سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

ڈاکومنٹری

شب محیا کی مخصوص ڈاکومنٹری

مشہور سیاح کی نجف اشرف میں ایک خاص شب کی روحانی تجربہ پر مبنی خصوصی ڈاکومنٹری شب محیا۔

یہ منفرد ڈاکومنٹری، اہل سنت کے معروف سیاح ابن بطوطہ کے نجف اشرف کے سفر اور وہاں شب محیا یعنی رجب المرجب کی ستائیسویں شب کو حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام میں پیش آنے والے اپنے روحانی تجربے کو نہایت دلنشین انداز میں پیش کرتا ہے، یہ وہی شب ہے جو سرور کائنات حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفیٰ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی بعثت کی رات ہے اور ابن بطوطہ کی یہ روایت اسی شب میں مولائے متقیان کی کرامات پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔

سفرنامہ ابن بطوطہ اس مشہور مسلمان سیاح کے تیس سالہ مسلسل سفر کا ثمرہ ہے، جس میں انھوں نے آج کے دور کے تقریباً 44 ممالک کی سیاحت کی، یہ وہی ابن بطوطہ ہیں جو مارکو پولو کے زمانے میں زندہ تھے، مگر سفر انھوں نے مارکو پولو سے تین گنا زیادہ کیے!

ابن بطوطہ، جو تاریخ کے نامور سیاحوں میں شمار ہوتے ہیں، انھوں نے 727 ہجری میں پہلی بار شہر نجف میں قدم رکھا۔ وہ نجف کو نہایت خوبصورت، بہترین اور عراق کے سب سے زیادہ گنجان آباد شہروں میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔

لیکن اس سنی مذہب سیاح کے نجف کے سفر کا سب سے حیرت انگیز حصہ، رجب کی ستائیسویں شب یعنی شب محیا کا واقعہ ہے، جسے وہ اپنے سفرنامے میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

نجف کے تمام لوگ رافضی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور اس روضہ مبارک سے کرامات ظاہر ہوتی رہتی ہیں، ان کرامات میں سے ایک یہ ہے کہ رجب کی ستائیسویں شب، جسے لیلۃ المحیا کہا جاتا ہے، عراق، خراسان، فارس اور روم سے زمین گیر، فالج زدہ اور اٹھنے بیٹھنے سے عاجز مریضوں کو اس جگہ لایا جاتا ہے، یہاں تک کہ تیس سے چالیس مریض جمع ہو جاتے ہیں۔ مغرب کی نماز کے بعد ان مریضوں کو روضہ مقدس کے روبرو لا کر لٹا دیا جاتا ہے اور لوگ خود نماز، ذکر، تلاوت قرآن اور زیارت میں مشغول ہو جاتے ہیں اور ان مریضوں کے شفایاب ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ جب آدھی رات یا دو تہائی رات گزر جاتی ہے تو یہ سب کے سب مریض صحیح و سلامت ہو کر لا إله إلا الله، محمد رسول الله، علی ولی الله کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ ان کے ہاں بہت مشہور ہے۔

اس مراکشی سیاح کا سفرنامہ تاریخ و تہذیب کا ایک قیمتی خزانہ ہے، جو ماضی کے بہت سے پوشیدہ رازوں کو ہمارے سامنے آشکار کرتا ہے۔ اسی سفرنامے میں نجف اور شب محیا کی یہ حیرت انگیز روایت، ایمان کی قوت اور معجزے کی سچائی پر ایک روشن گواہی بن کر سامنے آتی ہے؛ ایسا معجزہ جو فقط شب بعثت رسول خداصلی‌الله‌علیہ‌وآلہ میں، ان کے برحق جانشین حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کے جوار میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے