کائناتِ ہستی میں بعض خطے مشیتِ الٰہی کے تحت اور ولایت امیرالمومنین علیہالسلام میں سبقت لینے کی وجہ سے، خاص روحانی تشخص اور معنوی وقار کے حامل ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک سرِ فہرست سرزمین "قم” ہے، جسے خاندانِ عصمت و طہارت علیہمالسلام نے نہ صرف محبوب جانا بلکہ اسے اپنی پناہ گاہ اور مرکزِ ہدایت قرار دیا۔ اس ارضِ مقدس کی فضیلت کا ادراک امیرالمؤمنین علیہالسلام کے ان کلماتِ قدسیہ سے ہوتا ہے جو علم و حکمت کے لافانی خزینے ہیں۔
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے اس شہر کو «تُسَمَّی الزَّهْرَاءَ» کے بصیرت افروز عنوان سے یاد فرمایا (بحار الأنوار، ج 57، ص 217)۔ یہ تسمیہ اس سرزمین کی باطنی طہارت اور اس نورانیت کی طرف اشارہ ہے جو اسے دیگر بلاد سے ممتاز کرتی ہے۔ آپ علیہالسلام کی نگاہِ ولایت میں یہ شہر، بارانِ رحمت کا دائمی مسکن ہے، چنانچہ آپ علیہالسلام نے دعا فرمائی: «صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَىٰ أَهْلِ قُمَّ» اہلِ قم پر خدا کا درود ہو اور «سَقَى اللَّهُ بِلاَدَهُمُ الْغَيْثَ» خدا ان کے شہر کو بارانِ رحمت سے سیراب کرے (بحار الأنوار، ج 57، ص 218)۔ یہ کلمات اس خطے پر نازل ہونے والے الٰہی فیوضات کی ضمانت ہیں۔
فتنوں کے پرآشوب ادوار میں جب انسانیت جائے پناہ کی تلاش میں ہوگی، امیرالمؤمنین علیہالسلام نے قم کو امن کا گہوارہ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: «أَسْلَمُ الْمَوَاضِعِ يَوْمَئِذٍ قَصَبَةُ قُمَّ»، یعنی اس دور میں قم محفوظ ترین مقام ہوگا (بحار الأنوار، ج 57، ص 220)۔ یہ صرف ایک جائے پناہ نہیں بلکہ نصرتِ حق کا مرکز بھی ہے، کیونکہ اسی خاکِ پاک سے «يَخْرُجُ مِنْهَا أَنْصَارُ خَيْرِ النَّاسِ» بہترینِ خلق (امام زمانہ عج اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے انصار و مددگار یہاں سے ظاہر ہوں گے (بحار الأنوار، ج 57، ص 220)۔
اس سرزمین کی قدسیت کا عالم یہ ہے کہ اسے مقامِ ملائک قرار دیا گیا۔ امیرالمؤمنین علیہالسلام کے فرمان کے مطابق: «بِهَا مَوْضِعُ قَدَمِ جَبْرَئِيلَ» یہاں جبرئیل علیہالسلام کے قدموں کا نشان ہے اور یہاں ایک ایسا چشمہ جاری ہے جس کا پانی پینے والا ہر مرض سے امان پا جاتا ہے: «نَبَعَ مِنْهُ الْمَاءُ الَّذِي مَنْ شَرِبَ مِنْهُ أَمِنَ مِنَ الدَّاءِ» (بحار الأنوار، ج 57، ص 223)۔
علاوہ ازیں، امیرالمؤمنین علیہالسلام نے قم کو انبیائے سابقین کے معجزات اور آثار کا امین قرار دیا۔ آپ علیہالسلام نے خبر دی کہ اسی خاک سے وہ مٹی گوندھی گئی جس سے معجزہ نما پرندہ تخلیق ہوا «عُجِنَ الطِّينُ الَّذِي عُمِلَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ»، اور یہ وہی مقام ہے جہاں سے قربانیِ خلیل کا دنبہ «كَبْشُ إِبْرَاهِيمَ»، عصائے موسیٰ «عَصَا مُوسَىٰ» اور انگشتریِ سلیمان «خَاتَمُ سُلَيْمَانَ» ظاہر ہوں گے (بحار الأنوار، ج 57، ص 228)۔
پس ثابت ہوا کہ شہرِ مقدس قم امیرالمؤمنین علیہالسلام کے کلام میں معجزاتِ الٰہی کا خزینہ اور فتنوں کے حصار میں ایک الٰہی پناہ گاہ ہے جو تاریخ کے ہر موڑ پر اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ اور حصنِ حصین ہے اور حق و باطل کے معرکے میں نصرتِ الٰہی کا مضبوط ترین قلعہ ہے۔

