۱۸ ذی الحجہ کو عید غدیر ہے اور بعض روایات میں اسے عید الله الاکبر بھی کہا گیا ہے۔ اس دن کی فضیلت اتنی عظیم ہے کہ اہلبیت علیہمالسلام نے اسے تمام مسلمانوں کی عیدوں پر برتر بتایا ہے اور اس دن کی معنوی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اس کے آداب و اعمال بیان کیے ہیں۔
امام رضا علیہالسلام کے نزدیک بھی اس روز کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ آپ ۱۸ ذی الحجہ کو گھر کے خدام کے ساتھ نئے، خوبصورت لباس پہن کر جلوہ افروز ہوتے تھے اور جو شیعہ آپ کی نشست میں مبارکباد دینے کے لیے حاضر ہوتے انھیں آپ افطار کے لئے روک لیا کرتے۔
عید غدیر کے دن، امامت و ولایت کے آٹھویں روشن ستارے، شمس الشموس حضرت علی بن موسی الرضا علیہالسلام خطاب کے ذریعے حاضرین کو اس عید کے بعض پہلوؤں کو بیان فرماتے تھے۔ اس کے بعد امام کھانا، کپڑے، انگوٹھی، اور رقم وغیرہ جیسی چیزیں حاضرین کو اور حتیٰ کہ ان کے گھر والوں کو بھی عطا فرماتے تھے۔
امام رضا علیہالسلام نے فرمایا: میرے والد نے میرے لیے نقل کیا کہ ان کے والد امام جعفر صادق علیہالسلام نے فرمایا: "عید غدیر کا دن آسمان میں زمین سے زیادہ مشہور ہے۔ [۱]
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّكِينَ بِوِلاَيَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِين۔ آئیں اس امامِ بزرگوار کی پیروی کرتے ہوئے عید غدیر کو عظیم سمجھیں اور ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیں۔
مآخذ
[۱] بحار الأنوار، ج۸، ص۱۸۲، ح۱۴۴؛ مصباح المتهجد و سلاح المتعبد، ج۲، ص۷۳۷