عمر بن یحییٰ علوی نے حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کے لیے ایک نئی عمارت اور ایک بلند و نمایاں گنبد تعمیر کروایا، اس شخصیت کا ایک عظیم کارنامہ یہ بھی تھا کہ انہوں نے حجر اسود کو قرامطہ کے قبضے سے واپس لا کر دوبارہ اس کے اصل مقام کعبے میں نصب کروایا۔ قرامطہ دراصل فرقۂ اسماعیلیہ سے تعلق رکھتے تھے۔
حجر اسود کی واپسی اور حرم کی نئی تعمیر
سید جعفر بحرالعلوم اس عمارت کے بارے میں لکھتے ہیں:یہ عمارت سید جلیل سید ابوالعلی عمر کے ہاتھوں تعمیر ہوئی، وہی بزرگ جن کے ذریعے خداوند نے حجر اسود کو واپس لوٹایا، اس کے بعد کہ فرقۂ اسماعیلیہ نے ۳۱۷ھ میں مکہ پر حملہ کر کے حجر اسود کو لے جا کر کوفہ منتقل کر دیا تھا اور اسے مسجد کے ساتویں ستون پر لٹکا دیا تھا۔
اس واقعے کی تفصیل طویل ہے۔ اس جلیل القدر سید نے ۳۳۹ھ میں حجر اسود کو اس کے اصل مقام پر واپس پہنچایا، جب کہ وہ تقریباً ۲۲ سال تک ان کے قبضے میں رہا۔
اسی محترم سید نے اپنے جد امجد حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے گنبد کی تعمیر اپنے ذاتی خرچ سے کروائی۔ وہ حسین ذی الدمعة کی نسل سے تھے اور ان کا نسب اس طرح بیان کیا جاتا ہے:ابوالعلی عمر بن یحییٰ، حاکم کوفہ، بن حسین نقیب طاہر، بن ابوعاتقہ احمد — جو شاعر اور محدث تھے — بن ابوالعلی عمر بن ابوالحسین یحییٰ، جو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے اور ۲۵۰ھ میں شہید ہوئے۔ ان کا سر ایک کھجور کے پتوں کی ٹوکری میں رکھ کر مستعین بن ابی عبداللہ زاہد اور حسین ذی الدمعة کے پاس لایا گیا تھا۔ حسین ذی الدمعة وہ شخصیت تھے جنہیں امام جعفر صادق علیہ السلام نے تربیت دی اور علم و معرفت سے آراستہ فرمایا۔
شیخ محمد حسین حرزالدین بھی نقیب طالبیین سید عمر علوی کے بارے میں لکھتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے انہیں دو عظیم امتیازات سے سرفراز فرمایا:اول یہ کہ انہوں نے اپنے جد بزرگوار امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مزار کے گنبد کی تعمیر اپنے ذاتی مال سے کروائی، اور دوم یہ کہ انہوں نے حجر اسود کو اس کے اصل مقام تک واپس پہنچایا۔
۳۳۹ھ میں سید ابوالعلی عمر بن یحییٰ علوی نے خلیفہ مطیع للہ اور فرقۂ اسماعیلیہ کے درمیان ثالثی کی اور حجر اسود کو واپس حاصل کیا۔ پہلے اسے کوفہ لایا گیا اور مسجد کے ساتویں ستون پر لٹکایا گیا، تاکہ بعد ازاں اسے بیت اللہ منتقل کیا جا سکے۔ یہ واقعہ اس روایت کی بھی تصدیق کرتا ہے جو حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ حجر اسود چوری کیا جائے گا اور ساتویں ستون پر لٹکایا جائے گا۔
کتاب تاریخ المرقد العلوی المطہر سے ماخوذ
