سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی دوسری عمارت کی تعمیر کا ماجرا

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام تقریباً ایک صدی تک مخفی رہنے کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام کے ذریعے آشکار ہوا۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں اس مقدس مقام پر متعدد عمارتیں تعمیر کی گئیں۔

مرقد مطہر حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی دوسری عمارت موصل کے والی امیر ابوالہیجاء عبداللہ بن حمدان الحمدانی کے حکم سے چوتھی صدی ہجری کے اوائل میں خلیفۂ عباسی المقتدر باللہ (۲۹۵–۳۱۷ھ) کے زمانے میں تعمیر کی گئی۔

ڈاکٹر صلاح فرطوسی کا احتمال ہے کہ اس عمارت کی تعمیر ۳۱۱ھ میں ہوئی۔ وہ لکھتے ہیں:کسی بھی محقق کو اس عمارت کی درست تاریخ تعمیر معلوم نہیں ہو سکی، تاہم میرے نزدیک غالب امکان یہی ہے کہ اس کی تعمیر کا حکم ۳۱۱ھ میں صادر ہوا، کیونکہ اسی سال ابوالہیجاء کو خلیفہ کی جانب سے حج کی نیابت کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

غالباً وہ اپنے سفر کے دوران کوفہ میں بھی رکے ہوں گے — جیسا کہ عراقی حجاج کا معمول تھا — جہاں انہوں نے حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مرقد مطہر کی زیارت کی ہوگی، اس مقام پر ایک عمارت کی تعمیر کا حکم یا ہوگا اور پھر حج کے لیے روانہ ہوئے ہوں گے۔

چار کونوں والا گنبد

مشہور جغرافیہ دان ابن حوقل (متوفی ۳۸۰ھ) لکھتے ہیں:ابوالہیجاء عبداللہ بن حمدان نے اس مقام کو شہرت بخشی اور اس کے گرد ایک مضبوط حصار تعمیر کروایا۔ انہوں نے قبر مبارک پر ایک عظیم و بلند چارگوشہ گنبد تعمیر کیا جس کے متعدد دروازے تھے، اس گنبد کو نفیس پردوں سے آراستہ کیا گیا اور اس کے فرش کو بہترین قالینوں سے مزین کیا گیا۔ اس گنبد کے باہر ان کی اولاد اور آل ابی طالب کے متعدد اکابرین کو دفن کیا گیا، اور اس بڑے حصار کے گرد و نواح کی زمین کو آل ابی طالب کے قبرستان کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔

یہ حصار دراصل اس نوآباد شہر کی پہلی فصیل تھا جو حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کے گرد آباد ہونا شروع ہوا تھا۔ یہ فصیل اسی طرح شہر کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی جیسے کڑا کلائی کو گھیر لیتا ہے۔ تاریخی متون کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں شہر کے اندر اور اس کی فصیلوں کے ساتھ ساتھ تدفین کا رواج تھا۔

جغرافیہ دان ادریسی (متوفی ۵۵۹ھ) لکھتے ہیں:کوفہ سے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بلند و باشکوہ چارگوشہ گنبد دکھائی دیتا ہے۔ اس گنبد کے ہر سمت دروازے ہیں جو بند رہتے ہیں اور نفیس و خوبصورت پردوں سے مزین ہیں۔ اس کا فرش عمدہ قالینوں سے آراستہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں علی بن ابی طالب کا مزار ہے اور گنبد کے اطراف آل ابی طالب کی قبریں واقع ہیں۔ یہ گنبد عباسی دور میں ابوالہیجاء عبداللہ بن حمدان نے تعمیر کروایا تھا جبکہ اس سے پہلے بنو امیہ کے زمانے میں یہ مقام پوشیدہ تھا۔

ابن وردی (متوفی ۸۵۲ یا ۸۶۱ھ) کوفہ کے بارے میں لکھتے ہیں:کوفہ میں ایک عظیم گنبد موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں علی بن ابی طالب کا مزار ہے اور اس کے اطراف آل علی کی قبریں ہیں۔ یہ گنبد عباسی دور میں ابوالعباس عبداللہ بن حمدان کے حکم سے تعمیر کیا گیا تھا۔

شیخ جعفر محبوبہ نے بھی شیخ علی آل کاشف الغطاء کے مخطوطے سمیر حاضر و أنیس مسافر سے نقل کیا ہے:آل حمدان اپنے مرحومین کو شام، حلب، دیار بکر، موصل، فارس اور عراق کے مختلف علاقوں سے نجف منتقل کرتے تھے اور اپنی قیمتی نذرانے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مرقد پر پیش کرتے تھے۔ ان میں خالص سونے اور چاندی کے چراغ، جواہرات سے آراستہ تلواریں اور بادشاہوں، مردوں، عورتوں، بیٹیوں اور ان کی اولاد کی جانب سے پیش کی جانے والی بیش قیمت اشیا شامل تھیں، جو اس کتاب کی تالیف کے زمانے تک خزانۂ علوی میں محفوظ تھیں۔

کتاب تاریخ المرقد العلوی المطہر سے ماخوذ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے