جنت البقیع میں ائمہ اہل بیت علیہمالسلام کی قبور ہیں، جن میں امام حسن مجتبیٰ، امام سجاد، امام محمد باقر اور امام صادق علیہمالسلام شامل ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی اولاد، جیسے ابراہیم، زینب، ام کلثوم اور رقیہ سلاماللہعلیہم کی قبور بھی یہاں موجود ہیں۔ ازواج مطہرات کی قبور بھی اسی قبرستان میں ہیں۔
حضرت فاطمہ بنت اسد سلاماللہعلیہا، جو امیرالمؤمنین علیہالسلام کی والدہ ہیں، ان کی قبر بھی جنت البقیع میں ہے۔ اسی طرح عباس بن عبدالمطلب کی قبر بھی وہیں ہے اور صفیہ اور عاتکہ، جو رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی پھوپھیاں تھیں، یہاں مدفون ہیں۔ حلیمہ سعدیہ، جو رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی رضاعی والدہ تھیں، ان کی قبر بھی اسی مقام پر ہے۔
عقیل بن ابی طالب، جو امیرالمؤمنین علیہالسلام کے بھائی تھے، اور عبداللہ بن جعفر، جو حضرت جعفرطیار علیہالسلام کے بیٹے اور بی بی زینب سلاماللہعلیہا کے شوہر تھے، دونوں کی قبور بھی بقیع میں ہیں۔ سعد بن معاذ اور ابو سعید خدری جیسے جلیل القدر صحابہ بھی یہاں مدفون ہیں۔ امام صادق علیہالسلام کے فرزند اسماعیل کی قبر بھی اسی قبرستان میں ہے۔
بی بی ام البنین سلاماللہعلیہا، علمدار کربلا حضرت عباس علمدار علیہالسلام کی والدۂ ماجدہ بھی بقیع میں مدفون ہیں۔ عثمان بن مظعون اور سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کی قبور بھی اسی مقام پر ہیں۔ جنگ احد اور واقعہ حرہ کے شہدا کی اجتماعی قبور بھی یہاں معین ہیں۔
جنت البقیع میں ائمہ کی اولاد، رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کے اقارب، صحابہ، محدثین، علما، شہدا اور مبلغین کی قبور موجود ہیں۔ یہ مقام اسلامی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔[1]
[1] ۔ بقیع در آینہ تاریخ، ج1، ص17

