امیرالمومنین علی علیہالسلام نہ صرف زہد، سادگی اور تقویٰ کے سمندر تھے بلکہ عملی میدان میں ان کا طرز زندگی سادہ ترین اور پرہیزگارانہ تھا، مؤرخین و راویوں نے آپ علیہالسلام کی زاہدانہ زندگی کے ایسے حیرت انگیز اور سبق آموز گوشے محفوظ کیے ہیں جن سے رہتی دنیا تک مسلمان سبق حاصل کرتے رہیں گے۔
لباس میں سادگی اور فقرا سے ہمدردی
امیرالمومنین علی علیہالسلام ہمیشہ صاف ستھرا لباس پہنتے، مگر اس کے قیمتی یا نرم ہونے کی پرواہ نہ کرتے، سخت اور کھردرا لباس زیب تن کرتے اور اکثر صرف ایک جوڑا ہی رکھتے، ان کا یہ طریقہ دنیا سے بے رغبتی، فقرا سے ہمدردی اور زہد و تقویٰ کا مظہر تھا۔
جب لوگ آپ علیہالسلام کے پیوند لگے لباس پر طنز یا تعجب کرتے تو آپ علیہالسلام فرماتے:
یہ لباس دل کو خشوع کی طرف مائل کرتا ہے، اور مؤمن اسے دیکھ کر میری پیروی کرتا ہے۔[۰]
ابو اسحاق سبیعی روایت کرتے ہیں:
میں اپنے والد کے کندھوں پر سوار تھا اور امیرالمومنین علی علیہالسلام خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ علیہالسلام اپنی آستین سے ہوا دے رہے تھے۔
میں نے اپنے والد سے پوچھا: کیا امیرالمومنین علیہالسلام کو گرمی لگ رہی ہے؟
میرے والد نے جواب دیا: نہیں، نہ اُنہیں سردی لگ رہی ہے اور نہ ہی گرمی؛ بلکہ انہوں نے اپنا لباس دھویا ہے اور وہ ابھی نم ہے، کیونکہ اُن کے پاس دوسرا لباس نہیں ہے۔ اس لیے اُسے ہوا دے رہے ہیں تاکہ خشک ہو جائے۔[۲]
علی بن اقمر روایت کرتے ہیں:
میں نے امیرالمومنین علیہالسلام کو بازار میں دیکھا کہ اپنی تلوار فروخت کر رہے تھے اور فرما رہے تھے:
کون ہے جو یہ تلوار مجھ سے خریدے؟ قسم اُس ذات کی جس نے دانے کو زمین سے اگایا! میں نے اسی تلوار سے بارہا رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہکو مصیبتوں سے بچایا ہے، اگر میرے پاس دوسرا لباس ہوتا، تو میں اسے ہرگز نہ بیچتا۔[۳]
امیرالمومنین علی علیہالسلام کی زاہدانہ غذا
ہم اُس ہستی کے دسترخوان کی بات کر رہے ہیں جس نے دنیا کو طلاق دے دی تھی۔ امیرالمومنین علی علیہالسلام رنگ برنگے اور لذیذ کھانوں سے پرہیز فرماتے تھے اور نمک کے ساتھ خشک روٹی جیسی سادہ غذا کھاتے تھے۔ کبھی کبھار اس میں دودھ یا سرکہ کا اضافہ کرتے تھے۔ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے زمانے میں فاقہ و بھوک کے عالم میں آپ علیہالسلام اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔
آپ علیہالسلام گوشت بہت کم کھاتے تھے۔
اور فرماتے تھے:اپنے پیٹوں کو جانوروں کا قبرستان نہ بناؤ۔[۴]
اور ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے پیٹ میں آگ رکھے (یعنی حد سے زیادہ کھائے)، وہ خدا کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔[۵]
سُوَید بن غَفَله، امیرالمومنین علیہالسلام کے زہد و پرہیزگاری کا ایک منظر یوں بیان کرتے ہیں:
میں علی بن ابی طالب، امیرالمومنین علیہالسلام کے پاس حاضر ہوا۔ آپ علیہالسلام کو بیٹھے ہوئے پایا، آپ علیہالسلام کے ایک ہاتھ میں کھٹی لسی کا پیالہ تھا، جس کی کھٹاس اتنی شدید تھی کہ میری ناک تک پہنچ رہی تھی اور دوسرے ہاتھ میں جَو کی سخت روٹی کا ٹکڑا تھا، جس پر جَو کے چھلکے صاف نمایاں تھے۔ آپ علیہالسلام خود ہی اس روٹی کو ہاتھ سے ٹکڑے ٹکڑے کر رہے تھے،
اور جب ہاتھ تھک جاتا تو گھٹنے سے روٹی توڑتے اور پھر وہ ٹکڑے لسی میں ڈال دیتے تھے۔آپ علیہالسلام نے مجھ سے فرمایا:قریب آؤ اور ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ۔
میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔
آپ علیہالسلام نے فرمایا:میں نے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ سے سنا ہے کہ جو شخص کسی پسندیدہ کھانے سے محض روزے کی وجہ سے باز رہے، تو اللہ پر حق ہے کہ اُسے جنت کا کھانا کھلائے اور جنتی مشروب سے سیراب کرے۔
میں نے قریب کھڑی حضرت علیہالسلام کی خادمہ فضہ کی طرف دیکھ کر کہا: تمہیں کیا ہو گیا ہے فضہ! کیا تمہیں خدا کا خوف نہیں؟ تم نے مولا کا کھانا الگ نہیں بنایا؟
فضہ نے جواب دیا: خود مولا علیہالسلام نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ اُن کا کھانا الگ سے نہ بنائیں۔
اس پر امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا: تم نے اس سے کیا کہا؟
میں نے ساری بات عرض کی، پھر کہا: میرے ماں باپ قربان ہوں اس ہستی پر! جس کا کھانا کبھی الگ نہ کیا گیا اور جس نے زندگی میں تین دن بھی لگاتار گندم کی روٹی نہیں کھائی، یہاں تک کہ خدا نے ان کی روح قبض فرما لی!
یہ بات مسلم ہے کہ امیرالمومنین علیہالسلام نے اپنی پوری زندگی، حتیٰ شہادت کے لمحہ تک کبھی لذیذ کھانوں کو نہیں چکھا۔ ان کی آخری افطاری بھی صرف نان اور نمک سے ہوئی۔
جب جناب ام کلثوم، آپ علیہالسلام کی بیٹی، ایک کاسہ دودھ لے کر آئیں تو آپ علیہالسلام نے فرمایا کہ اسے واپس لے جاؤ۔ اسی وقت آپ علیہالسلام نے یتیموں کو بلایا اور انہیں شہد کھلایا، یہاں تک کہ بعض اصحاب نے حسرت سے کہا: کاش ہم بھی یتیم ہوتے![۶]
امیرالمومنین علیہالسلام وہ ہستی تھے جنہوں نے دنیا کو طلاق دے دی تھی۔ اگرچہ ان کے دور میں بلاد شام کے علاوہ تمام اسلامی سرزمینوں سے جزیہ و مال ان کے پاس آتا تھا، مگر وہ ان سب اموال کو فقراء و محتاجوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اور اپنے لیے کچھ نہ رکھتے تھے۔[۷]
مآخذ
[۱] ۔ مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، محمد بن طلحه شافعی: ص۱۸۴
[۲] ۔ الغارات، ابراهيم ثقفی كوفی: ج۱، ص۹۹
[۳] ۔ ذخائر العقبى، محمد طبری: ص۱۸
[۴] ۔ ينابيع الموده، قندوزی: ج۱، ص۴۵۲
[۵] ۔ بحار الانوار، علامه المجلسی: ج۱۶، ص۲۲۷
[۵] ۔ كشف الغمه، اربلی: ص۲۴
[۷] ۔ شرح نهج البلاغه، ابن ابیالحديد: ج ۱، ص ۲۶