ج 3، ص 260.
[9] ۔طبری، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراهیم، بیروت: دارالتراث، ١٣٨٧ ه. ق ج 3، ص 1310، 1131.
[10] ۔ ابن کثر، البدایۀ و النهایۀ، بیروت، دار الفکر، ١۴٠٧ ه. ق، ج 4، ص 300.
[11] ۔ابن کثر، البدایۀ و النهایۀ، بیروت، دار الفکر، ١۴٠٧ ه. ق، ج 2، ص 246.
[12] ۔بلاذری، انساب الأشراف ، ج 2، ص 497.
[13] ۔طبری، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراهیم، بیروت: دارالتراث، ١٣٨٧ ه. ق ج 9، ص 271.
[14] ۔خلیفۀ بن خیاط، تاریخ خلیفۀ بن خیاط، تحقیق فواز، بیروت: دار الکتب العلمیۀ، 1445 ه. ق، ص 276.
[15] ۔ مسعودی، التنبیه و الإشراف، تصحیح عبد الله اسماعیل الصاوی، قاهرۀ، دار الصاوی، بیتا، ص 295.

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے