کئی تاریخی کتابوں میں غدیر کے واقعے کو نقل کیا گیا ہے اور اس پر زور دیا گیا ہے، اس واقعے کا سب سے اہم مقصد خداوند متعال کے حکم سے امیرالمومنین علیہالسلام کو رسولِ خدا صلیاللہعلیهوآلہ کے حقیقی اور برحق جانشین کے طور پر متعین اور منصوب کرنا تھا۔
غدیر کا واقعہ مسلمانوں میں مشہور ہے، تاہم ہم اسے اہل بیت علیہمالسلام سے منقول روایت کے مطابق، امام محمد باقر علیہ السلام کی زبانِ مبارک سے بیان کریں گے جنھوں نے غدیر کے واقعے کو یوں روایت کیا ہے:
جبرائیل علیہالسلام پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ پر نازل ہوئے اور ان سے کہا: ‘اے محمد! بے شک اللہ عز وجل آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہےکہ میں نے اپنے کسی بھی نبی یا رسول کی روح کو قبض نہیں کیا، مگر یہ کہ میں نے اپنے دین کو مکمل کردیا اور حجت تمام کر دی اور آپ پر دو فرض باقی رہ گئے ہیں جنھیں آپ کو اپنی قوم تک پہنچانا ضروری ہے: حج کا فرض اور اپنے بعد ولایت اور خلافت کا فرض کیوں کہ میری زمین حجت سے خالی نہیں ہے اور کبھی خالی نہیں رہے گی۔
بے شک اللہ عز وجل آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم پر حج کے احکام بیان کریں اور حج ادا کریں اور شہروں اور اطراف اور دیہات سے جو کوئی بھی استطاعت رکھتا ہو، آپ کے ساتھ حج کرے اور انھیں حج کے آداب سکھائیں، جیسے آپ نے انھیں نماز، زکات اور روزہ سکھایا اور انھیں ان احکام سے آگاہ کیا، انھیں حج کے احکام سے آگاہ کریں۔
امام محمدِ باقر علیہالسلام نے مزید فرمایا:
پس رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ کے منادی نے لوگوں کے درمیان اعلان کیا کہ آگاہ ہوجاؤ! رسول ِخدا حج کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ تمھیں حج کے مناسک سکھائیں، جیسا کہ انھوں نےتمھیں دین کے دیگر احکام سکھائے ۔
پس رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ اور لوگ شہر سے نکلے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے تاکہ دیکھیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور ان کی طرح عمل کریں، تو حضرت نے ان کے ساتھ حج کیا، جس میں مدینہ اور اطراف اور دیہات سے ستر ہزار یا اس سے زیادہ افراد شامل تھے۔
امام باقر علیہالسلام فرماتے ہیں:
جب رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ عرفات میں ٹھہر گئے، تو جبرائیل خداوند متعال کی طرف سے ان کے پاس آئے اور کہا: اے محمد! اللہ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ بے شک تمھاری عمر پوری ہو چکی ہے اور تمھاری مہلت ختم ہو گئی ہے اور میں تمھیں اس چیز کی طرف لے جا رہا ہوں جس سے کوئی فرار نہیں، پس اپنا عہد لو اور اپنی وصیت کا اعلان کرو اور جو علم اور تمھارے سے پہلے کے نبیوں کے علوم کا ورثہ، ہتھیار، صندوق اور ان کی تمام نشانیاں تمھارے پاس ہیں، انھیں اپنے جانشین اور وصی کے سپرد کر دو جو تمھارے بعد ہیں، کیوں کہ وہ لوگوں پر میری حجت ہیں اوروہ علی بن ابی طالب علیہماالسلام ہیں۔
انھیں لوگوں کے لیے ایک نشانی کے طور پر قائم کرو اور ان سے ان کے عہد و پیمان اور بیعت کو تجدید کرو اور انھیں یاد دلاؤ، میں نے ان سے کیا عہد لیا ہے کہ انھیں میرے ولی کی ولایت کو قبول کرنا ہو گا اور یہ جاننا ہو گا کہ ان کے مولا ہر مومن مرد اور عورت کے مولا، ‘علی بن ابی طالب’ علیہماالسلام ہیں، کیوں کہ میں نے کسی نبی کی روح کو قبض نہیں کیا، مگر یہ کہ میں نے اپنے دین اور اپنی حجت کو مکمل کر دیا ہو اور میں نے اپنی نعمت کو اپنے اولیا کی محبت اور اپنے دشمنوں سے دشمنی کے ساتھ مکمل کر دیا ہو اور یہی توحید اور دین کی تکمیل اور مخلوقات پر میری نعمت کی تکمیل ہے جو میرے ولی کی اطاعت اور پیروی سے حاصل ہوتی ہے، کیوں کہ میں کبھی بھی زمین کو ولی اور قیّم کے بغیر نہیں چھوڑتا تاکہ وہ میری مخلوق پر میری حجت ہو۔ اس لیےآج میں نے تمھارے لیے تمھاراا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور تمھارے لیے دینِ اسلام کا انتخاب کیا ہے۔[۱]
میری ولایت اور ہر مومن مرد و عورت کے مولا، اب سے علی علیہالسلام ہیں، جو میرے بندے، میرے نبی کے وصی، ان کے بعد میرے جانشین اور مخلوقات پر میری حجتِ بالغہ ہیں۔ ان کی اطاعت، میرے نبی محمد صلیاللہعلیهوآلہ کی اطاعت ہے اور ان کی اور محمد صلیاللہعلیهوآلہ کی اطاعت، میری اطاعت کے مانند ہے۔ پس جو ان کی اطاعت کرے، اس نے میری اطاعت کی اور جو ان کی نافرمانی کرے، اس نے میری نافرمانی کی۔
میں نے انھیں اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان ایک نشانی قرار دیا ہے، جو انھیں پہچانے گا وہ مومن ہے اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے۔
جو کوئی ان کی بیعت کے ساتھ شرک کرے وہ مشرک ہے اور جو علی کی ولایت کے ساتھ مجھ سے ملے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو علی سے دشمنی کے ساتھ مجھ سے ملے گا وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
پس اے محمد صلیاللہعلیهوآلہ ! علی علیہالسلام کو ولایت کے لیے مقرر کرو اور لوگوں سے ان کے لیے بیعت لو اور اس عہد و پیمان کو یاد رکھو جو میں نے ان سے لیا ہے، کہ میں تمھیں اپنی طرف لے جاؤں گا۔
حضرت اس کے بعد غدیر کے واقعے کی روایت یوں بیان فرماتے ہیں:
لیکن رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ نے اپنی قوم اور اہلِ نفاق و تفرقہ افکنی کے سبب خوف محسوس کیا کہ یہ لوگ منتشر ہو جائیں گے اور جاہلیت کے دور کی طرف لوٹ جائیں گے کیوں کہ رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ جانتے تھے کہ یہ جماعت علی علیہالسلام کے ساتھ کتنی دشمنی رکھتی ہے اور ان کے دل میں ان کے خلاف کینہ بھرا ہوا ہے۔
اس لیے آپ نے جبرئیل سے کہا کہ وہ علی علیہالسلام کے لیے لوگوں کے مقابلے میں اپنے پروردگار سے امان کی درخواست کرے اور منتظر رہے کہ جبرئیل اسے پروردگار کی طرف سے ابلاغ کریں چنانچہ انھوں نے لوگوں تک علی علیہالسلام کی ولایت کی تبلیغ کو مؤخر رکھا یہاں تک کہ وہ مسجد خیف پہنچے، وہاں دوبارہ جبرئیل نازل ہوئے اور آپ سے کہا کہ اپنے عہد کو پورا کریں اور علی علیہالسلام کو لوگوں کے لیے نشانی کے طور پر مقرر کریں تاکہ لوگ ان کے ذریعے ہدایت حاصل کریں مگر علی علیہالسلام کو لوگوں سے محفوظ رکھنے کی امان کو خدا کی طرف سے ابلاغ نہیں کیا گیا یہاں تک کہ وہ کراع الغمیم تک پہنچ گئے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے۔
یہاں دوبارہ جبرئیل آپ کے پاس آئے اور آپ کو حکم دیا کہ آپ وہی کریں جو علی علیہالسلام کے بارے میں خدا کی طرف سے آپ کے لیے لایا گیا تھا لیکن آپ کے لیے امان نامہ نہیں لائے۔
امام باقر علیہالسلام فرماتے ہیں:
لہذا آپ نے دوبارہ جبرئیل سے فرمایا مجھے ڈر ہے کہ میری قوم مجھے جھٹلائے گی اور علی علیہالسلام کے بارے میں میری بات قبول نہیں کرے گی۔
پھر آپ اپنی راہ پر چلتے رہے یہاں تک کہ آپ غدیر خم پہنچے جو جحفہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے اور مکے کے راستے میں ایک بڑی بستی ہے اور اس حال میں کہ دن کی پانچ ساعتیں گزر چکی تھیں جبرئیل تنبیہ و خبرداری کے ساتھ اور لوگوں سے امان کی خبر لے کر خدا کی طرف سے واپس آئے اور کہا: اے محمد! خدا عزوجل آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے اے رسول! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے علی کے بارے میں آپ پر نازل ہوا ہے اسے پہنچا دیں اور اگر آپ نہ پہنچائیں تو آپ نے اس کی رسالت کو انجام نہیں دیا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔[۲]
امام علیہالسلام فرماتے ہیں:
مسلمانوں کے کاروان کے آگے کے افراد جب جحفہ کے قریب پہنچے تو رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ نے حکم دیا کہ جو لوگ آگے نکل گئے تھے انھیں اسی جگہ واپس کر دیا جائے اور صبر کیا جائے کہ باقی لوگ پیچھے سے آ کر پہنچیں تاکہ رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ علی علیہالسلام کو ولایت کے لیے نشانی کے طور پر مقرر کریں اور علی علیہالسلام کے بارے میں خداوند متعال کی طرف سے جو کچھ نازل فرمایا گیا ہے اسے انھیں پہنچائیں اور یہ کہ ابھی جبرئیل نے انھیں خبر دی تھی کہ خداوند عزوجل نے انھیں لوگوں کے شر سے امان میں رکھا ہے۔
پس رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ نے امان نامہ آنے پر حکم دیا کہ منادی الصلاۃ جامعۃ (نمازِ جماعت) کا اعلان کرے اور جو لوگ آگے جا چکے تھے انھیں واپس بلایا جائے اور جو لوگ آ رہے تھے انھیں وہیں روکا جائے اور دائیں راستے سے مسجد غدیر کی طرف مڑ جائیں جیسے جبرئیل نے خدا کی طرف سے حکم دیا تھا۔
وہاں کچھ درخت تھے، رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ نے حکم دیا کہ ان کے نیچے کا حصہ صاف کیا جائے اور پتھروں سے ایک منبر جیسی چیز بنائی جائے جو لوگوں کے اوپر ہو اور جب لوگ اس جگہ جمع ہوئے تو رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ ان پتھروں کے اوپر کھڑے ہوئے اور ایک خطبہ دیا جو خطبہ غدیر کے نام سے مشہور ہے جس میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے بعد جانشینی کے بارے میں فرمایا: اے لوگو! یہ علی علیہالسلام میرے بھائی، وصی اور میرے علم کے محافظ اور میری امت پر میرے جانشین اور خدا عزوجل کی کتاب کے مفسر اور اس کی طرف دعوت دینے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں جو الٰہی رضا مندی کا باعث ہے۔
وہ دشمنان ِخدا سے جنگ کرنے والے اور اس کی اطاعت کے حامی اور اس کی نافرمانی سے منع کرنے والے ہیں۔ وہ رسول خدا کے جانشین، امیر المؤمنین اور ہدایت یافتہ امام ہیں۔ وہ خدا کے حکم سے عہد شکنوں، ظالموں اور حق سے خارج ہونے والوں (ناکثین، قاسطین اور مارقین) سے جنگ کریں گے۔
میں اللہ کے حکم سے کہتا ہوں کہ اس کے حکم سے یہ بات تبدیل نہیں ہوسکتی اور اپنے پروردگار کے حکم سے کہتا ہوں کہ اے خدا! اس سے محبت کر جو ان سے محبت کرتا ہے اور اس کا دشمن بن جو ان کا دشمن ہے اور جو ان کا انکار کرے اس پر لعنت کر اور جو ان کے حق کا انکار کرے اس پر غضب کر۔
اے خدا! تو نے مجھ پر نازل فرمایا کہ میرے بعد لوگوں کی پیشوائی اور امامت علی کے لیے ہے جو تیرے ولی ہیں، جب میں نے اس معاملے کو لوگوں کے لیے واضح کر دیا اور انھیں اس مقام پر نصب کر دیا تاکہ تو اپنے بندوں کے لیے اس کام کے ذریعے دین کو مکمل کردے اور ان پر اپنی نعمت تمام کر دے اور تو نے ان کے لیے دینِ اسلام کو پسند کیا اور فرمایا: جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اختیار کرے گا، وہ ہرگز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ [۳]
اے خدا! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے تیرا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔ [۴]
مآخذ
[۱] سوره مائده: آیت ۳، الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً
[۲] سوره مائده: آیت ۶۷، يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ
[۳] سوره آل عمران: آیت ۸۵، وَ مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلامِ دِيناً فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَ هُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخاسِرِينَ
[۴] علامہ مجلسی، بحارالانوار:ج ۳۷، ص ۲۰۱-۲۱۹