سورہ توبہ کی آیات نمبر ۲۵ اور ۲۶، بحرانی اور نازک لمحات میں میدان جنگ سے فرار کر جانے والوں اور ثابت قدم رہنے والوں کے درمیان واضح فرق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ امیرالمومنین علیہالسلام متعدد معرکوں، من جملہ جنگ حنین میں، شجاعت اور استقامت کی سب سے درخشاں علامت تھے۔ آپ علیہالسلام نے کبھی بھی میدان کارزار سے پشت نہیں دکھائی۔
سورہ توبہ کی آیت نمبر ۲۵
«لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئاً وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ»
یقیناً اللہ نے بہت سے میدانوں میں تمہاری مدد کی ہے اور حنین کے دن بھی (تمہاری مدد کی)؛ جب تمہیں اپنی کثرتِ تعداد پر غرہ (غرور) تھا، مگر وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
سورہ توبہ کی آیت نمبر ۲۶
«ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُوداً لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ»
پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مومنین پر اپنی تسکین (آرامش) نازل فرمائی اور ایسے لشکر اتارے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تھے، اور ان لوگوں کو عذاب دیا جنہوں نے کفر کیا تھا؛ اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔
امام علی نقی علیہالسلام کی روایت کے مطابق، زیارت غدیریہ میں ان آیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ آیات امیرالمومنین علیہالسلام کے بلند و بالاتر مقام و مرتبے کی یاد دہانی کراتی ہیں۔
زیارت غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۲۵ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیا ہے:
آپ علیہالسلام ہی وہ ہستی تھے جو پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی حفاظت کی خاطر مشرکین کو دائیں اور بائیں ڈھکیل رہے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے ان کے شر کو آپ علیہالسلام دونوں سے دور کر دیا جبکہ وہ خود خوفزدہ تھے؛ اور اللہ نے شکست خوردہ بھاگنے والوں کی آپ علیہالسلام کے ذریعے مدد فرمائی۔
اور روز حنین، جیسا کہ قرآن مجید نے اس آیت میں گواہی دی:
جب تمہاری کثرت نے تمہیں مغرور اور شگفتہ کر دیا تھا، مگر اس کثرت نے تمہاری کوئی مشکل حل نہ کی اور زمین اپنی تمام تر وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی، پھر تم پشت پھیر کر میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے؛ پھر اللہ نے اپنی سکینت (آرامش) اپنے رسول اور مؤمنین پر نازل فرمائی۔
اسی طرح زیارت غدیریہ کے ایک اور فراز میں سورہ توبہ کی آیت نمبر ۲۶ کے ذیل میں آیا ہے:
(اس معرکے میں ثابت قدم رہنے والے) مؤمنین سے مراد صرف آپ علیہالسلام، آپ علیہالسلام کے مخلص یاران اور آپ علیہالسلام کے چچا حضرت عباس تھے، جو بھاگنے والوں کو پکار رہے تھے کہ:
اے سورہ بقرہ والو! اے بیعتِ شجرہ والو!
یہاں تک کہ ایک جماعت نے ان کی پکار کا جواب دیا، اور آپ علیہالسلام نے تن تنہا ان کی مشکلات کا بوجھ اٹھایا اور ان کی جگہ نصرت کی ذمہ داری قبول فرمائی۔ پس وہ ثواب سے ناامید ہو کر واپس پلٹے اور توبہ کے سبب خدائے تعالیٰ کے وعدے پر پرامید ہوئے؛
اور یہی خدائے عظیم کا فرمان ہے جس کا ذکر بلند مرتبہ ہے:
پھر اللہ اس (فرار کے گناہ) کے بعد جس کی چاہے توبہ قبول فرماتا ہے، پھر اللہ نے اپنی سکینت (جو کہ قلبی طمأنینت ہے) اپنے رسول اور مؤمنین پر نازل فرمائی اور ایسے لشکر (ملائکہ) اتارے جنہیں تم دیکھ نہیں پاتے تھے، اور ان لوگوں کو سخت سزا دی جنہوں نے کفر اختیار کیا؛ اور یہی کفر پیشوں کا اصل کیفر کردار ہے۔
سورہ توبہ کی آیات ۲۵ اور ۲۶، جو قرآن مجید کی آیاتِ علوی میں شمار ہوتی ہیں، اگرچہ ان میں براہ راست امیرالمومنین علیہالسلام کا نام گرامی ذکر نہیں ہوا، تاہم تفاسیر اور اسلامی روایات میں آپ علیہالسلام کا کردار پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے حقیقی ناصر و مددگار کے طور پر اور ایک ایسی منفرد شخصیت کے روپ میں واضح کیا گیا ہے جو سخت ترین حالات میں بھی ثابت قدم رہی، اور آپ علیہالسلام کو استقامت کے ایک عملی اسوے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
مائل بہ نامور مفسر ضحاک بن مزاحم نے سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۲۵ کی تفسیر میں فرمایا ہے:
یہ آیت ان نفوسِ قدسیہ کے بارے میں نازل ہوئی جو جنگ حنین میں رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے ہمراہ ثابت قدم رہے اور میدان چھوڑ کر نہیں بھاگے؛ اور وہ امیرالمومنین علیہالسلام، عباس، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اور بنی ہاشم کی ایک مختصر سی جماعت تھی۔[۱]
کتاب الافصاح فی الامامۃ میں سورہ توبہ کی آیت نمبر ۲۶ کی تفسیر کے ذیل میں مرقوم ہے:
فرمان الہی:
ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ؛
میں مؤمنین سے مراد امیرالمومنین علیہالسلام اور بنی ہاشم کے وہ آٹھ افراد ہیں جو میدان میں ڈٹے رہے۔
اس نازک وقت میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے دائیں جانب، فضل بن عباس بائیں جانب اور ابوسفیان بن حارث حضور کے خچر کی زین تھامے ہوئے تھے، جبکہ امیرالمومنین علیہالسلام اپنی ذوالفقار کے ساتھ رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے آگے آگے دشمن کا مقابلہ فرما رہے تھے؛ اور نوفل بن حارث، ربیعہ بن حارث، عبداللہ بن زبیر، عتبہ اور معتب (ابولہب کے دو بیٹے) آنحضرت کے گردا گرد گھیرا بنائے ہوئے ان کی حفاظت کر رہے تھے۔[۲]
مآخذ
[۱] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۶، ص۹۲ شواهد التنزیل، ج۱، ص۳۳۱
[۲] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۶، ص۹۰ الارشاد، ج۱، ص۱۴۰/ کشف الغمهْ، ج۱، ص۲۲۱/ نهج الحق، ص۲۵۰/ کشف الیقین، ص۱۴۲