جنگ صفین اور واقعہ حکمیت
جب معرکہ اپنے شباب پر پہنچا اور یوں محسوس ہونے لگا کہ لشکر معاویہ شکست کے دہانے پر ہے، تب عمرو بن عاص نے ایک فریب کارانہ حربہ اختیار کیا۔ اس نے قرآن مجید نیزوں پر بلند کر دیے اور حَکَمیّت کا شُبہہ پیش کر کے جنگ کے رخ کو موڑ دیا۔ یوں یہ واقعہ نہ صرف صفّین کی جنگ کو ایک پیچیدہ اور پرحاشیہ مرحلے میں داخل کر گیا، بلکہ امت مسلمہ میں نفاق و اختلاف کی آگ کو بھی بھڑکا گیا۔
جنگ صفین کیوں ہوئی؟
جب جنگ جمل اختتام کو پہنچی اور امیرالمومنین علیہالسلام حق و باطل کے ایک اور معرکے میں کامیاب ہوئے تو اہلِ کوفہ کے دلوں میں نیا جوش و ولولہ پیدا ہوا۔ وہ چاہتے تھے کہ اب حضرت کے ساتھ شام کے باغی عنصر، یعنی معاویہ کا مقابلہ کیا جائے۔ امیرالمومنین علیہالسلام نے جلدی میں تلوار نہ اٹھائی، بلکہ پہلے سفیروں اور خطوط کے ذریعے معاویہ کو سمجھایا کہ جس بیعت پر تمام مسلمان متفق ہو چکے ہیں، وہ بھی اسے قبول کرے لیکن معاویہ نے ضد اور سرکشی کا راستہ اپنایا، اُس نے صلح کو ٹھکرا کر جنگ کو پسند کیا اور بڑے لشکر کے ساتھ عراق کی طرف روانہ ہوا جب یہ خبر نجف و کوفہ پہنچی تو امیرالمومنین علیہالسلام لشکرِ اسلام کے ہمراہ آگے بڑھے تاکہ دشمن کو عراق کی سرزمین میں داخل ہونے سے روکیں اور خونریزی و فساد سے امت کو بچائیں، لیکن چونکہ معاویہ نے جنگ ہی کو ترجیح دی، اس لیے جنگ صفّین کی آگ بھڑک اٹھی۔
فرات کے پانی کے سلسلہ میں امیرالمومنین علیہالسلام کا دشمنوں کے ساتھ شفیقانہ برتاؤ
جب معاویہ اور اس کے ساتھی صفین پہنچے تو فرات کے کنارے قیام کیا۔ اس نے ابو الاعور سلمی کو مقرر کیا کہ پانی کی حفاظت کرے، امیرالمومنین علیہالسلام نے صعصعہ بن صوحان کو پیغام دکر معاویہ کے پاس بھیجا کہ پانی بند نہ کرے، معاویہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا کیا جائے؟
ان میں سے کچھ نے کہا کہ جس طرح انہوں نے عثمان بن عفان پر پانی بند کیا تھا ان پر بھی اسی طرح پانی بند کیا جائے اور انہیں پیاسا قتل کیا جائے کہ اللہ انہیں ہلاک کرے لیکن عمر ابن عاص نے معاویہ کو سمجھانے کی کوشش کی پانی نہ بند کرے۔
صعصعہ بن صوحان واپس آئے اور امام علیہالسلام کو پورا ماجرا بتایا کہ معاویہ نے کہا کہ میں اپنا فیصلہ آپ تک پہنچا دوں گا لیکن اس نے اس کے فورا بعد کچھ سواروں کو ابوالاعور کی طرف بھیجا تا کہ امیرالمومنین علیہالسلام کے لشکر پر پانی بندد کیا جائے۔
جب خبر امیرالمومنین علیہالسلام تک پہنچی تو آپ علیہالسلام نے فرمایا: اب لڑائی پانی پر ہے۔
پھر ایک دستہ روانہ فرمایا، سخت معرکہ آرائی ہوئی اور اصحاب امیرالمومنین علیہالسلام نے بے مثال شجاعت دکھائی، نتیجہ یہ نکلا کہ فرات پر قبضہ ہو گیا اور دشمن پسپا ہو فرات سے دور ہو گیا۔
جب سپاہیوں نے عرض کیا کہ اب ہم بھی اہل شام کو پانی نہ دیں امیرالمومنین علیہالسلام نے ان سے فرمایا: انہیں جتنا ضرورت ہے پانی لے جانے دیجئے۔ اللہ نے آپ کی مدد کی اور ان کا ظلم آشکار کر دیا۔
امیرالمومنین علیہالسلام کا اپنے بدترین دشمن کے ساتھ یہ سلوک تھا۔
حضرت عمار بن یاسر کی شہادت کا واقعہ: رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی پیشگوئی اور دشمنان اسلام کی رسوائی
امیرالمومنین علیہالسلام نے اپنی فوج کے کچھ کمانداروں کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ تم معاویہ کے پاس جاؤ اور اسے اللہ کی اطاعت اور جماعت میں شامل ہونے کی دعوت دو۔ انہوں نے حسب حکم عمل کیا، لیکن معاویہ نے ان کی باتیں سن کر کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ، تمہارے اور میرے درمیان اب صرف تلوار ہی فیصلہ کرے گی، وہ واپس امیرالمومنین کے پاس آئے اور انہیں صورت حال سے آگاہ کیا۔
نتیجتاً دونوں جانب سے سخت جنگ چھڑ گئی، ہر روز اتنی شدید لڑائی ہوتی تھی کہ جنگی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے بعد امیرالمومنین علیہالسلام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حضرت عمار بن یاسر کی قیادت میں میدان جنگ میں آگے بڑھے۔ جب عمرو بن عاص کے سامنے پہنچے تو حضرت عمار نے کہا کہ اس جھنڈے والے (یعنی معاویہ) نے تین بار رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ سے جنگ کی ہے اور یہ چوتھی بار ہے، اس بار بھی ماضی کی طرح نہ پاکیزہ ہے نہ نیک۔
حَبّہ بن حُوَین عِرْنی سے روایت ہیں:
میں نے حذیفہ بن یمان سے کہا:
ہمیں کوئی حدیث سنائیے، کیونکہ ہم فتنوں سے ڈرتے ہیں۔
انہوں نے جواب دیا:
تم ابن سُمَیّہ (عمار بن یاسر) کی جماعت سے وابستہ رہو، کیونکہ رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک متجاوز، ظالم اور گمراہ گروہ جو سیدھے راستے سے ہٹ کر عہد شکنی کرے گا، وہی عمار کو شہید کرے گا،ان کا آخری رزق دودھ ہوگا جس میں پانی ملا ہوا ہوگا۔
حَبّہ کہتے ہیں:
میں خود اس دن موجود تھا جب عمار شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا:
میرا آخری رزق لاؤ، ان کے لیے ایک بڑے سرخ حلقے والے برتن میں دودھ لایا گیا جس میں پانی ملا ہوا تھا۔
معاویہ بن ابی سفیان کے بہت سے ساتھی حضرت عمار کی شہادت پر ذلیل و خوار ہوئے، کیونکہ رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی عمار کے بارے میں پیشگوئی کسی سے پوشیدہ نہیں تھی۔
آپ علیہالسلام نے فرمایا تھا:
کتنے خوش نصیب ہیں عمار! انہیں ایک ظالم اور گمراہ گروہ شہید کرے گا، عمار ہمیشہ حق کے ساتھ ہیں اور حق ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا۔
یہ واقعات پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی نبوت کی واضح نشانیاں ہیں۔
نیزوں پر قرآن: حق کی آڑ میں باطل
عمرو بن عاص نے جب دیکھا کہ عراق کے لوگ کس طرح ڈٹ کر سے مقابلہ کر رہے ہیں، تو شکست کے خوف سے معاویہ سے کہا:
کیا میں تمہیں ایک ایسی تجویز دوں جو ہمارے اتحاد کو مضبوط کرے اور ان (علی علیہ السلام کے لشکر) میں پھوٹ ڈال دے؟
معاویہ نے کہا: ضرور دو۔
عمرو نے کہا: ہم قرآن بلند کری گے اور کہیں گے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ قرآن کرے گا۔
اس کے بعد انہوں نے قرآنوں کو نیزوں پر بلند اور اعلان کیا: یہ قرآن، اللہ کی کتاب، ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرےگی۔ کیا عراق اور شام کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کوئی زندہ بچے گا؟
جب لوگوں نے یہ منظر دیکھا، تو وہ کہنے لگے: ہم کتاب اللہ کے آگے سر تسلیم خم ہیں۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے ان سے فرمایا:
اے اللہ کے بندو! حق اور سچائی پر قائم رہو اور اپنے دشمن سے لڑائی جاری رکھو، کیونکہ معاویہ، عمرو، ابن ابی معیط، حبیب، ابن ابی سرح اور ضحاک نہ تو دیندار ہیں اور نہ ہی قرآن کو جانتے ہیں، میں انہیں تم سے بہتر جانتا ہوں، بچپن سے لے کر جوانی تک یقیناً وہ بدترین بچے تھے اور اب بدترین مرد ہیں! تم پر افسوس کہ انہوں نے قرآن کو دھوکے اور فریب سے نیزوں پر اٹھا رکھا ہے۔
خوارج کی فکر کی بنیاد
کچھ لوگوں نے امیرالمومنین علیہالسلام سے کہا: ہم اس بات کو قبول نہیں کر سکتے کہ ہمیں کتاب اللہ کی طرف بلایا جائے اور ہم اسے رد کریں۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے انہیں جواب دیا: ہم ان سے اس لیے لڑ رہے ہیں تاکہ وہ اس کتاب کے حکم کو مان لیں کیونکہ انہوں نے اللہ کے حکم سے انکار کیا، عہد توڑا اور قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔
ایک گروہ جو بعد میں خوارج کے نام سے جانا گیا۔
انہوں نے امیرالمومنین علیہالسلام سے کہا:
اے علی! کتاب اللہ کی دعوت قبول کرو، ورنہ ہم آپ علیہالسلام کو اور آپ علیہالسلام کی سب چیزیں ان کے حوالے کر دیں گے، یا وہی کریں گے جو ہم نے عثمان بن عفان کے ساتھ کیا تھا۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے ان کے جواب میں فرمایا:
یاد رکھو، میں نے تمہیں منع کیا تھا، میری بات یاد رکھو، اگر تم میرا کہنا مانتے ہو تو لڑو اور اگر نافرمانی کرتے ہو تو جو چاہو کرو۔
اس وقت امام علیہ السلام کے لشکر اور معاویہ کے درمیان محض چند میٹر کا فاصلہ تھا، اگر یہ گروہ معاویہ کے چال میں نہ پھنستا، تو امیرالمومنین علیہالسلام صورت حال پر قابو پا سکتے تھے اور فتنے کو ابتدا میں ہی ختم کر سکتے تھے لیکن واقعہ حَکَمیت نے معاملات کو بدترین شکل دے دی اور مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں رکاوٹ ایجاد ہوئی، یہ تقدیر میں تھا کہ یہ سازش کامیاب ہو اور اس کے بعد مصیبتیں اور آفتیں آئیں۔
حَکَمیت کے بارے میں امیرالمومنین علیہالسلام کا واضح اور روشن خطاب
جب واقعہ حَکَمیت کا اختتام ہوا، تو امیرالمومنین علیہالسلام کے ایک ساتھی نے کہا:
دین خدا میں مردوں کو حَکَم کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ حکم صرف اللہ کا ہے (لا حكم إلّا لله) اس نے حضرت کے خطبے کو اس نعرے سے متاثر کیا، جس کی پیروی میں ایک گروہ نے بھی اس کا ساتھ دیا، یہ افراد، جو تقریباً بارہ ہزار کی تعداد میں تھے، محکمہ کے نام سے مشہور ہوئے، حروراء نامی علاقے میں جا بسے، اسی وجہ سے انہیں حروریہ بھی کہا جاتا ہے۔
حکمیت سے پہلے اپنے ابتدائی خطاب میں، امیرالمومنین علیہالسلام نے ان سے مناظرہ کرتے ہوئے فرمایا:
ہم نے دونوں حَکَموں پر شرط عائد کی ہے کہ وہ قرآن کی روشنی میں فیصلہ کریں، جو کچھ قرآن زندہ کرتا ہے، اسے قائم رکھیں، اور جو کچھ قرآن مردہ قرار دیتا ہے، اسے فنا ہوا سمجھیں۔ پس اگر وہ قرآن کے مطابق عمل کریں اور فیصلہ دیں، تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور اگر سرکشی کریں تو ہم ان سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں۔
انہوں (خوارج) نے کہا: کیا خون کے معاملے میں مردوں کا فیصلہ انصاف پر مبنی ہو سکتا ہے؟
حضرت نے فرمایا:
ہم نے قرآن کو حَکم بنایا ہے، نہ کہ مردوں کو قرآن دو جلدوں کے درمیان ایک تحریر ہے، جو نہ بول سکتا ہے اور نہ ہی بیان کر سکتا ہے بلکہ مرد ہی ہیں جو اس کے ذریعے بولتے ہیں۔
جنگ صفین اور واقعہ حکمیت
حکمیت کا فریب: ابوموسی اشعری اور عمرو بن عاص کی مکاری
ابوموسی اشعری اور عمرو بن عاص دونوں حَکَم مقرر ہوئے، ابوموسی، عمرو کی عیاری کا شکار ہو گئے۔
عمرو بن عاص نے ابوموسی سے کہا: تم رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کے صحابی ہو اور مجھ سے عمر میں بڑے ہو، لہٰذا پہلے تم اپنی رائے دیں۔
عمرو درحقیقت چاہتا تھا کہ ابوموسی کو امیرالمومنین علیہالسلام کے عہدے سے معزولی کا اعلان کرنے پر مجبور کرے۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہم علی اور معاویہ دونوں کو معزول کر کے (انتخابی کونسل) کے حوالے کرتے ہیں تاکہ مسلمان اپنی مرضی کا خلیفہ منتخب کر سکیں۔ ابوموسی اشعری آگے بڑھے اور تمام حاضرین کے سامنے اعلان کیا کہ وہ امیرالمومنین علیہالسلام کو خلافت سے معزول کرتے ہیں اور وہاں سے ہٹ گئے۔ اس کے بعد عمرو بن عاص کھڑا ہوا اور کہا کہ آپ نے ان کا اعلان سنا کہ انہوں نے اپنے علی کو معزول کر دیا ہے میں بھی اسی طرح علی کو معزول کرتا ہوں اور معاویہ کو خلیفہ قرار دیتا ہوں۔ابوموسی حیران رہ گیا اور دونوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ اس کے ساتھ ہی حکمیت کا یہ مذموم ڈراما اپنے انجام کو پہنچا۔ مسلمان ابوموسی کی تلاش میں نکلے، لیکن وہ مکہ فرار ہو گیا تھا۔ عمرو بن عاص اور اہل شام معاویہ کے پاس پہنچے اور اسے خلیفہ تسلیم کرتے ہوئے اس کی بیعت کی۔ اس طرح امیرالمومنین علیہالسلام واپس لوٹے اور اپنی فوج کو دوبارہ منظم کرکے جنگ کی نئی تیاریاں شروع کیں، لیکن ان کے اپنے ساتھیوں میں پیدا ہونے والے نئے اختلافات نے انہیں اپنے مقاصد کی طرف بڑھنے سے روک دیا۔