غدیر کے اس پڑاؤ پر، ایک لاکھ بیس ہزار کے مجمعےسے رسولِ اکرم صلیاللہعلیهوآلہ کا بار بار اپنے کلام کی تکرار کروانا، اپنے بطن میں کس عظیم پیغام کی پرورش کر رہا تھا؟
حج سے لوٹنے والے دسیوں ہزار مسلمانوں کی وہ یک زبان پکار، تاریخِ انسانیت کے لیے اس میقات پر کیا سوغات رکھتی تھی جس کی گونج حق کے متلاشی کانوں کے لیے رہتی دنیا تک ہر آواز سے زیادہ توانا اور مستحکم ہے؟
شاید یہ کہنا بجا ہو کہ غدیر کی سرزمین پر ایک لاکھ بیس ہزار افراد سے بیک وقت بیعت لینا، صرف خیر البشر حضرت محمد مصطفیٰ صلیاللہعلیهوآلہ ہی انجام دے سکتے تھے۔
پیغمبر اکرم صلیاللہعلیهوآلہ نے لسانی بیعت کس صورت میں لی؟
غدیر میں بیعت کا اصل عنوان، امیرالمؤمنین علیہالسلام اور آپ کی نسل سے آنے والے ائمہ علیہم السلام کی امامت کا اقرار و قبولیت تھا، جن کا سلسلہ امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر ختم ہوتا ہے اور جن کی امامت قیامت تک قائم ہے۔ اس بیعت میں ان تمام شئون اور مقامات کی قبولیت بھی شامل تھی جن کا ذکر خطبے کے متن میں تفصیلاً آیا ہے۔
پس غدیر کی بیعت کا اصل موضوع محض علی ابن ابی طالب علیہالسلام کی امامت و خلافت تک محدود نہیں، بلکہ یہ ان تمام ائمہ علیہم السلام کی امامت کی بیعت ہے جن کی پیشوائی تاقیامت جاری رہے گی۔
وہ ائمہ جن سے پہلے اور جن کے بعد کوئی امام نہیں، اور جن کے سوا کسی کو ایسا دعویٰ کرنے کا حق نہیں۔ چنانچہ لوگوں نے جب امیر المؤمنین علیہالسلام کے ہاتھ پر بیعت کی، تو گویا انھوں نے براہِ راست تمام ائمہِ معصومین علیہم السلام ہی کی بیعت کا قلادہ اپنی گردن میں ڈالا۔
غدیر میں بیعتِ لسانی کیسے انجام پائی؟
خطبہ غدیر کے اختتام پر رسولِ اکرم صلیاللہعلیهوآلہ کے اہم اقدامات میں سے ایک بیعت لینا تھا۔ چونکہ اتنے بڑے ہجوم سے انفرادی طور پر بیعت لینا ناممکن تھا اور دوسری طرف یہ اندیشہ بھی تھا کہ لوگ مختلف بہانوں سے اس بیعت سے کنارہ کشی اختیار نہ کر لیں، جس کے نتیجے میں ان سے عملی وابستگی اور قانونی گواہی نہ لی جا سکے؛ لہٰذا آپ صلیاللہعلیهوآلہ نے اپنے خطاب کے آخری لمحات میں فرمایا:
اے لوگو! چونکہ اس قلیل وقت میں اتنے بڑے ہجوم کے ساتھ ایک ایک کر کے مصافحہ کرنا اور بیعت لینا ممکن نہیں ہے، اس لیے تم سب وہی کہو جو میں کہہ رہا ہوں اور یک زبان ہو کر یہ دہراؤ!
ہم تیرے اس حکم کی جو تو نے اللہ کی جانب سے علی ابن ابی طالب علیہالسلام اور ان کی نسل سے آنے والے ائمہ علیہم السلام کے بارے میں ہم تک پہنچایا ہے، اطاعت کرتے ہیں اور اس پر راضی ہیں۔ ہم اپنے دل، جان، زبان اور ہاتھوں کے ساتھ اس دعوے پر تیری بیعت کرتے ہیں۔
اس حوالے سے ہم سے، ہمارے دلوں، جانوں، زبانوں، ضمیروں اور ہاتھوں سے عہد و پیمان لیا گیا۔ جس سے ہوسکا اس نے ہاتھ کے ذریعے ورنہ اپنی زبان سے اس کا اقرار کیا ہے۔
واضح رہے کہ آنحضرت صلیاللہعلیهوآلہ نے وہ الفاظ خود القا فرمائے جنھیں لوگوں نے دہرانا تھا تاکہ ہر شخص اپنی مرضی سے اقرار نہ کرے، بلکہ سب کے سب اس ایک نکتے پر عہد کریں جس کا تقاضا اللہ کا رسول ان سے کر رہا ہے۔
جب پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ کا کلام ختم ہوا تو تمام مجمعے نے ان الفاظ کو دہرایا اور اس طرح ایک عوامی بیعت مکمل ہوئی۔
ایک لاکھ بیس ہزار افراد سے بیعت لینے کے نبوی انداز کا تجزیہ
جب رسولِ خدا صلیاللہعلیهوآلہ نے بیعت کے معاملے کو مزید سنجیدگی سے اٹھایا، تو غدیر کے منبر سے ایک انوکھے اور بے مثال طریقے سے ایک لاکھ بیس ہزار افراد سے بیک وقت اقرار لیا۔
اس مقصد کے لیے آپ نے تین پہلوؤں کو یکجا فرمایا:
۱) مجمعے کی کثرت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اعلان فرمایا کہ خدا کا حکم ہے کہ ہاتھوں سے بیعت لینے سے پہلے تمہاری زبانوں سے اقرار لوں۔
۲) اس بیعت کا مرکزی موضوع بارہ ائمہ علیہمالسلام کی امامت کو قرار دیا۔
۳) بیعت کے لیے مخصوص جملے بیان فرمائے اور لوگوں سے انھیں دہرانے کا مطالبہ کیا تاکہ بیعت کے اسلوب میں کوئی اختلاف نہ رہے اور سب ایک ہی جیسے الفاظ کے ساتھ بیعتِ لسانی انجام دیں۔
یہ کلمات ایک طرف تو ولایت کے معاملے میں سننے، اطاعت کرنے، راضی رہنے اور تسلیم ہو جانے پر مشتمل تھے، تو دوسری طرف یہ زبانی اقرار دل، جان اور ہاتھ کی بیعت کا عکاس قرار پایا۔
ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو اس میں اس بیعت پر ثابت قدم رہنے کا عہد تھا جو ہر قسم کی تبدیلی، شک، انکار اور عہد شکنی سے پاک ہو۔ مزید برآں، ان لوگوں کے لیے جن کا ہاتھ کے ذریعے بیعت کرنا ممکن نہ تھا، اس زبانی اقرار ہی کو بیعتِ ید (ہاتھ کی بیعت) کے قائم مقام قرار دیا گیا۔
سب سے اہم بات یہ کہ اس میں پیغامِ غدیر کو موجودہ اور آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا عہد لیا گیا۔
آخر میں آنحضرت صلیاللہعلیهوآلہ نے سورہ اسراء کی آیت ۹۶ (قُلْ کَفٰی بِاللہِ شَہِیْداً بَیْنِیْ وَ بَیْنکُمْ) کی تلاوت فرما کر اس بیعتِ لسانی پر اللہ کو گواہ بنایا۔
پیامِ غدیر کی تبلیغ کا عہد: زبانی بی عت کا ایک اہم موڑ
جس طرح منبرِ غدیر کے اوپر سے امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کو بلند کرنا اور متعارف کرانا خطبۂ غدیر میں سب سے اہم عملی اقدام شمار ہوتا ہے، اسی طرح ایک لاکھ بیس ہزار افراد سے ایک ساتھ بیعت لینا بھی انتہائی انوکھا اقدام تھا جس کی مثال لوگوں نے اس دن سے پہلے نہیں دیکھی تھیاور انھیں یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ کام کیسے ممکن ہوگا۔
اس عہد و پیمان کا سب سے دلچسپ اور اہم پہلو یہ تھا کہ یہ ہر دور کی نسلوں اور روئے زمین کے تمام انسانوں تک پیغامِ غدیرپہنچانے کا ایک عالمگیر میثاق تھا۔
ایک ہی لمحے میں ہر شخص کے کان رسولِ خدا صلیاللہعلیهوآلہ کے ایک ایک جملے پر مرکوز ہو گئے تاکہ وہ اسے بعینہِ دہرا سکیں۔
ایک لاکھ بیس ہزار افراد کی وہ ہم آہنگ آواز، جو نبی کریم صلیاللہعلیهوآلہ کے الفاظ سننے کے بعد یک زبان ہو کر انھیں دہرا رہی تھی، غدیر کی سرزمین پر ایک عجیب ہیبت و جلال طاری کر رہی تھی۔
ذرا تصور کیجیے! یہ محض ایک جملے کی تکرار نہ تھی، بلکہ ایک طویل متن تھا جسے لوگوں کو ذہن نشین کروانے کی خاطر مختصر ٹکڑوں میں بیان کیا جا رہا تھا۔ کتنا دلکش اور بے مثال منظر تھا کہ مکمل نظم و ضبط کے ساتھ مسلسل چالیس جملے لوگوں سے کہلوائے گئے اور انھوں نے انھیں دہرایا، یہاں تک کہ اس ازدحامِ خلق کی ملی جلی آوازیں آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگیں۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ بیعت، ہاتھوں کی بیعت سے کہیں بڑھ کر تھی؛ اور اس سے اعلیٰ تدبیر کیا ہو سکتی ہے کہ ہاتھوں سے عہد لینے سے پہلے اس بیعت کے مشمولات اور حقائق کو سب پر واضح کر دیا جائے۔
اس روشنائی نے غدیر کے حاضرین اور بعد میں آنے والی ان تمام نسلوں کے لیے جو اپنے طور پر اس بیعت کا حصہ ہیں اسلام کی شفافیت اور اس کے تبلیغی اسلوب کو آشکار کر دیا اور یہ عمل قیامت تک مکتبِ اسلام کے لیے باعثِ افتخار بن گیا۔
خطبے کے اختتام پر رسولِ خدا صلیاللہعلیهوآلہ کی تنبیہ اور قرآنی آیات کا استشہاد
پیغمبرِ اکرم صلیاللہعلیهوآلہ نے خطبہ غدیر کے گیارہویں اور آخری حصے کے ابتدائی فراز میں بیعت کا مسئلہ پیش کیا اور بالخصوص ائمہ علیہم السلام کی امامت کے بارے میں ایک لاکھ بیس ہزار افراد سے زبانی بیعت اور اقرار لیا۔
پھر آپ صلیاللہعلیهوآلہ نے ایک ایسی ہستی کے طور پر جس نے تمام حجتیں تمام کر دی ہوں اور عہد بھی لے لیا ہو، گویا لوگوں سے یہ سوال کیا:
اس تمام تر لطفِ الٰہی کے بعد، جس نے تمھارے لیے بہترین راہ اور بہترین اماموں کا انتخاب کیا اور تمھیں اس بات کی اجازت نہ دی کہ تم اپنی ناقص سوچ کے پیچھے چل کر خود کو مشکلات میں ڈالو، کیا تم ان تمام نعمتوں کی قدر جانتے ہو؟
آپ صلیاللہعلیهوآلہ نے اس رخ کا آغاز ایک سوال سے کیا اور فرمایا :
مَعاشِرَ النّاسِ، ما تَقُولُونَ
اے لوگو! تم کیا کہتے ہو؟ خدا ہر آواز سے واقف ہے اور ہر نفس کے چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔
پھر آپ صلیاللہعلیهوآلہ نے نصیحت آمیز لہجے میں سورہ اسراء کی پندرہویں آیت تلاوت فرمائی:
فَمَنِ اهْتَدى فَلِنَفْسِهِ وَ مَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها
جو ہدایت پاتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کے لیے پاتا ہے اور جو بھٹک جاتا ہے اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہے۔
اور چونکہ منبر کے بعد سب کو عملی بیعت کے لیے آگے آنا تھا، اس لیے رسولِ خدا صلیاللہعلیهوآلہ نے ایک بار پھر سورہ فتح کی آیت ۱۰:اِنَّ الَّذينَ يُبايِعُونَكَ اِنَّما يُبايِعُونَ اللَّهَ اور سورہ زخرف کی آیت ۲۸: وَ جَعَلَها كَلِمَةً باقِيَةً فى عَقِبِهِ کو اس بیعت کی جزئیات کے ساتھ دہرایا۔ آپ صلیاللہعلیهوآلہ نے اس عہد کو ایک طرف اللہ سے بیعت قرار دیا اور دوسری طرف تمام ائمہ علیہم السلام سے بیعت، اور دنیا و آخرت میں ان کی امامت کا اعلان فرمایا۔
آخر میں آپ صلیاللہعلیهوآلہ نے اس بیعت کا ثمرہ اور فائدہ خود لوگوں کی ذات کے لیے قرار دیا۔
ماخذات:
اسرار غدیر: انصاری محمد باقر، دلیل ما، ۱۳۹۸
بحار الانوار، ج ۴۹ ص ۱۴۶، روضة الواعظین، ص ۲۲۶، الارشاد (شیخ مفید)، ج ۲، ص ۲۶۱، مناقب ابن شہرآشوب، ج ۴، ص ۳۶۴، اعلام الوری، ص ۳۳۴
غدیر کی استثنائی تقریر: انصاری محمد باقر، دلیل ما