سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

تیسرے بین الاقوامی ورثہ کانفرنس

تیسرے بین الاقوامی ورثہ کانفرنس کی علمی کمیٹی کا پہلا اجلاس

تیسرے بین الاقوامی ورثہ کانفرنس کی ذمہ دار علمی کمیٹی نے اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس میں چودہویں صدی ہجری کے پہلے نصف کے ممتاز دینی شخصیات کے انتخاب پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

تیسرے بین الاقوامی ورثہ کانفرنس میں ان شخصیات کی علمی و فکری سیرت کا جائزہ لینے، ان کی ثقافتی سرگرمیوں اور تحقیقی تصانیف سے استفادہ کرنے اور ان کے علمی و فکری ورثے کو اجاگر کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ یہ اجلاس حرم مقدس امیرالمومنین علیہ السلام کے شعبۂ فکری و ثقافتی امور کے اجلاس ہال میں منعقد ہوا۔

شعبۂ فکری و ثقافتی امور سے وابستہ مجمع علوی برائے تحقیقات و اسلامی مطالعات کے سربراہ شیخ سلام الناصری نے نیوز سینٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

’’اس کانفرنس میں مکتبِ تشیع کی ممتاز علمی شخصیات کی زندگی اور علمی خدمات کو اجاگر کیا جائے گا اور ان کے علمی سفر سے رہنمائی حاصل کی جائے گی۔ اس سلسلے میں چودہویں صدی ہجری کے پہلے نصف سے تعلق رکھنے والے متعدد علماء کا انتخاب کیا گیا ہے، جن میں آخوند خراسانی رضوان اللہ علیہ سے لے کر سید ابوالحسن اصفہانی قدس سرہٗ تک کی شخصیات شامل ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’یہ کانفرنس آئندہ سال اپریل کے وسط میں منعقد ہوگی، جو عالمی یومِ ورثہ کے ساتھ مصادف ہوگا۔ کانفرنس کا عنوان ’’فقہائے نجف اشرف نصف صدی میں (۱۳۲۹ھ–۱۳۶۵ھ): علمی سفر، فقہی منہج اور تہذیبی اثرات‘‘ رکھا گیا ہے، جبکہ اس کا شعار ’’نجف اشرف فقہ کا گہوارہ اور علمی ورثے کا امین‘‘ ہوگا۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کانفرنس کو عالمی تنظیم میں حرم مقدس امیرالمومنین علیہ السلام کی سالانہ سرگرمی کے طور پر شامل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ علمی کمیٹی نے تحقیقی مقالات کے خلاصے وصول کرنے کی آخری تاریخ ۳ جنوری ۲۰۲۷ء مقرر کی ہے اور اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم یونیسکو کو بھی مطلع کیا گیا ہے۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے