جب سورۂ براءت کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے ابوبکر کو مکہ روانہ فرمایا۔ انہیں ان آیات کے اعلان اور تبلیغ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ مگر ابھی وہ زیادہ دور نہ گیا تھا کہ جبرئیل امین نازل ہوئے اور آسمانی حکم تبدیل ہوگیا۔
رسول خدا صلیاللهعلیہوآلہ نے امیرالمومنین علی علیہالسلام کو بلایا اور فرمایا:
اے علی! تم روانہ ہو، ابوبکر تک پہنچو، اس سے یہ صحیفہ لو، اور خود ان آیات کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سناؤ!
جُحفہ میں ملاقات
امیرالمومنین علی علیہالسلام تیزی سے روانہ ہوئے اور راستے میں ابوبکر کو جا لیا۔ آپ علیہالسلام نے آیات والا صحیفہ اس سے لیا۔
خدا و رسول کے حکم کے مطابق خود اسے مکہ پہنچانے پر مامور ہوگئے۔
جب ابوبکر مدینہ واپس پہنچا تو حیرت سے پوچھا؛
یا رسولَ الله! کیا میرے بارے میں کوئی خاص آیت نازل ہوئی؟
رسول خدا صلیاللهعلیہوآلہ نے جواب دیا:
نہیں، لیکن جبرئیل یہ پیغام لائے ہیں کہ:
لَن يُؤَدِّيَ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ
تمھاری طرف سے اس مأموریت کو کوئی انجام نہیں دے سکتا مگر تم خود یا تم میں سے ایک شخص۔ ایک شخص جو تمھاری جان سے ہے
ایک نہایت اہم نکتہ تعبیر «رَجُلٌ مِنْكَ» یعنی تمہاری جانب سے ایک مرد ہے، جو محض نسبی قربت یا رشتہ داری کو ظاہر نہیں کرتی۔
بلکہ یہ روحانی مقام، نورانی یکسانی اور قربِ الٰہی کی اس کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ اسی قرب کے بدولت امیرالمومنین علی علیہالسلام کو رسالت سے وابستہ اہم ذمہ داریاں عطا ہوئیں۔
یہی وہ دلیل ہے جو اعلان کرتی ہے کہ امیرالمومنین علی علیہالسلام، رسول خدا صلیاللهعلیہوآلہ کے نفس مطہر کا امتداد اور حقیقی جانشین ہیں۔
عمدة العیون، ابن بطریق، ج ۱، ص ۱۶۰