سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی قبر مطہر کے مخفی رہنے کا راز

امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کی قبر مطہر تقریباً ایک صدی تک پوشیدہ رہی، اُس وقت حالات کچھ ایسے تھے کہ مصلحت اسی میں تھی کہ آپ کی قبر مبارک عام لوگوں سے مخفی رکھی جائے۔

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی قبر مطہر تقریباً ایک صدی تک پوشیدہ رہی، اُس وقت حالات کچھ ایسے تھے کہ مصلحت اسی میں تھی کہ آپ کی قبر مبارک عام لوگوں سے مخفی رکھی جائے۔

چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے اپنے فرزندان، امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام اور اہل بیت کو وصیت فرمائی کہ شہادت کے بعد آپ کی قبر کو پوشیدہ رکھا جائے؛ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ حکومت بنی‌امیہ کے ہاتھوں میں چلی جائے گی اور وہ اپنی دشمنی کی بنا پر آپ کی قبر کی بے حرمتی سے بھی باز نہ آئیں گے۔

امام حسین علیہ‌السلام سے روایت ہے: امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے جسد اطہر کو رات کے وقت گھر سے باہر لے جایا گیا، مسجد اشعث کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے نجف کے قریب علاقے ‘غَری’ میں دفن کیا گیا۔ وصیت کے مطابق قبر کے مقام کو مخفی رکھا گیا تاکہ بنی‌امیہ کے خطرے سے محفوظ رہے۔

صفوان جمال کہتے ہیں کہ انہوں نے امام جعفر صادق علیہ‌السلام سے پوچھا: اہل بیت علیہم‌السلام نے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی قبر کو ظاہر کیوں نہیں کیا؟ امام نے فرمایا: بنی‌مروان اور خوارج کے اذیت پہنچانے کے خوف سے۔

امام محمد باقر علیہ‌السلام روایت کرتے ہیں: امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام کو وصیت کی تھی کہ چند قریبی افراد کے ساتھ رات کے وقت آپ کو دفن کریں اور قبر کے مقام کو برابر اور ہموار کر دیں۔

امام جعفر صادق علیہ‌السلام فرماتے ہیں: جب امیرالمؤمنین علیہ‌السلام شہید ہوئے تو امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام دو افراد کے ساتھ آپ کے جسد مبارک کو کوفہ سے باہر لے گئے، اور قبرستان کی طرف روانہ ہوئے اور ‘غَری’ میں آپ کو سپرد خاک کیا اور قبر کو ہموار کر دیا۔امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے اپنے فرزند امام حسن علیہ‌السلام کو یہ بھی حکم دیا کہ مختلف مقامات پر چار قبریں کھودی جائیں: مسجد کوفہ میں، رحبہ (کوفہ کے وسیع میدان) میں، غَری (موجودہ نجف) میں، اور جعدہ بن ہبیرہ کے گھر میں۔ اس تدبیر کا مقصد یہ تھا کہ دشمن اصل قبر کا سراغ نہ لگا سکیں۔

شیخ مفید روایت کرتے ہیں: امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام نے اپنے والد کے غسل اور کفن کے امور اُن کی وصیت کے مطابق انجام دیے، پھر جسد مبارک کو غَری (نجف) کی طرف لے گئے اور وہیں دفن کیا، اس کے بعد قبر کے مقام کو مخفی کر دیا تاکہ بنی‌امیہ اس تک نہ پہنچ سکیں۔

قبر امیرالمؤمنین علیہ‌السلام امام جعفر صادق علیہ‌السلام کے زمانے تک مخفی رہی، یہاں تک کہ عباسی دور میں آپ نے اس کے مقام کو ظاہر فرمایا۔

اہل بیت علیہم‌السلام اس معاملے میں نہایت احتیاط برتتے تھے اور قبر کا مقام صرف مخصوص اور رازدار شیعوں کو بتاتے تھے۔ بعض اوقات اپنی اور شیعوں کی جان کی حفاظت کے لیے مبہم جواب بھی دیتے تھے۔ مثلاً جب اسحاق بن عبداللہ — جس کا رجحان امویوں کی طرف تھا — نے امام باقر علیہ‌السلام سے پوچھا کہ امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کی قبر کہاں ہے؟ تو آپ نے فرمایا: انہیں رات کے وقت کوفہ میں دفن کیا گیا تھا اور مجھے اس کے دقیق مقام کا علم نہیں۔

ابن طاووس ایک روایت کی وضاحت میں لکھتے ہیں: اگر راوی قابل اعتماد نہ ہو تو ممکن ہے کہ اس کا بیان غلط یا عمداً مبہم ہو، کیونکہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی قبر جان بوجھ کر مخفی رکھی گئی تھی اور عام لوگوں کو اس کا علم نہ تھا۔

بغداد کے محدث و مؤرخ ابن ابی‌الدنیا نقل کرتے ہیں کہ جب بعض بزرگوں سے پوچھا گیا:کیا کسی نے امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کے جنازے کی نماز پڑھی یا ان کی تدفین دیکھی؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔

لیکن محمد بن سائب نے کہا: امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے جسد مبارک کو رات کے وقت امام حسن، امام حسین علیہماالسلام، محمد بن حنفیہ اور عبداللہ بن جعفر اپنے چند قریبی ساتھیوں کے ساتھ لے گئے اور کوفہ کے پیچھے دفن کیا۔ اس کا سبب خوارج یا دیگر دشمنوں کی طرف سے قبر کے کھود ڈالنے کا خوف تھا۔

ابن ابی‌الحدید نقل کرتے ہیں کہ ابوالقاسم بلخی نے کہا: بنی‌امیہ چاہتے تھے کہ امام کی قبر کو نقصان پہنچائیں۔ اسی لیے آپ کے فرزندوں نے تدفین کے مقام کو مخفی رکھا اور لوگوں کو مختلف تدبیروں کے ذریعے اشتباہ میں ڈال دیا۔ مثلاً ایک تابوت اونٹ پر رکھ کر یہ ظاہر کیا گیا کہ اسے مدینہ لے جایا جا رہا ہے۔

اسی طرح کہیں ایک مصنوعی جنازہ رکھ کر کہا گیا کہ اسے حیرہ میں دفن کیا گیا ہے، اور مختلف مقامات جیسے مسجد کوفہ، قصر امارت، گھروں اور بیابانوں میں اس طرح اصل قبر کا مقام کسی کو معلوم نہ تھا سوائے آپ کے فرزندوں اور چند نہایت قریبی اصحاب کے۔ چنانچہ اکیسویں ماہ رمضان کی سحر کے وقت، خود امامؑ کی وصیت کے مطابق، آپ کو غَری (نجف) میں دفن کیا گیا۔

اس کے بعد مختلف افواہیں پھیل گئیں اور ہر گروہ اپنی ایک بات کہنے لگا۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے یہ افواہ بھی پھیلائی کہ قبیلۂ طَی کے کچھ لوگوں کو ایک اونٹ ملا جس پر ایک صندوق تھا؛ انھوں نے گمان کیا کہ اس میں مال و متاع ہے۔ جب حقیقت معلوم ہوئی تو انھوں نے صندوق کو دفن کر دیا اور اونٹ کو ذبح کر کے کھا لیا! یہ افواہ بنی‌امیہ اور ان کے پیروکاروں میں عام ہو گئی اور بعض لوگوں نے اسے سچ بھی سمجھ لیا۔

ابن حجر عسقلانی لکھتا ہے: امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی قبر اس لیے مخفی رکھی گئی تاکہ خوارج اسے کھود نہ سکیں۔

ابن طاووس اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی قبر مخفی رکھی جائے، کیوں کہ انہیں بنی‌امیہ، خوارج اور دیگر دشمنوں کی عداوت کا خوف تھا۔ اگر قبر ظاہر ہو جاتی اور دشمن اسے کھود ڈالتے تو بنی‌هاشم اور ان کے دشمنوں کے درمیان دوبارہ جنگ و نزاع پیدا ہو سکتا تھا؛ اور امام اپنی حیات مبارک میں بھی ایسے حالات سے اجتناب کرتے تھے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ قبر کے مخفی رہنے میں کئی حکمتیں تھیں جن کی تفصیلات ہمارے لیے پوری طرح معلوم نہیں۔

حسن بن محمد دیلمی بھی لکھتے ہیں: امیرالمؤمنین علیہ‌السلام سے دشمنی رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے زمانے سے لے کر آپ کی شہادت کے بعد تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ ابن ملجم — جو قاتل امام تھا — گرفتار ہونے کے بعد کہنے لگا: اگر میرے بس میں ہوتا تو حسن بن علی کے کان بھی کاٹ ڈالتا!

جب ایک عام فرد کی دشمنی کا یہ حال تھا تو معاویہ، بنی‌امیہ اور ان کے حامیوں کا حال واضح ہے، جن کے ہاتھ میں حکومت اور اقتدار تھا۔ وہ اہل بیت کے نور کو خاموش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ اسی لیے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے وصیت فرمائی کہ انھیں مخفی طور پر دفن کیا جائے تاکہ قبر مطہر بے حرمتی سے محفوظ رہے۔

علاء الدین علی دده لسکتواری لکھتے ہیں:پہلے امام جن کی قبر مخفی رکھی گئی وہ علی بن ابی‌طالب علیہ‌السلام تھے، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ حکومت بنی‌امیہ کے ہاتھ میں چلی جائے گی اور وہ ممکن ہے کہ ان کی قبر کے ساتھ گستاخانہ سلوک کریں۔

بنی‌امیہ کے دور میں حجاج بن یوسف نے بھی امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی قبر کا مقام معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے اس نے حکم دیا کہ نجف اشرف میں تقریباً تین ہزار قبریں کھود ڈالی جائیں، مگر اس کے باوجود وہ کامیاب نہ ہو سکا۔

محمد باقر خوانساری بھی اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: خدا کا شکر ہے کہ حجاج اپنی تمام کوششوں کے باوجود اس مقصد میں ناکام رہا۔

 کتاب تاریخ المرقد العلوی المطهر سے ماخوذ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے