رمضان المبارک میں احادیثِ علوی کے عنوان سے ہر روز خصوصی طور پر امیرِ بیان، حضرت امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کا بلیغ اور نورانی کلام پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ہدایت افروز اور گوہر بار الفاظ ہمارے دلوں کو منور کریں اور ہمیں عبادت و بندگی کے اس بابرکت مہینے سے زیادہ سے زیادہ فیض حاصل کرنے کا موقع ملے۔
پچیسویں دن کی حدیث
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے فرمایا:
اُنْظُرْ أَنْ لا تَكُونَ بِاللَّيْلِ نَائِماً وَ بِالنَّهَارِ غَافِلاً، فَيَنْقَضِيَ شَهْرُكَ وَ قَدْ بَقِيَ عَلَيْكَ وِزْرُكَ، فَتَكُونَ عِنْدَ اسْتِيفَاءِ الصَّائِمِينَ أُجُورَهُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ، وَ عِنْدَ فَوْزِهِمْ بِكَرَامَةِ مَلِيكِهِمْ مِنَ الْمَحْرُومِينَ، وَ عِنْدَ سَعَادَتِهِمْ بِمُجَاوَرَةِ رَبِّهِمْ مِنَ الْمَطْرُودِينَ
(اے روزہ دار!) ہوشیار رہ کہیں ایسا نہ ہو تیری راتیں نیند میں گزر جائیں اور دن غلفت میں بسر ہو جائیں، رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہو جائے مگر تیرے گناہوں کا بوجھ تیرے دوش پر باقی رہ جائے۔
ایسا نہ ہو جب روزہ دار اپنا اجر و ثواب حاصل کر رہے ہوں تو تُو خسارہ میں رہ جانے والوں میں سے ہو اور جب وہ اپنے پروردگار کی کرامت سے بہرہمند ہوں تو تیرا شمار محروموں میں ہو اور جب وہ اپنے رب کی ہمنشینی سے سرفراز ہوں تو تُو دور کردہ اور ٹھکرایا ہوا قرار پائے۔
فضائلُ الأشهرِ الثلاثة، شیخ صدوق، صفحہ 108