سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۲۵ کو مدنظر رکھتے ہوئے، کثیر مفسرینِ کرام نے اسلام کی حفاظت میں حضرت امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے کلیدی کردار اور پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے عہدِ مبارک کے معرکوں میں آپ کی مؤثر و بے مثل شرکت کی طرف واضح اشارے کیے ہیں۔ بالخصوص جنگِ احزاب (خندق) میں، عمرو بن عبدود کے ساتھ نبرد آزمائی میں امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کا کردار ایک عظیم ہیرو کا تھا اور آپ کی یہ شجاعت اس تاریخی واقعے کا سب سے بڑا نقطۂ عطف ثابت ہوئی۔
سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۲۵
«وَرَدَّ اللهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْراً وَكَفَى اللهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللهُ قَوِيّاً عَزِيزاً»
"اور اللہ نے کافروں کو ان کے غیظ و غضب کے ساتھ ہی لوٹا دیا کہ وہ کوئی فائدہ (یا کامیابی) حاصل نہ کر سکے؛ اور اللہ نے مؤمنین کو جنگ کی مشقت سے بچا لیا (کفایت کی)؛ اور اللہ ہمیشہ سے نہایت طاقتور، سب پر غالب ہے۔”
حضرت امام علی نقیالہادی (علیہالسلام) کی روایت کے مطابق "زیارتِ غدیریہ” میں یہ آیات حضرت امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے بلند و بالا مقام و مرتبہ کی یاد دہانی کراتی ہیں۔
"زیارتِ غدیریہ” کے ایک مقتدر فراز (حصے) میں آیا ہے:
"پس آپ ہی نے ان کے سب سے بڑے سورما عمرو (بن عبدود) کو واصلِ جہنم کیا اور ان کے لشکر کو فرار پر مجبور کر دیا؛ اور اللہ نے کافروں کو (جو جنگِ خندق میں شریک تھے) اس حال میں واپس لوٹا دیا کہ وہ اپنے دلوں میں بھڑکتے ہوئے غیظ و غضب کے باوجود کسی خیر (فتح یا مالِ غنیمت) کو حاصل نہ کر سکے، اور اللہ نے مؤمنین کو جنگ کی سختی اور مشقت سے نجات دلائی؛ اور اللہ ہمیشہ سے صاحبِ اقتدار اور شکست ناپذیر قوت کا مالک ہے۔”
بعض مفسرین نے سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۲۵ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جو کہ قرآنِ کریم کی آیاتِ علوی میں سے ہے، جنگِ احزاب میں امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے شجاعانہ اقدام کو ایک تمثیلی و ملکوتی انداز میں بھی تعبیر کیا ہے اور اسے الٰہی نصرت و تائید کا وہ جلوہ مانا ہے جس کا تذکرہ اس آیتِ مبارکہ میں ہوا ہے۔
نامور شیعی راوی اور مفسر علی بن ابراہیم (قمی) نے سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۲۵ کے شانِ نزول کی تفسیر میں فرمایا ہے:
"فرمانِ الٰہی: ‘وَرَدَّ اللهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْراً وَكَفَى اللهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ’؛ سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنین کو جنگ کی مشقت سے بچا لیا، یعنی علی بن ابیطالب (علیہالسلام) کی بازوئے شجاعت اور طاقت کے ذریعے۔”[۱]
حضرت امام حسن عسکری (علیہالسلام) نے سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۲۵ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولائے متقیان کی بارگاہ میں یوں عرض کیا:
"سلام ہو آپ پر اے امیرالمؤمنین (علیہالسلام)! آپ ایک آشکار منزلت اور نامدار مقاماتِ عالیہ کے مالک ہیں اور تاریخ کے تقدیر ساز ایام آپ کے نام سے رقم ہوئے ہیں۔ ان ایام میں بدر اور احزاب جیسے عظیم الشان دن شامل ہیں؛ وہ دن جب آپ نے عمرو (بن عبدود) کو قتل کیا اور دشمن کی صفوں کو درہم برہم کر دیا۔ اور اللہ نے کافروں کو ان کے غیظ اور ناکامی کے ساتھ لوٹا دیا، بغیر اس کے کہ وہ کوئی دستاورد (کامیابی) حاصل کر پاتے۔ اس طرح، اللہ نے مؤمنین کو معرکے کی طوالت سے بے نیاز فرما دیا اور فتح ان کا مقدر کی؛ کیونکہ وہ بے پناہ توانا اور سب پر غالب ہے۔”[۲]
حضرت امام جعفر صادق (علیہالسلام) عیدِ غدیر کے دن مولائے متقیان کے مزارِ اقدس پر حاضر ہوئے اور یوں سلام عرض کیا:
"سلام ہو آپ پر اے وہ ذاتِ گرامی! جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے روزِ احزاب مؤمنین کو جنگ کی ہلاکت و مشقت سے محفوظ فرما لیا۔”[۳]
مآخذ
[۱] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۲، ص۱۲۸ القمی، ج۲، ص۱۸۹/ البرهان/ بحار الانوار، ج۲۰، ص۲۳۳/ بحار الانوار، ج۴۱، ص۸۷/ المناقب، ج۳، ص۱۳۴/ نورالثقلین
[۲] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۲، ص۱۲۸ بحار الانوار، ج۹۷، ص۳۶۴
[۳] تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۱۲، ص۱۲۸ بحار الانوار، ج۹۷، ص۳۷۳