مدینہ منورہ میں جنت البقیع ایک اہم قبرستان ہے جہاں اسلام کی بہت سی بڑی اور قابلِ احترام شخصیات دفن ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابتدائی دورِ اسلام کے افراد کی زندگیوں کی یاد باقی ہے، جنھوں نے دین کی خدمت کی اور مختلف مواقع پر اہم کردار ادا کیا۔
محمد بن علی المعروف ابن حنفیہ آپ صدر اسلام کی معروف شخصیات اور امیرالمؤمنین علیہالسلام کے نامور فرزند ہیں۔ آپ قاسطین، مارقین اور ناکثین کے خلاف جنگ میں امیرالمؤمنین علیہالسلام کے ساتھ شریک تھے اور ٨١ ہجری میں وفات پا کر بقیع میں دفن ہوئے۔
عثمان بن مظعون آپ نبی کریم صلیاللهعلیہوآلہ کے جلیل القدر صحابی ہیں اور آپ صلیاللہعلیہوآلہ پر ایمان لانے والے تیرہویں فرد تھے۔ آپ نے دو بار حبشہ کی طرف ہجرت کی اور جنگ بدر میں شریک ہوئے۔ ہجرت کے بائیسویں مہینے میں وفات پائی۔ عثمان بن مظعون پہلے مہاجر تھے جو مدینہ میں وفات پا کر بقیع میں دفن ہوئے.
سعد بن معاذ قبیلہ اوس کے بزرگ اور نبی کریم صلیاللهعلیہوآلہ کے جلیل القدر صحابی تھے۔ جنگ بدر میں انصار کے علم بردار تھے۔ جنگ خندق میں زخمی ہوئے اور شہادت کے قریب پہنچ گئے۔ بالآخر غزوہ بنی قریظہ کے موقعے پر وفات پاگئے۔ نبی کریم صلیاللهعلیہوآلہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انھیں بقیع میں فاطمہ بنت اسد سلاماللہعلیہا کی قبر کے قریب دفن کیا۔
ام البنین سلاماللہعلیہا، امیرالمؤمنین علیہالسلام کی زوجہ تھیں۔ آپ کے چار بیٹے کربلا میں امام حسین علیہالسلام کے ساتھ شہید ہوئے۔ آپ کی وفات مدینہ میں ہوئی اور بقیع میں مدفون ہوئیں۔
حلیمہ سعدیہ، نبی کریم صلیاللہعلیہوآلہ کی رضاعی والدہ تھیں، جو مدینے میں وفات کے بعد بقیع میں دفن ہوئیں۔
عقیل ابن ابی طالب علیہ السلام، آپ امیرالمؤمنین علیہالسلام کے بھائی اور فاطمہ بنت اسد سلاماللہعلیہا کے بیٹے تھے اور حضرت علی علیہالسلام سے بیس سال بڑے تھے۔ اسلام کی اشاعت میں آپ نے بے شمار فداکاریاں کیں اور بڑھاپے میں نابینا ہو گئے۔ واقعہ حرہ سے پہلے، معاویہ کے آخری دور یا یزید کے ابتدائی دور میں وفات پائی اور بقیع میں دفن ہوئے۔
جنت البقیع ان تمام شخصیات کی آخری آرام گاہ ہے۔ ان کی زندگیاں دین کی خدمت اور ثابت قدمی کی مثال ہیں۔
تخریب و بازسازی بقیع به روایت اسناد
