زیر بحث آیت سورہ زمر کی آیت نمبر ۳۲ ہے۔
خداوند متعال اس آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكَافِرِينَ
اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور سچائی (وحی) کے اس کے پاس آنے کے بعد اسے جھٹلائے؟ کیا جہنم میں کافروں کے لیے ٹھکانا نہیں ہے؟
امام باقر علیہالسلام:
امام باقرعلیہالسلام فرماتے ہیں: وہ ظالم شخص ہے جس نے رسول خدا صلىاللہعليہوآلہ کے حکم (امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی ولایت کو قبول کرنے) کو رد کیا۔[۱]
امیرالمومنین علیہالسلام:
امیرالمؤمنین علی علیہالسلام فرماتے ہیں: سچائی (صدق) سے مراد ہم اہل بیت علیہمالسلام کی ولایت ہے۔[۲]
آپ نے یہ بھی فرمایا: میرے نام سے کائنات وجود میں آئی، میرے نام سے انبیاء نے دعا کی، میں لوح ہوں، قلم ہوں، عرش ہوں، کرسی ہوں، سات آسمان ہوں، اسمائے حسنیٰ ہوں اور کلمات علیا ہوں۔[۳]
علی ابن ابراہیم:
علی ابن ابراہیم سے نقل ہوا ہے: آیہ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن کَذَبَ عَلَیَ اللهِ وَ کَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءهُ یعنی وہ حقیقت جو رسول اللہ صلىاللہعليہوآلہ امیرالمومنین علیہالسلام لے کر آئے، اسے لوگوں نے جھٹلایا۔[۴]
ابن عباس:
ابن عباس کہتے ہیں: رسول اللہ صلىاللہعليہوآلہ سچائی (قرآن) لے کر آئے اور علی علیہالسلام نے اس کی تصدیق کی۔ ‘صدق’ سے مراد اہل بیت علیہمالسلام کی ولایت ہے۔[۵]
مآخذ
[۱] بحار الانوار، ج۳۵، ص۴۱۴/ کشف الغمهْ، ج۱، ص۳۱۷/ کشف الیقین، ص۳۷۵
[۲] بحار الانوار، ج۲۴، ص۳۷/ الامالی للطوسی، ص۳۶۴/ تأویل الآیات الظاهرهْ، ص۵۰۵
[۳] طوالع الانوار ، ج ۲ ، ص ۱۲۵
[۴] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۳، ص۲۲۸ بحار الانوار، ج۳۵، ص۴۱۵
[۵] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۳، ص۲۲۸ المناقب، ج۳، ص۹۲