سونے کے دروازوں کا نصب کیا جانا
حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کے دروازے پہلے سونے کے نہیں تھے۔ حرم مقدس کا کمرہ چوکور ہے اور اس میں چار داخلی راستے ہیں، شمالی اور مشرقی داخلی دروازے چاندی کے تھے۔ جنوب کی طرف دو پٹ والا لوہے کا ایک دروازہ تھا۔ جبکہ مغربی طرف، جہاں امیرالمومنین علیہالسلام کا سر اقدس ہے، مکمل طور پر لوہے کی جالی سے بند تھا اور وہاں کوئی دروازہ نہیں تھا۔

لاکھوں زائرین کی آمد، خصوصاً امیرالمومنین علیہالسلام کی مخصوص زیارت کے مواقع پر، مزید داخلی راستوں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ زائرین کی سہولت کے لیے مزید دروازے تعمیر کیے گئے۔ اسی مقصد کے تحت آٹھ دروازے بنائے گئے۔ سب سے پہلے حرم مقدس کا مشرقی دروازہ تبدیل کیا گیا، جو داخلے کا مرکزی راستہ اور حضرت کی پائنتی کی جانب واقع ہے۔
یہ دروازہ الحاج محمد تقی اتفاق تہرانی نے سید محمد کلانتر کی کوششوں سے حرم کو بطور تحفہ دیا۔اسے ۱۳۷۶ ہجری، مطابق ۱۹۵۶ء میں نصب کیا گیا۔ اس دروازے پر قصائد لکھے ہوئے ہیں جن میں اس کے نصب کرنے کی تاریخ ذکر ہے۔ یہ قصائد سید موسی بحر العلوم کے ہیں، پہلا قصیدہ دروازے کی دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب لکھا ہوا ہے۔
حرم مقدس کا شمالی دروازہ بھی ایران میں بنایا گیا۔ ۱۴۳۲ ہجری (۲۰۱۱ء) میں حرم مقدس کی انتظامیہ نے اسے نصب کیا۔ ایک سال بعد شیخ جابر جدی کے بیٹے الحاج محسن معین نے مغربی اور جنوبی داخلی دروازے تحفے میں دیے۔ جنہیں ۱۴۳۳ ہجری (۲۰۱۲ء) میں نصب کیا گیا۔

مغربی دروازوں کے فریموں پر سید رضا الہندی کے مشہور قصیدہ الکوثریہ کے کچھ اشعار درج ہیں۔ جبکہ حرم مقدس کے جنوبی دروازوں کے فریموں پر شاعر اہلبیت علیہمالسلام سید منعم الفرطوسی کے اشعار لکھے ہوئے ہیں۔
امیرالمومنین علیہالسلام کی ضریح مقدس کی جالی
امیرالمومنین علیہالسلام کی ضریحِ مقدس کی یہ جالی اسلامی فنِ تعمیر کا ایک عظیم شاہکار اور نادر تحفہ ہے۔ اپنی بے مثال خوبصورتی کے باعث یہ اپنی نوعیت کی منفرد تخلیق شمار ہوتی ہے۔ مادی قدر سے قطعِ نظر، یہ سونے اور چاندی کے فنِ کاریگری کی معراج کی حیثیت رکھتی ہے۔
موجودہ ضریح مقدس کی جالی کی ساخت
موجودہ جالی بوہرہ برادری کے روحانی پیشوا سید طاہر سیف الدین نے تحفہ میں پیش کی تھی۔ اس جالی کی تیاری کا کام ۱۹۴۱ عیسوی میں ہندوستان میں مکمل ہوا۔ اسے ۱۳ رجب ۱۳۶۱ ہجری بمطابق ۱۹۴۲ عیسوی میں نصب کر کے باقاعدہ رونمائی کی گئی۔ یہ جالی دو اہم حصوں پر مشتمل ہے؛ پہلا حصہ چاندی کی بنی ہوئی جالی پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا حصہ اس کے اوپر نصب سونے کا تاج ہے۔ زمین سے لے کر سونے کے تاج کی چوٹی تک ضریح مقدس کی کل اونچائی تقریباً چار میٹر ہے جبکہ اس کی لمبائی چھ میٹر اور چوڑائی پانچ میٹر ہے۔

چاندی کی بنی ہوئی جالی اٹھارہ خانوں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک دروازے کا کام دیتا ہے۔ ان خانوں کے درمیان سونے کے ملمع سے ڈھکے ہوئے ستون ہیں۔ ان پر پھول، پتیوں اور ابھرے ہوئی انگور کی بیلوں کے نفیس نقش و نگار ہیں۔ کونوں کے ستون سونے اور سرخ یاقوت سے مزین ہیں۔ چاندی کی جالی پر ایک چاندی کا طغریٰ نصب ہے۔ اس پر ابن ابی الحدید کے قصیدہ عینیہ کے سترہ اشعار کندہ ہیں۔ چاندی کی جالی اور چاندی کے طغرے کے اوپر نصب سونے کا تاج تین پٹیوں یا حصوں پر مشتمل ہے۔ ان پر قرآن کریم کے سورے اور امیرالمومنین علیہالسلام کی فضیلت میں رسول اللہ صلیاللهعلیہوآلہ کی احادیث کندہ ہیں۔
تاج پر پھولوں اور پتوں کے نہایت نفیس نقوش و نگار بنائے گئے ہیں۔ بالخصوص انگور کی بیلوں اور سنہری پھولوں کے نقش نمایاں ہیں۔ ان میں سے ہر پھول پر اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام کندہ ہے۔ تاج کے چاروں اطراف سونے کی قندیلیں اور چھوٹے تاج نصب ہیں۔ اس کے علاوہ تاج کے ہر کونے پر خالص سونے کے بنے ہوئے چار انار نصب ہیں۔ بہت سے شعراء نے اس جالی کی تنصیب کے موقع پر قصائد لکھے۔ ان میں سید علی ہاشمی کا نام خصوصیت سے قابلِ ذکر ہے۔

ضریح کی تجدید و مرمت
- سنہ ۲۰۰۳ عیسوی کے بعد بہرہ برادری کے افراد اور حرم مقدس کی انتظامیہ کی نگرانی میں ضریح مقدس کی جالی کے متعدد حصوں کی تجدید و مرمت کی گئی۔
- انہیں اقدامات میں سنہ ۱۴۲۶ ہجری بمطابق ۲۰۰۵ عیسوی میں ضریح مقدس پر دوبارہ سونے کا کام کیا گیا۔ اسی سلسلے میں ضریح مقدس کی جالیوں پر سونے کا کام ہوا۔
- تاج کی کندہ کاری پر دوبارہ نقش و نگار بنائے گئے اور سونے کے پھولوں پر کندہ اسماء حسنیٰ کو سرخ یاقوت سے مزین کیا گیا۔ نیز ضریح مقدس کے چاروں کونوں کے چاندی کے ستونوں پر خالص سونا چڑھایا گیا۔ یہ سب کام ۵ شعبان ۱۴۲۷ ہجری بمطابق ۲۰۰۶ عیسوی میں مکمل ہوئے۔
- سنہ ۲۰۰۹ عیسوی میں ضریح مقدس کے کونوں کے لیے نئے ستون تیار ہوئے جو سونے اور چاندی سے بنے تھے۔ ان میں فنکارانہ خوبصورتی اور قیمتی پتھروں کے استعمال کے لحاظ سے منفرد خصوصیات پائی جاتی ہیں ۔
- اسی طرح، سنہ ۲۰۱۱ء میں امیرالمومنین علیہالسلام کی ضریحِ مقدس کا دروازہ بھی تبدیل کیا گیا۔ پرانے دروازے کو حرم مقدس کے خزانے میں محفوظ کر دیا گیا۔

- سنہ ۲۰۱۶ عیسوی میں امیرالمومنین علیہالسلام کی ضریح مقدس کے بیس ستونوں کو سونے سے ملمع شدہ چاندی کے نئے ستونوں سے بدلا گیا ۔ ضریح مقدس کو سہارا دینے والی اصلی ساگوان لکڑی کی مرمت کی گئی۔
- اس کے بعد سنہ ۲۰۱۷ عیسوی میں ایک بار پھر ضریح مقدس کی تجدید و مرمت کا کام انجام دیا گیا۔
ضریح مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کی جالی کی منفرد خصوصیات
مشہور ہے کہ تمام مقدس مقامات میں امیرالمومنین علیہالسلام کی ضریح کی جالی سب سے زیادہ قیمتی اور شاندار شمار ہوتی ہے۔ اس جالی کی تیاری اور اس کی اہم فنی و فنکارانہ خصوصیات بشمول اس کی شکل و صورت، نقش و نگار اور تحریری نقوش کے بارے میں عبدالہادی ابراہیمی وضاحت کرتے ہیں:
بلا شک و شبہ، الفاظ اس قابل نہیں کہ اس ضریح مقدس کی جالی کی عظمت کو بیان کر سکیں۔
تاریخی دستاویزات و مصادر کے مطابق، حضرت امیرالمؤمنین علیہالسلام کی ضریح مقدس پر موجودہ جالی کے علاوہ اب تک پانچ مختلف جالیاں نصب ہو چکی ہیں، پہلی جالی کا تعلق صفوی دور سے ہے جو لوہے کی تھی،جیسا کہ ہم جانتے ہیں، اس ضریح مقدس کی تعمیر کی بنیاد شاہ عباس اول نے ۱۰۲۳ ہجری (۱۶۱۴ء) میں رکھی اور ان کے بعد ان کے پوتے شاہ صفوی نے اس کی تعمیر مکمل کی۔ اس کے بعد قاجاری دور میں، قاجار خاندان کے بانی محمد شاہ قاجار نے حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کو چاندی کی ایک جالی ہدیہ کی، اس طرح لوہے کی جالی ہٹا کر چاندی کی جالی نصب کی گئی، یہ ۱۲۱۱ ہجری (۱۷۹۶ء) میں انجام پایا، اس کے بعد عباس قلی خان کی جالی آئی اور پھر چوتھی جالی سید محمد شیرازی کی جانب سے ناصر الدین شاہ قاجار کے دور میں ہدیہ کی گئی، جسے ۱۲۹۸ ہجری (۱۸۸۱ء) میں نصب کیا گیا۔

موجودہ جالی، جو سید محمد شیرازی کی ہدیہ کردہ جالی کی جگہ نصب کی گئی ہے۔ اپنی ساخت، استعمال شدہ سونے اور پھولوں و پتوں کے نفیس نقوش کے باعث یہ جالی بے مثال حسن رکھتی ہے۔ نفیس تحریروں سمیت اسے تمام مقدس مقامات کی خوبصورت اور قیمتی جالیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ ہندوستان کی بوہرہ برادری کے سربراہ طاہر سیف الدین کا تحفہ ہے۔ اسے ۱۳۶۱ ہجری (۱۹۴۲ء) میں نصب کیا گیا۔ اس جالی کی افتتاحی تقریب، ۱۳ رجب امیرالمومنین علیہالسلام کے یوم ولادت با سعادت کے موقع پر منعقد ہوئی۔ اس وقت کے عراقی وزیر اعظم نوری سعید بھی موجود تھے۔ چابی سید عباس کلیددار الرفیعی کے حوالے کی گئی۔ اس دور کے شعراء نے اپنے اشعار میں اس جالی کے نصب ہونے کے سال کو یادگار قرار دیا۔ انہیں شعراء میں سید علی ہاشمی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ایک قصیدہ لکھ کر جالی کی تعمیر کے سال کو تاریخ میں محفوظ کر لیا۔
ضریح مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کی جالی کے اہم حصے
ضریح مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کی جالی دو اہم حصوں پر مشتمل ہے: نیچے چاندی کی جالی اور اوپر سونے کا تاج، چاندی کی جالی میں اٹھارہ خانے اور دو دروازے ہیں جو ضریح کے جنوبی رخ پر واقع ہیں۔ جالی کے درمیان سونے کے پانی چڑھے ہوئے ستون ہیں۔ نیز جالی کے چاروں اہم کونوں پر چار ستون نصب ہیں۔ ان ستونوں پر پھولوں اور پتیوں اور خاص طور پر انگور کے خوشوں کی نفیس نقاشی کی گئی ہے۔ ہر ستون کے اوپر قرآنی آیت وَھُوَ العَلِیُّ العَظِیم کندہ ہے۔ ستونوں کے نیچے یا علی .. یا علی .. یا علی کی عبارت درج ہے۔ یہ تحریریں مرصع کاری کے ساتھ سرخ یاقوت سے آراستہ ہیں۔

اس کے علاوہ ہر جالی کے دونوں جانب ایک خوبصورت حاشیہ بنایا گیا ہے۔ اس کے درمیان یا علی کی عبارت کندہ ہے۔ یہ خط امیرالمومنین علیہالسلام سے منسوب ایک قلمی نسخہ سے اخذ کیا گیا ہے۔ جو مدرسہ غروی کے قلمی نسخوں کے خزانہ میں محفوظ ہے۔ اس کی تاریخ ۴۰ ہجری بتائی جاتی ہے۔ اس قلمی نسخہ کے آخر میں علی بن ابی طالب کا دستخط مبارک ہے۔ خط کی ساخت کو اس کی اصلی حالت میں برقرار رکھتے ہوئے نقل کیا گیا ہے۔ حال ہی میں ستونوں کے ان حصوں پر نسخہ برداری کیا گیا ہے۔
ضریح مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کی تحریری پٹیاں
ضریح مقدس کی جالی کے اوپر ایک تحریری پٹی نصب ہے۔ اس پر ابن ابی الحدید کے قصیدۂ عینیہ کے اشعار کندہ ہیں جبکہ سونے کے تاج پر تین تحریری پٹیاں موجود ہیں۔ اوپر اور نیچے والی پٹیوں پر قرآن مجید کی آیات کندہ ہیں جبکہ درمیانی پٹی پر امیرالمومنین علیہالسلام کے فضائل میں رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی احادیث نقش ہیں۔ اس جالی کے دستاویزی ثبوت میں ایک قابل ذکر پہلو طاہر سیف الدین کا نام ہے۔ جو نیچے والی سنہری پٹی کے جنوب مغربی سرے پر درج ہے۔

یہ جالی جالیاں بنانے کے فن کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ اس جالی کے اوپر سونے کا ایک چھوٹا تاج نصب ہے۔ اس حصے میں سونے کے پھول بنائے گئے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ لکھے ہوئے ہیں۔ ہر نام سے پہلے ’’یا‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسمائے حسنیٰ کا سلسلہ حضرت کے سر مبارک کی جانب سے شروع ہوتا ہے۔ ان میں یااللہ، یارب، یارحمن، یارحیم جیسے نام شامل ہیں۔ ضریح شریف کے ہر کونے پر سونے کے خوبصورت گلدستے بنائے گئے ہیں جو اپنے فن کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
بعثی حکومت کے دور میں اس جالی کو شدید غفلت کا سامنا رہا، اسے کافی نقصان پہنچا۔ چاندی کی جالی میں دراڑیں پڑ گئیں اور سوراخ ہو گئے۔ اس کے علاوہ ۱۹۹۱ء کے شعبانیہ انتفاضہ کے دوران حرم مقدس، جالی اور صندوق خاتم تک کو بموں کے چھرے بھی لگے جس سے کافی نقصان ہوا۔

لہٰذا ۲۰۰۳ء میں بعثی حکومت کے زوال کے بعد ضریح مقدس کی جالی پر متعدد مرمتی، تجدید اور طلاکاری کے کام ہوئے۔ ان میں سے آخری کام ضریحِ شریف کی جالی کی مکمل تجدید و مرمت تھا۔ یہ کام حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کی نگرانی میں ۱۴۳۸ ہجری، مطابق ۲۰۱۷ء میں انجام دیا گیا۔
جاری۔۔۔