سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر ۵۳ ان نفوسِ قدسیہ کے عہد اور اخلاص کو ظاہر کرتی ہے جنہوں نے حق کی پکار پر لبیک کہا۔ حضرت امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کی حواریوں سے شباہت اس امر میں ہے کہ آپ نے رسالتِ مآب (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے آغاز ہی سے اسلام قبول فرمایا اور ہر کٹھن و دشوار مرحلے پر دینِ اسلام کی نصرت اور اس کے تحفظ میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی؛ یہاں تک کہ پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے آپ کو اپنا بھائی، وصی اور جانشین مقرر فرمایا۔
سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر ۵۳
«رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ»
"اے ہمارے پروردگار! جو کچھ تو نے نازل فرمایا ہے ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس رسول کی پیروی کی، پس تو ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔”
حضرت امام علی نقیالہادی (علیہالسلام) کی روایت کے مطابق "زیارتِ غدیریہ” میں یہ آیات حضرت امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے بلند و بالا مقام و مرتبہ کی یاد دہانی کراتی ہیں۔
زیارتِ غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں آیا ہے:
"پس جو کچھ اللہ نے آپ کے بارے میں اپنے نبی پر نازل فرمایا تھا، اس پر سوائے ایک قلیل جماعت کے کوئی ایمان نہ لایا، اور کثیر لوگوں کے لیے (اس حکم نے) سوائے خسارے کے کچھ نہ بڑھایا؛ اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی تھی جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے: ‘اے ہمارے پروردگار! جو کچھ تو نے (ہماری ہدایت کے لیے) نازل فرمایا ہے ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس رسول (یعنی عیسیٰ مسیح) کی پیروی کی، پس تو ہمیں (عیسیٰ کی نبوت اور آسمانی کتابوں کے برحق ہونے کی) گواہی دینے والوں کے زمرے میں لکھ لے!’ (آلِ عمران/۵۳)”
وہ مؤمنین جن کا ذکر سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر ۵۳ (جو کہ قرآنِ مجید کی آیاتِ علوی میں شمار ہوتی ہے) میں دین کے ناصر و مددگار کے طور پر ہوا ہے، ان کا ایک کامل اسوہ اور نمونۂ عمل موجود ہے اور امتِ مسلمہ کے درمیان حضرت امیرالمؤمنین (علیہالسلام) اس کا سب سے واضح اور اعلیٰ مصداق ہیں۔ آپ نے عدلِ الٰہی کے نفاذ، پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کی حمایت اور دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت میں ایک بے مثل اور لازوال کردار ادا کیا ہے۔
حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) نے سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر ۵۳ کی تفسیر میں ارشاد فرمایا ہے:
"ہم ہی وہ ‘شاہدین’ (گواہی دینے والے) ہیں؛ ہم (روزِ قیامت) انبیاء (علیہمالسلام) کے حق میں ان کی امتوں پر گواہی دیں گے۔”[۱]
مآخذ
[۱] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۲، ص۵۸۶ بحار الانوار، ج۲۳، ص۳۳۶/ المناقب، ج۴، ص۲۸۳