سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام کی جانب سے مدرسۂ «شجرۂ طیبہ» کے شہداء کے خاندانوں کی تکریم

حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام نے اسلامی جمہوریۂ ایران کے مدرسۂ «شجرۂ طیبہ» کے شہداء کے اہلِ خانہ کی تکریم کی۔

حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام نے ایران کے شہر میناب سے تعلق رکھنے والے مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے شہداء کے خاندانوں کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی۔ یہ وہ خاندان ہیں جنہوں نے حالیہ جنگ کے دوران اپنے عزیزوں کو کھو دیا۔

تقریب میں نجف اشرف میں رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی کے دفتر کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین سید مجتبی حسینی، حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام کے متولی سید عیسیٰ الخرسان، ان کے معاون، بورڈ کے اراکین، متعدد سرکاری شخصیات اور روضۂ مقدس کے خدام نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام کے قاری سید محمد مصطفیٰ حسینی کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس کے بعد زیارتِ امین اللہ پڑھی گئی۔ تقریب کی روحانی فضا شہداء کی قربانیوں پر غم اور فخر کے جذبات کا حسین امتزاج پیش کر رہی تھی۔

ایثار و قربانی

حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام کے متولی سید عیسیٰ الخرسان نے اپنے خطاب میں کہا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے روضۂ مبارک کے جوار میں خدمت انجام دینے والے خدام شہداء کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے شہداء کے لیے رحمت و رضوانِ الٰہی اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبر و سکون کی دعا کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ موقع ماہِ محرم کی آمد کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے غم و سوگ کا مہینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں نے اپنے سب سے قیمتی سرمایہ کو راہِ حق میں پیش کرکے ایثار اور قربانی کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی ہے اور اہلِ بیت علیہم السلام کے صبر، استقامت اور درگزر کے راستے پر گامزن ہیں۔

شہداء کے خاندانوں کی میزبانی

روضۂ مقدس علوی کے شعبۂ میڈیا کے سربراہ کے انتظامی معاون جعفر البدیری نے بتایا کہ شہداء کے اہلِ خانہ کی میزبانی روضۂ مقدس علوی کی تولیت کے خصوصی اقدام اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے ساتھ طے پانے والے مفاہمتی معاہدوں کے تحت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں ۱۰۰ سے زائد خاندان شریک ہیں جن کے افراد کی مجموعی تعداد ۳۵۰ سے زیادہ ہے۔ اس میں نجف اشرف، کوفہ، کربلائے معلیٰ، کاظمین، سامراء اور بلد کے مقدس مقامات کی زیارت اور مختلف مذہبی و ثقافتی سرگرمیاں شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہداء کے خاندانوں کی عظیم قربانیوں اور بلند مقام کے شایانِ شان ایک خصوصی تقریبِ تکریم بھی منعقد کی گئی ہے۔

وفاداری اور قدردانی کا پیغام

جعفر البدیری نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد ان خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا اور ان کے غم کو کم کرنا ہے، نیز ان کے ان فرزندوں کی قربانیوں پر شکریہ اور قدردانی پیش کرنا ہے جنہوں نے اپنے عقائد، اقدار اور اصولوں کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ تکریم دراصل وفاداری، قدردانی اور احترام کا پیغام ہے ان افراد کے لیے جنہوں نے اپنے عقیدے اور اصولوں کی خاطر اپنی سب سے قیمتی متاع قربان کر دی۔

قابلِ ذکر ہے کہ یہ اقدام حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام کے ایک انسانی اور فلاحی پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد شہداء کے خاندانوں کی دلجوئی، حمایت اور خدمت کرنا ہے۔ یہ پروگرام انسانی ہمدردی، باہمی تعاون اور سماجی یکجہتی کے اس اصول کی عملی تصویر ہے جس پر امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت میں خاص تاکید کی گئی ہے۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے