رسول صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا زمین پر چلنا کیوں حرام ہے؟ فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ (عبس ۲۴) اب سمجھ میں آیا مبغضِ سیدہ سلام اللہ علیہا کا پورا وجود حرام ہے
(روضة الواعظین، ج۱، ص۱۴۶)
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایااللہ نے آسمانوں میں سیدہ کا مہر زمین کا پانچواں حصہ رکھا جو سیدہ اور ان کی اولاد کا بغض لے کر اِس زمین پہ چلے اُس کا چلنا حرام ہے زمین پر چلنا کیوں حرام ہے؟جو چیز سیدہ سلام اللہ علیہا کی ملکیت ہوگی اُس میں تصرف کرنا اُس شخص کے لیے جو سیدہ کا دشمن ہے حرام ہے فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ (عبس ۲۴) قرآن کی آیت ہے انسان کو دیکھنا چاہیے وہ کیا کھا پی رہا ہے یہی غذا اور یہی پانی گوشت، خون اور ہڈیاں بنائے گی سیدہ کا دشمن جب اِس دنیا میں آیا پانی حرام، کھانا بھی حرام کا کھایا ہوا بھی حرام تو ہڈیاں، گوشت و خون بھی حرام اب سمجھ میں آیا مبغضِ سیدہ سلام اللہ علیہا کا پورا وجود حرام ہے
(روضة الواعظین، ج۱، ص۱۴۶)