سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

Ghadir-9

غدیر میں خواتین کی امیرالمؤمنین علیہ‌السلام سے بیعت

بیعت، صدرِ اسلام کی اسلامی سیاست کے سب سے نازک امور میں سے ایک ہے، اور غدیر کے واقعے میں خواتین سے بھی بیعت لی گئی۔

بیعت کے معنی کیا ہیں؟

لغوی اعتبار سے بیعت ایک عہد اور معاہدہ ہے جو بیعت کرنے والا، بیعت لینے والے (امام، حاکم یا امیر) کے ساتھ اطاعت اور فرمانبرداری کا اور اپنے امور سونپنے کا کرتا ہے۔[۱]

اسلام سے قبل عرب، کسی فرد کی حاکمیت کو قبول کرنے اور اس کی اطاعت کا عہد کرنے کے لیے بیعت کرتے تھے[۲]۔ اسلام کی آمد کے ساتھ یہ طریقہ رائج رہا۔ لیکن جاہلیت کے دور میں خواتین کو بیعت اور اہم امور میں کوئی کردار حاصل نہیں تھا۔

پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کے دور میں زیادہ تر بیعتیں حاکم کے ساتھ ہاتھ ملانے سے ہوتی تھیں۔ البتہ بغیر ہاتھ ملائے بالمشافہ بیعت [۳] اور حاکم کے نمائندے سے غیر بالمشافہ بیعت، یا خط بھیج کر [۴]بیعت بھی معروف تھی۔

غدیر خم میں بیعت

غدیر کا واقعہ، تاریخِ اسلام کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے، جس میں پیغمبر اسلام صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے حجۃ الوداع سے واپسی پر ۱۸ ذی الحجہ ۱۰ ہجری کو غدیر خم کے مقام پر، امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کو اپنا جانشین مقرر کیا۔
اس واقعے کے حاضرین جن میں بزرگ صحابہ کرام بھی شامل تھے جنہوں نے امام علی علیہ‌السلام سے بیعت کی۔

خواتین کی بیعت کا طریقہ کیا تھا؟

پیغمبر صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے حکم دیا کہ خواتین بھی آپ سے بیعت کریں اور آپ کو امیرالمومنین کے لقب سے سلام کریں اور مبارکباد پیش کریں۔ اور انھوں نے اس حکم کو اپنی ازواج کے بارے میں مزید تاکید سے کہا۔

پیغمبر صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے حکم دیا کہ پانی کا ایک برتن لایا جائے، اور اس پر ایک پردہ ڈالا جائے تاکہ خواتین پردے کے اس طرف اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈال کر، اور امیرالمؤمنین علیہ‌السلام دوسری طرف اپنا ہاتھ ڈال کر، ان سے بیعت کریں۔ اور اس طرح خواتین کی بیعت بھی مکمل ہوئی۔

حضرت فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا بھی غدیر کے دن حاضرین میں شامل تھیں۔

اسی طرح پیغمبر صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کی تمام ازواج، اور امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی بہن ام ہانی، حضرت حمزہ کی بیٹی فاطمہ، اور جعفر بن ابی طالب کی زوجہ اسماء بنت عمیس بھی اس تقریب میں موجود تھیں۔[۵]

مآخذ
[۱] دہخدا، علی اکبر، لغت نامہ

[۲] طبری، محمد بن جریر، تاریخ، ج ۱، ص ۵۰۶، بیروت، ۱۴۰۷ ق
[۳] ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، ج ۸، ص۵، بیروت، دار صادر
[۴] ابن عبدالبر، یوسف، التمہید، ج  ۱۶، ص ۳۴۷، تحقیق: مصطفیٰ بن احمدعلوی و محمد عبدالکبیر بکری، رباط، ۱۳۸۷ق
[۵] بحار الانوار، ج ۲۱ ،ص ۳۸۸

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے