سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

پروردگار کے ساتھ مولائے متقیان کا محکم عہد و پیمان

سورہ احزاب کی آیات نمبر ۲۲ اور ۲۳، جن کا تذکرہ زیارت غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں بھی آیا ہے، ان نفوس قدسیہ کے راسخ ایمان اور بے مثال وفاداری کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو سخت ترین مصائب و مشکلات کے سامنے بھی اللہ کے ساتھ کیے گئے اپنے عہد و پیمان پر ثابت قدم رہے۔ امیر‌المومنین علیہ‌السلام ان تمام اوصاف کا اعلیٰ ترین اور کامل ترین نمونہ ہیں؛ کیونکہ آپ علیہ‌السلام زندگی کے ہر میدان، منجملہ تمام جنگوں میں، الٰہی پیمان پر پوری طرح وفادار رہے اور انتہائی شجاعت کے ساتھ عمل پیرا ہوئے۔

سورۂ احزاب کی آیات نمبر ۲۲ اور ۲۳ ان نفوس قدسیہ کا ذکر کرتی ہیں، جو اللہ کے عہد و پیمان پر قائم رہے۔ انہوں نے اسی راہ میں اپنی جانیں قربان کردیں اور وفاداری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ مفسرین کرام نے سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۲۳ کو امیرالمومنین علیہ‌السلام کی شجاعت و وفاداری سے منسوب کیا ہے۔ انہوں نے میدانِ جنگ میں آپ علیہ‌السلام کی ثابت قدمی اور دینِ مبین سے کامل وابستگی کو نمایاں کیا ہے۔

سورہ احزاب کی آیت نمبر ۲۲

«وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَاناً وَتَسْلِيماً»

اور جب مؤمنین نے (جنگِ خندق میں کفر کے) لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے:

یہ تو وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا (کہ آزمائش آئے گی) اور اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ فرمایا تھا؛ اور اس (منظر) نے ان کے ایمان اور سرِ تسلیم خم کرنے میں مزید اضافہ ہی کیا۔

سورہ احزاب کی آیت نمبر ۲۳

«مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً»

مؤمنین میں سے کچھ ایسے مردِ میدان بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے اپنے عہد کو سچ کر دکھایا، پس ان میں سے بعض نے (شہادت پا کر) اپنا وقت پورا کر لیا اور ان میں سے کچھ (جامِ شہادت کے) منتظر ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں ذرا برابر بھی تبدیلی نہیں کی۔

امام علی نقی علیہ‌السلام کی روایت کے مطابق، زیارتِ غدیریہ میں ان آیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ آیات امیرالمومنین علیہ‌السلام کے بلند و بالاتر مقام و مرتبے کی یاد دہانی کراتی ہیں۔

زیارت غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں سورہ احزاب کی آیت نمبر ۲۲ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیا ہے:

آپ علیہ‌السلام علم قرآن کے مالک، حکمت تاویل کے دانا اور پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ واشگاف کلمات کے امین ہیں۔ وہ مقامات جن کی (آسمانوں اور زمین پر) گواہی دی گئی اور وہ مناظر جو سب کے مشہود ہیں، آپ علیہ‌السلام ہی سے مخصوص ہیں؛ اور تاریخ کے عظیم ایام جیسے روزِ بدر اور روز احزاب (خندق) آپ علیہ‌السلام ہی کے نام نامی سے جڑے ہوئے ہیں؛

جہاں اللہ نے ارشاد فرمایا:

اور جب مؤمنین نے (جنگ خندق میں) متحدہ لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے: یہ تو وہی معرکہ ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا (کہ اگر ہم ثابت قدم رہے تو پیروزی اور عظیم ثواب پائیں گے) اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا؛ اور اس (لشکروں کے اجتماع) نے ان کے ایمان اور (خدا و رسول کے سامنے) تسلیمِ کامل کے جذبے کو اور زیادہ بڑھا دیا۔

اسی زیارت کے ایک اور مقتدر فراز میں سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۲۳ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں آیا ہے:

اللہ تعالیٰ کی مدح و ثنا نے آپ کو ثناء خوانوں کی مدح اور توصیف کرنے والوں کے وصف سے بالکل بے نیاز کر دیا ہے؛

چنانچہ خدائے متعال نے خود ارشاد فرمایا:

مؤمنین میں سے کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے اپنے اس عہد کو (کہ وہ ثابت قدم رہیں گے اور جان نثار کرنے تک حق کا دفاع کریں گے) سچ کر دکھایا، پس ان میں سے بعض نے (شہید ہو کر) اپنا عہد پورا کر لیا اور کچھ (شہادت کے) منتظر ہیں اور انہوں نے اپنے عزم و عہد کو ہرگز تبدیل نہیں کیا۔

سورۂ احزاب کی آیات ۲۲ اور ۲۳، جو قرآن مجید کی آیات علوی میں شمار ہوتی ہیں، سچے مؤمنین کی اعلیٰ صفات بیان کرتی ہیں۔ یہ آیات الٰہی عہد و پیمان پر استقامت، وفاداری اور ثابت قدمی کا ذکر کرتی ہیں۔ آیت نمبر ۲۳ ان مخلص مؤمنین کا ذکر کرتی ہے، جو اللہ کے ساتھ اپنے عہد پر ثابت قدم رہے۔ ان میں سے بعض نے اسی راہ میں اپنی جانیں جان آفریں کے سپرد کردیں۔ تفاسیر تشیع میں امیر‌المومنین علیہ‌السلام کو ان تمام ملکوتی صفات کا بارز ترین اور کامل ترین مصداق قرار دیا گیا ہے۔

نامور شیعی راوی و مفسر علی بن ابراہیم قمی نے سورۂ احزاب کی آیت ۲۲ کے حوالے سے نقل کیا ہے:

اللہ تعالیٰ نے ان مؤمنین کی توصیف فرمائی ہے جنہوں نے خندق کے مقام پر پیش آنے والی مصیبتوں کے بارے میں رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی پیش گوئی پر کامل یقین کیا تھا، چنانچہ فرمایا:

وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَاناً

یعنی (اس منظر نے) ان کی آزمائش، مجاہدت، کوشش اور الٰہی خوف و تسلیم کو مہمیز کیا۔[۱]

ایک معتبر روایت میں منقول ہے کہ امیرالمومنین علیہ‌السلام جب کسی مومن کی قبر پر مٹی ڈالتے تھے۔ تو سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۲۲ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ دعا فرماتے تھے:

بار الہا! میں تجھ پر ایمان لایا، تیرے رسولوں کی تصدیق کی اور روزِ جزا پر میرا پکا یقین ہے۔

پھر آپ علیہ‌السلام نے فرمایا:

جو شخص بھی (مٹی ڈالتے وقت) یہ دعا پڑھے گا، اللہ اس کے لیے خاک کے ہر ذرے کے بدلے ایک نیکی درج فرمائے گا۔[۲]

مآخذ
[۱] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۱۲، ص۱۱۶ القمی، ج۲، ص۱۸۸
[۲] تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۱۲، ص۱۱۸ بحار الانوار، ج۷۹، ص۲۱

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے