سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

AlEmran8

ہدایتِ الٰہی، ولایتِ امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) کے سائے میں ہی ممکن ہے

سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر ۸، جس کا تذکرہ "زیارتِ غدیریہ" کے ایک مقتدر فراز (حصے) میں بھی آیا ہے، ہدایتِ الٰہی پر ثابت قدم رہنے اور بارگاہِ خداوندی سے رحمتِ خاص کے حصول کے لیے اہلِ ایمان کی مخلصانہ دعا ہے۔ مفسرینِ کرام نے اس آیتِ مبارکہ کو حضرت امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) اور اہلِ بیتِ اطہار (علیہمالسلام) کے ملکوتی مقام و مرتبے سے وابستہ تعبیر کیا ہے۔

سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر ۸ میں مذکور مفهومِ «ہدایت»، ولایتِ علوی اور امامتِ اہلِ بیت سے گہرا اور ناگزیر پیوند رکھتا ہے۔ متعدد روایاتِ اسلامی کی روشنی میں، پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کے بعد حقیقی رہنمائی اور صراطِ مستقیم پر استقامت صرف اور صرف حضرت امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) اور ائمۂ طاہرین کی ولایت و امامت سے متمسک ہونے کے ذریعے ہی ممکن و میسر ہے۔

سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر ۸

«رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ»

"اے ہمارے پروردگار! جب تو نے ہمیں ہدایت عطا فرما دی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی (انحراف) پیدا نہ ہونے دے، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت خاص عنایت فرما؛ یقیناً تو ہی بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے۔”

حضرت امام علی نقی‌الہادی (علیہ‌السلام) کی روایت کے مطابق "زیارتِ غدیریہ” میں یہ آیات حضرت امیر‌المؤمنین (علیہالسلام) کے بلند و بالا مقام و مرتبہ کی یاد دہانی کراتی ہیں۔

"زیارتِ غدیریہ” کے ایک فراز (حصے) میں آیا ہے:

"پس جو کچھ اللہ نے آپ کے بارے میں اپنے نبی پر نازل فرمایا تھا، اس پر سوائے ایک قلیل جماعت کے کوئی ایمان نہ لایا، اور کثیر لوگوں کے لیے (اس حکم نے) سوائے خسارے کے کچھ نہ بڑھایا؛ اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی تھی جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے: ‘(یہ سچے مؤمنین بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے ہیں) اے ہمارے پروردگار! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد گمراہی کی طرف مائل نہ کرنا اور ہمیں اپنی بارگاہ سے خصوصی رحمت عطا فرما؛ بے شک تو ہی سب سے بڑا بخشنے والا ہے۔’ (آلِ عمران/۸)”

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے